سرینگر دھماکے میں بہت سے سوالات لا جواب ہیں اسلئے مکمل تحقیقات کی ضرورت ہے، محبوبہ مفتی
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
پی ڈی پی کی صدر نے پوچھا کہ تقریباً 3000 کلو گرام امونیم نائٹریٹ یہاں کیوں لایا گیا، اسے رہائشی علاقے سے گھرے پولیس اسٹیشن میں کیوں رکھا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ وادی کشمیر میں بھارتی ایجنسیوں کی طرف سے "وائٹ کالر" دہشت گردانہ سازش کیس کے سلسلے میں بڑے پیمانے پر چھاپوں کے درمیان، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے کہا کہ عام لوگوں کو اجتماعی طور پر کسی اور کی غلطی کی سزا نہیں ملنی چاہیئے۔ انہوں نے نوگام پولیس اسٹیشن میں حادثاتی دھماکے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے سے متعلق بہت سے سوالات ابھی تک جواب طلب ہیں۔ وادی کشمیر کے شمالی ضلع کپواڑہ میں جمعہ کو نوگام دھماکے میں مارے گئے پولیس انسپکٹر شاہ اسرار کے اہل خانہ سے ملاقات کے بعد محبوبہ مفتی نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ آنے والا وقت کشمیر کے لئے خوفناک ہو سکتا ہے۔
جموں و کشمیر کے لوگوں کو دہلی (لال قلعہ دھماکے) میں کسی کی غلطی کی اجتماعی سزا نہیں دی جانی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی قصوروار ہے تو اسے سزا ملنی چاہیئے، لیکن عام کشمیریوں کے ساتھ سختی سے پیش نہیں آنا چاہیئے۔ پی ڈی پی کی صدر نے ریاستی تحقیقاتی ایجنسی (ایس آئی اے) کے انسپکٹر اسرار کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نوگام جیسا واقعہ نہیں ہونا چاہیئے تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے میں لوگ، خاص طور پر پولیس اہلکار اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، کشمیر اس وقت بے چینی اور خوف کے ماحول کا سامنا کر رہا ہے۔ ماہرین کو امونیم نائٹریٹ کو سنبھالنے کے لئے ذمہ دار ہونا چاہیئے تھا، اسے پولیس والوں یا عام شہریوں کے ذریعے سنبھالنا خطرناک تھا۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ جانیں گنوانے والوں کے چھوٹے بچے ہیں اور پورا کشمیر ان کے غم میں ان کے ساتھ کھڑا ہے۔ نوگام دھماکے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بہت سے سنگین سوالات کے جوابات ملنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ تقریباً 3000 کلو گرام امونیم نائٹریٹ یہاں کیوں لایا گیا، اسے رہائشی علاقے سے گھرے پولیس اسٹیشن میں کیوں رکھا گیا۔ محبوبہ مفتی نے یہ بھی سوال کیا کہ جب نائب تحصیلدار یا پولیس والوں کو اس سے نمٹنے کا کوئی تجربہ نہیں تھا تو انہیں اس سے نمٹنے کی ذمہ داری کیوں دی گئی۔ محبوبہ مفتی نے حکومت سے متاثرہ خاندانوں کا خصوصی خیال رکھنے کی اپیل کی اور اس واقعہ میں جان گنوانے والوں کے لیے اعلیٰ ترین بہادری ایوارڈ کا مطالبہ کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: محبوبہ مفتی نے نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔