ہم بند کمروں میں بیٹھ کر آزاد کشمیر کی حکومت نہیں چلائیں گے: بلاول بھٹو زرداری
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
’جیو نیوز‘ گریب
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ ہم بند کمروں میں بیٹھ کر آزاد کشمیر کی حکومت نہیں چلائیں گے۔
وزیراعظم آزاد کشمیر کی حلف برداری کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کشمیر کے عوام کو مبارک باد دیتا ہوں، اب کہہ سکتا ہوں کہ ہم نے کشمیر میں سیاست کو بحال کیا۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ کشمیر سے پیپلز پارٹی کا 3 نسلوں کا رشتہ ہے، ذوالفقار علی بھٹو کے قتل پر مظفرآباد اور سری نگر میں بھی احتجاج ہوا تھا۔
انہوں نے کہا کہ شہید بینظیر بھٹو نے بتایا تھا جہاں کشمیریوں کا پسینہ گرے گا وہاں ہمارا خون گرے گا، پیپپلز پارٹی کے مینڈیٹ پر ڈاکا ڈال کر بانی پی ٹی آئی کو اقتدار دیا گیا تھا۔
فیصل ممتاز راٹھور کی حلف برداری کی تقریب ایوان صدر میں ہوئی۔
چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ میں خود انتخابات میں آپ کے پاس آیا تھا، آپ نے اور گلگت بلتستان نے مایوس نہیں کیا، جتنا سیاسی شعور کشمیر میں ہے اتنا کہیں نہیں، کشمیر کے عوام جب سراپا احتجاج تھے تو فیصل راٹھور اس کو بھی دیکھ رہے تھے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ فیصل راٹھور نے عوام سے جو وعدے کیے وہ میرے پاس آپ کی امانت ہیں، فیصل راٹھور کے اختیار میں عوامی مسائل وہ حل کریں، آپ نے عوام سے کیے وعدے پورا کرنے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جب آپ کا نمائندہ آپ کی نمائندگی نہیں کرسکتا تو عوام کو خود جدوجہد کرنا پڑتی ہے، اب مظفرآباد میں آپ کا نمائندہ فیصل راٹھور ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت سے جنگ کے بعد پاکستان کا اسٹینڈرڈ سب کے سامنے ہے۔ بھارت منہ چھپا رہا ہے دنیا سے، بھارت کس سے بات کرے گا، امریکا سے لے دیگر ممالک انہیں یاد دلائیں گے 7 جہاز گرے تھے، بھارت پاکستان اور کشمیر کا جو بھائی چارہ ہے اسے نقصان پہنچاتا ہے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی کا یہ بھی کہنا ہے کہ مودی اپنا منہ دنیا سے چھپا رہا ہے، دنیا کا کوئی فورم ہو بھارت وہاں سے بھاگ رہا ہے، مودی سرکار کو بتانا چاہتا ہوں کہ آپ جنگیں بھی ہارے اور اب سازش بھی ہارو گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: بلاول بھٹو زرداری پیپلز پارٹی فیصل راٹھور کہنا ہے کہ نے کہا کہ کا کہنا
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔