آزاد کشمیر کی حکومت بند کمروں میں بیٹھ کر نہیں چلائیں گے، بلاول بھٹو
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
ایک بار نہیں 2 بار ہمارے مینڈیٹ کو سازش کے تحتچوری کیا ،اب کہہ سکتا ہوں ہم نے کشمیر میں سیاست کو بحال کیا
کشمیر سے پیپلز پارٹی کا 3 نسلوں کا رشتہ ،عوام کو مبارک باد دیتا ہوں،چیئرمین کی حلف برداری کی تقریب سے خطاب
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ ہم بند کمروں میں بیٹھ کر آزاد کشمیر کی حکومت نہیں چلائیں گے،سازش کے تحت پیپلز پارٹی کے مینڈیٹ کو چوری کیا گیا،ایک بار نہیں 2 بار آزاد کشمیر میں ہمارے مینڈیٹ کو چوری کیا گیا،ماضی میں جو فیصلے ہوئے اس سے آزاد کشمیر میں سیاسی خلا پیدا ہوا۔ وزیراعظم آزاد کشمیر کی حلف برداری کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کشمیر کے عوام کو مبارک باد دیتا ہوں، اب کہہ سکتا ہوں کہ ہم نے کشمیر میں سیاست کو بحال کیا،کشمیر سے پیپلز پارٹی کا 3 نسلوں کا رشتہ ہے، ذوالفقار علی بھٹو کے قتل پر مظفرآباد اور سری نگر میں بھی احتجاج ہوا تھا،انہوں نے کہا کہ شہید بینظیر بھٹو نے بتایا تھا جہاں کشمیریوں کا پسینہ گرے گا وہاں ہمارا خون گرے گا، پیپپلز پارٹی کے مینڈیٹ پر ڈاکا ڈال کر بانی پی ٹی آئی کو اقتدار دیا گیا تھا۔ چیٔرمین پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ میں خود انتخابات میں آپ کے پاس آیا تھا، آپ نے اور گلگت بلتستان نے مایوس نہیں کیا، جتنا سیاسی شعور کشمیر میں ہے اتنا کہیں نہیں، کشمیر کے عوام جب سراپا احتجاج تھے تو فیصل راٹھور اس کو بھی دیکھ رہے تھے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ فیصل راٹھور نے عوام سے جو وعدے کیے وہ میرے پاس آپ کی امانت ہیں، فیصل راٹھور کے اختیار میں عوامی مسائل وہ حل کریں، آپ نے عوام سے کیے وعدے پورا کرنے ہیں،ان کا کہنا تھا کہ جب آپ کا نمائندہ آپ کی نمائندگی نہیں کرسکتا تو عوام کو خود جدوجہد کرنا پڑتی ہے، اب مظفرآباد میں آپ کا نمائندہ فیصل راٹھور ہے،انہوں نے کہا کہ بھارت سے جنگ کے بعد پاکستان کا اسٹینڈرڈ سب کے سامنے ہے۔ بھارت منہ چھپا رہا ہے دنیا سے، بھارت کس سے بات کرے گا، امریکا سے لے دیگر ممالک انہیں یاد دلائیں گے 7 جہاز گرے تھے، بھارت پاکستان اور کشمیر کا جو بھائی چارہ ہے اسے نقصان پہنچاتا ہے۔ چیٔرمین پیپلز پارٹی کا یہ بھی کہنا ہے کہ مودی اپنا منہ دنیا سے چھپا رہا ہے، دنیا کا کوئی فورم ہو بھارت وہاں سے بھاگ رہا ہے، مودی سرکار کو بتانا چاہتا ہوں کہ آپ جنگیں بھی ہارے اور اب سازش بھی ہارو گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی کا فیصل راٹھور بلاول بھٹو نے کہا کہ
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔