’پامال‘ کی حالیہ قسط میں میاں بیوی کے بولڈ منظر پر ناظرین کی شدید تنقید
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
کراچی (نیوزڈیسک)ڈراما سیریل ’پامال‘ کی حالیہ قسط میں شوہر اور بیوی کے درمیان دکھائے گئے بولڈ منظر پر ناظرین کی جانب سے شدید تنقید کی جارہی ہے۔
ڈراما سیریل ’پامال‘ ان دنوں گرین انٹرٹینمنٹ پر نشر کیا جارہا ہے، جو شوہر اور بیوی کے درمیان دکھائے گئے تعلقات کی وجہ سے ناظرین میں خاصی توجہ حاصل کر رہا ہے۔
زنجبیل عاصم شاہ کے تحریر کردہ اس ڈرامے کی ہدایتکاری خضر ادریس نے کی ہے، جب کہ پروڈیوسر تحریم چوہدری ہیں، اس کی کاسٹ میں صبا قمر، عثمان مختار، حارث وحید اور سلمیٰ عاصم شامل ہیں۔
’پامال‘ کی کہانی ایک مصنفہ ملیکہ کے گرد گھومتی ہے، جس نے شادی سے پہلے اور بعد میں ایک مشکل زندگی گزاری، والد کے بغیر پرورش پانے والی ملیکہ بچپن سے شادی شدہ زندگی کو ایک پریوں کی کہانی سمجھتی ہے، مگر رضا سے شادی کے بعد اس کے خواب چکناچور ہوجاتے ہیں کیونکہ رضا اس کی توقعات پر پورا نہیں اترتا۔
ڈرامے میں یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ رضا اپنی بیوی پر شک کرتا ہے اور اس پر پابندیاں لگاتا ہے۔
اب تک ’پامال‘ کی بارہ اقساط نشر ہوچکی ہیں، جب کہ حالیہ قسط میں جھگڑے کے بعد رضا اور ملیکہ کی ہسپتال میں دوبارہ ملاقات دکھائی گئی ہے۔
کہانی کے ایک منظر میں دکھایا گیا ہے کہ ملیکہ، رضا کی حالت کے بارے میں جان کر ہسپتال پہنچتی ہے اور شوہر کو دیکھ کر اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ پاتی اور اسے گلے لگا لیتی ہے۔
یہ منظر گرین انٹرٹینمنٹ نے بغیر کسی سینسرشپ کے نشر کیا، جس کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔
کئی صارفین نے اداکاروں اور چینل دونوں کو بولڈ مناظر دکھانے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔