بلاول بھٹو کی گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر سے ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
اسلام آباد(آئی این پی) چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر سے ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔رپورٹ کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 28 ویں ترمیم چل پڑی، بہت جلد اسمبلی میں آجائے گی، جیسے 27 ویں ترمیم ملک کے لئے بہترین ثابت ہوگی وہاں 28 ویں ترمیم اس سے بھی اہم ترین ہوگی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سب ایک پیج پر ہیں، لگتا ہے کہ سب 28 ویں ترمیم کے ساتھ بھی کھڑے ہوں گے۔ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو زرداری نے ہدایت کی کہ پنجاب میں بلدیاتی الیکشن کی تیاری کریں، تنظیموں کو ایکٹو کریں۔بلاول بھٹو نے کہا کہ آپ کی کارکردگی سے خوش ہوں، آپ بطور گورنر پنجاب بہترین کام کر رہے ہیں، پنجاب کے بلدیاتی انتخابات میں مضبوط امیدواروں کو تلاش کریں۔
ویڈیو: مریم نواز ہیلتھ کلینک منصوبے عام لوگوں کیلئے کتنا فائدہ مند؟ عوام کیلئے کیا سہولیات موجود؟ عوام کا رد عمل دیکھیے
ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو نے کہا کہ پنجاب میں بیٹھنا شروع کروں گا اور ہر ضلع سے تعلق رکھنے والے رہنماں سے ملاقاتیں کریں گے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: بلاول بھٹو زرداری ویں ترمیم نے کہا کہ
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔