دہلی کار بم دھماکہ معاملے میں کشمیر سے ایک اور ڈاکٹر کو گرفتار کیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
جموں و کشمیر کے باہر ہریانہ کے فرید آباد اور اترپردیش سہارنپور سے کام کررہے یہ ڈاکٹرز کشمیر پولیس کے ریڈار میں اس وقت آئے جب ہریانہ کی الفلاح یونیورسٹی میں کام کر رہے پلوامہ کے ڈاکٹر مزمل شکیل کو انکے ہم منصبوں کیساتھ خاموشی سے اٹھایا لیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ دہلی کار بم دھماکے کے بعد جاری تحقیقات میں جموں و کشمیر سے ایک اور ڈاکٹر کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ گورنمنٹ ٹرٹیری کیئر اسپتال میں تعینات ایک ڈاکٹر کو پوچھ گچھ کے لئے اٹھایا گیا ہے۔ حراست میں لئے گئے ڈاکٹر کی شناخت تجمل احمد ملک کے نام سے کی گئی ہے۔ ان کا تعلق وادی کشمیر کے ضلع کولگام سے ہے اور وہ سرینگر کے شری مہاراجہ ہری سنگھ ہسپتال (SMHS) میں تعینات ہیں۔ تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ آیا تجمل احمد ملک کو حراست میں لینے کا مقصد جانکاری اکٹھا کرنا ہے یا انہیں دہلی دھماکے کے بعد وسیع تر دہشتگردی کے ماڈیول میں مشتبہ کے طور پر اٹھایا گیا ہے۔ واضح رہے کہ دہلی دھماکے کی جانچ کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے بھارت کی سکیورٹی ایجنسیوں نے ''دہشت گرد ماڈیول'' سے وابستہ مشتب افراد کا گھیرا تنگ کر دیا ہے۔
تجمل احمد ملک پانچواں ڈاکٹر ہیں جن کا فریدآباد آتش گیر مادہ ضبطی اور دہلی دھماکہ معاملے میں نام سامنے آیا ہے۔ ان پانچ میں ایک ہلاک شدہ ڈاکٹر عمر نبی بھی شامل ہے جنہیں جموں و کشمیر پولیس نے جیش محمد سے منسلک "وائٹ کالر ٹرانس اسٹیٹ ٹیرر ماڈیول" کے طور پر بیان کیا ہے۔ جموں و کشمیر کے باہر ہریانہ کے فرید آباد اور اترپردیش سہارنپور سے کام کر رہے یہ ڈاکٹرز کشمیر پولیس کے ریڈار میں اس وقت آئے جب ہریانہ کی الفلاح یونیورسٹی میں کام کر رہے پلوامہ کے ڈاکٹر مزمل شکیل کو ان کے ہم منصبوں کے ساتھ خاموشی سے اٹھایا لیا گیا۔
ڈاکٹر مزمل اور دیگر سے پوچھ گچھ کے بعد کشمیر، یوپی اور فرید آباد سمیت مختلف مقامات سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد کا ایک بڑا ذخیرہ ضبط کیا گیا جس میں 2900 کلو گرام امونیم نائٹریٹ شامل ہے۔ جموں و کشمیر پولیس کے مطابق یہ انکشافات سرینگر کے نوگام میں پولیس اور سکیورٹی فورسز کو دھمکی دینے والے جی ای ایم کے پوسٹروں کی جانچ شروع کرنے کے بعد ہوئے۔ ایک اہلکار نے بتایا کہ یہ گرفتاریاں حساس معاملے کو لیک ہونے سے روکنے کے منصوبے کے تحت انجام دی گئی تھیں۔ پولیس کے مطابق اس جدید ترین نیٹ ورک کے طریقہ کار اور ان کے "صاف پس منظر" نے حالیہ برسوں میں ہتھیاروں کی سب سے بڑی ذخیرہ اندوزی اور دہشت گرد ماڈیول پر پردہ ڈال رکھا تھا۔
معاملے کی سنگینی سامنے آنے کے بعد جموں و کشمیر میں سینکڑوں پولیس چھاپے، محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں انجام دی گئیں۔ اس دوران اوور گراؤنڈ ورکرز، عسکریت پسندوں کے ہمدردوں، جماعت اسلامی کشمیر جیسی کالعدم تنظیموں کے ارکان اور پاکستان میں موجود دہشت گردوں کے رشتہ داروں پر مشتمل 1000 سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ تقریباً 500 لوگوں کو صرف کولگام میں اٹھایا گیا، جو کبھی عسکریت پسندی کا مرکز تھا اور یہاں 2019ء تک متواتر انکاؤنٹر ہوتے رہے۔ پولیس اہلکار نے مزید کہا کہ اس اقدام کا مقصد دہشت گردی کے ماحولیاتی نظام اور نچلی سطح پر اس کے سپورٹ سسٹم کو ختم کرنا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کشمیر پولیس پولیس کے لیا گیا کام کر کے بعد گیا ہے
پڑھیں:
مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار
سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان میں انٹیلیجنس بیسڈ مؤثر کارروائیاں جاری ہیں، مستونگ کے علاقہ کھڈ کوچہ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے۔
سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران متعدد دہشتگرد گرفتار کیے گئے، گرفتار دہشتگردوں میں سہولتکار سمیت مرد اور خواتین خودکش بمبار بھی شامل ہیں، کارروائی میں دہشتگردوں کےمتعدد ٹھکانے تباہ کر دیے گئے۔
علاقے میں سرچ اور کلیئرنس کارروائیاں جاری ہیں، سیکیورٹی فورسز کی جانب سے مکمل نگرانی برقرار ہے، دہشتگردوں کے ٹھکانوں سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود برآمد کرلیا گیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ مستونگ کے علاقہ کھڈ کوچہ میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز تیز کر دیے گئے، دہشت گردی کے خاتمے اور علاقے میں امن و امان کے قیام تک سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔