مدینہ بس حادثہ: بھارتی خاندان کی ایک ساتھ موت، آخری لمحے کی دردناک کہانی سامنے آئی
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بھارت کے 35 سالہ شہری سید راشد نے بتایا کہ سعودی عرب جانے والی عمرہ بس کے حادثے میں ان کے 18 قریبی رشتہ دار بھی شامل تھے۔ یہ افسوسناک واقعہ مکہ سے مدینہ کی طرف سفر کے دوران پیش آیا، جس میں 45 افراد ہلاک ہوئے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق جاں بحق افراد میں راشد کے والدین، 65 سالہ شیخ نصیر الدین، 60 سالہ اختر بیگم، امریکا سے عمرہ پر آئے 38 سالہ بھائی، 38 سالہ بھابھی اور ان کے تین بچے شامل ہیں۔ اس حادثے نے خاندان کو ناقابل تلافی صدمے میں مبتلا کر دیا۔
حادثے کی وجہ ایک آئل ٹینکر تھا جس نے بس سے ٹکر ماری، جس کے نتیجے میں 42 افراد موقع پر جاں بحق ہوئے۔ یہ واقعہ مقامی اور بین الاقوامی ذرائع میں بڑی خبر کے طور پر سامنے آیا۔
راشد نے کہا کہ وہ 9 نومبر کو حیدرآباد ایئرپورٹ سے اپنے تمام رشتہ داروں کو خدا حافظ کہہ کر بھیج رہا تھا اور بچوں کے ساتھ سب کو ایک ساتھ سفر نہ کرنے کی ہدایت بھی دی تھی۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ اگر یہ بات مانی جاتی تو کچھ جانیں بچ سکتی تھیں۔ راشد نے کہا کہ یہ آخری ملاقات ہرگز متوقع نہیں تھی، اور اس کی یاد ہمیشہ ان کے دل میں رہے گی۔
اسی حادثے میں ایک اور بھارتی خاندان کے 5 افراد بھی ہلاک ہوئے، جن میں دو سالہ بچے، ساس اور بھانجی شامل ہیں۔ اس واقعے نے متعلقہ خاندانوں میں شدید غم و صدمہ پیدا کر دیا ہے۔
یہ المناک واقعہ سعودی عرب میں عمرہ زائرین کی حفاظت اور بسوں کی نقل و حمل کے معیار پر بھی سوالات اٹھا رہا ہے، اور بھارت میں دیگر عمرہ زائرین کے خاندان اس خبر سے پریشان ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
ممبئی: سلمان خان بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے بھارت میں طلباء کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر تعلیمی نظام کے لیے نوجوانوں کی آواز سنی جانی چاہیے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔
سلمان خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدا میں یہ ایک پرامن تحریک تھی، تاہم بعد میں اس کا پرتشدد رخ اختیار کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران متاثر ہونے والے طلباء اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔
اداکار نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور انہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ خوش آئند بات ہے کہ طلباء بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے، جبکہ والدین نے بھی ان کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا۔
سلمان خان بیان میں مزید کہا گیا کہ طلباء نے اپنے عزم، محنت اور خلوص سے ثابت کیا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ملک کے روشن مستقبل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبے، ہمت اور تعلیم سے وابستگی کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی نسل مستقبل میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔
بالی ووڈ اسٹار نے زور دیا کہ طلباء کے مطالبات کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بھی اس معاملے کا مثبت حل نکالے گی اور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔
سلمان خان نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ علم حاصل کرنے والے تمام طلباء اپنی منزل حاصل کریں اور ملک میں ایسا تعلیمی ماحول قائم ہو جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے۔