ایرانی وفد کی قیادت سازمان حج و زیارت کے سربراہ علی رضا رشیدیان نے کی۔ انہوں نے میزبان ملک کی مختلف خدماتی کمپنیوں کے اسٹالز کا معائنہ کیا اور کہا کہ جایزۂ لَبَّیْتُم کا حصول اور حج و عمرہ ایکسپو میں شرکت، ایران کے لیے نہایت قیمتی کامیابیاں ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ ہم حج و زیارت کے شعبے میں جدید اور روزآمد ٹیکنالوجی پر زیادہ توجہ دیں تاکہ خدمات کا معیار مزید بلند کیا جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے پہلی بار سعودی عرب کی جانب سے منعقد ہونیوالی حج و عمرہ خدمات ایکسپو میں شرکت کی ہے۔ اس نمائش میں ایران نے زائرین کی خدمت، تنظیمی منصوبہ بندی، اور ٹیکنالوجی پر مبنی حکمتِ عملیوں کے اپنے نمایاں تجربات پیش کیے۔ یہ نمائش ہر سال وزارتِ حج و عمرہ سعودی عرب کی جانب سے منعقد کی جاتی ہے تاکہ حج و عمرہ کے دوران مختلف اسلامی ممالک کے تجربات، جدید ٹیکنالوجیز اور انتظامی ماڈلز کو پیش اور تبادلہ کیا جا سکے۔ اس سال بھی میزبان ملک نے فعال اسلامی ممالک کو دعوت دی کہ وہ اپنے خدماتی نظام، ڈیجیٹل حل، اور زائرین کی سہولت کے منصوبے پیش کریں اور ایک دوسرے کے تجربات سے مستفید ہوں۔ اس سال پہلی بار اسلامی جمہوریہ ایران کے لیے ایک خصوصی اسٹال مختص کیا گیا۔

یہ شرکت ایران کو ’’جایزۂ لَبَّیْتُم‘‘ (Labaitum Award) ملنے کے بعد ممکن ہوئی، جو 1404ھ کے حجِ تمتع میں بہترین انتظامی کارکردگی کے اعتراف میں دیا گیا تھا۔ اسی بنا پر ایران کو سرکردہ شرکت کنندگان میں شامل کیا گیا۔ ایرانی اسٹال میں اعزام، اسکان اور تغذیہ کے نظام کے ساتھ ساتھ زائرین سے براہِ راست رابطے کے لیے اسمارٹ سسٹمز، عملیاتی ہم آہنگی کے ڈیجیٹل ماڈیولز، اور خدمت‌رسانی کے نئے انتظامی فریم ورک پیش کیے گئے۔ نمائش کے دوران مختلف ممالک کے نمائندے اور ذمہ داران ایران کے اسٹال پر آئے اور زائرین کے لیے اس کے جدید انتظامی ماڈل کا مشاہدہ کیا۔ وزیرِ حج و عمرہ سعودی عرب اور متعدد اعلیٰ حکام نے بھی ایرانی نمائندوں سے ملاقات کی اور زائرینِ ایرانی کے لیے فراہم کی جانے والی سہولتوں سے آگاہی حاصل کی۔

ایرانی وفد کی قیادت سازمان حج و زیارت کے سربراہ علی رضا رشیدیان نے کی۔ انہوں نے میزبان ملک کی مختلف خدماتی کمپنیوں کے اسٹالز کا معائنہ کیا اور کہا کہ جایزۂ لَبَّیْتُم کا حصول اور حج و عمرہ ایکسپو میں شرکت، ایران کے لیے نہایت قیمتی کامیابیاں ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ ہم حج و زیارت کے شعبے میں جدید اور روزآمد ٹیکنالوجی پر زیادہ توجہ دیں تاکہ خدمات کا معیار مزید بلند کیا جا سکے۔ نمائش کے دوران ایرانی ماہرین نے خدمت‌رسانی کے جدید طریقوں پر منعقد ورکشاپس اور خصوصی تربیتی کورسز میں بھی شرکت کی، جہاں انہیں خدماتِ زائرین کے بین‌المللی معیارات سے براہِ راست واقفیت حاصل ہوئی۔ ایرانی اسٹال کی نگرانی سازمانِ حج و زیارت کے نوجوان، تخلیقی اور ٹیکنالوجی کے ماہر ارکان نے کی۔ ان کی پیشکش نے ایران کے اندر جاری ڈیجیٹل انتظامی اصلاحات اور سمارٹ زیارت سسٹمز کی سمت کو نمایاں کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ایکسپو میں حج و زیارت ایران کے کے لیے

پڑھیں:

راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ

وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے راس ایکسپو 2026 کے کامیاب انعقاد پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان روبوٹکس، آٹومیشن اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں تیزی سے ترقی کی جانب گامزن ہے اور حکومت جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی جامعات، اساتذہ، طلبہ، صنعت اور مختلف ادارے مل کر ایک ایسا مضبوط ماحولیاتی نظام (ایکو سسٹم) تشکیل دے رہے ہیں، جو پاکستان کو روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی کی عالمی صنعت میں نمایاں مقام دلانے میں مدد دے گا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ 2 روز کے دوران منعقد ہونے والی راس ایکسپو میں جدید ٹیکنالوجی کے متعدد نمونے پیش کیے گئے۔ نمائش میں صنعتی آٹومیشن، مکینیکل روبوٹس، خودکار نظام، دفاعی شعبے کے جدید آلات، فوجی ٹیکنالوجی، لاجسٹکس، ریسکیو اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے لیے تیار کیے گئے روبوٹس، نیویگیشن سسٹمز اور جدید سمیولیٹرز نے شرکاء کی توجہ حاصل کی۔

شزا فاطمہ نے کہا کہ حکومت آئندہ بھی اس نوعیت کی نمائشوں کا انعقاد جاری رکھے گی تاکہ نوجوانوں، تعلیمی اداروں اور صنعت کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم میسر آ سکے اور پاکستان میں ٹیکنالوجی پر مبنی صنعت کو مزید فروغ دیا جا سکے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے ایکسپو کے دوران دو اہم اعلانات بھی کیے، جن میں روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے 20 ملین ڈالر کی معاونت شامل ہے۔ اس کے علاوہ صنعت کے لیے ایسے سمیولیٹرز تیار کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے، جن کی مدد سے کاروباری ادارے اپنی پیداواری سرگرمیوں کا عملی جائزہ لے سکیں اور آٹومیشن کے معاشی فوائد کا اندازہ لگا سکیں۔

وفاقی وزیر نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ جدید مشینیں انسانوں کی ملازمتیں ختم کر دیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی ملازمتیں ختم نہیں کرتی بلکہ ان کی نوعیت تبدیل کرتی ہے۔ مستقبل میں ایسے افراد کی ضرورت ہوگی جو روبوٹس اور جدید مشینوں کو تیار کرنے، چلانے اور ان کی دیکھ بھال کی مہارت رکھتے ہوں۔

انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ ریاضی، الیکٹریکل انجینئرنگ، کمپیوٹر سائنس، مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس جیسے شعبوں کا انتخاب کریں، کیونکہ مستقبل کی معیشت انہی مہارتوں پر استوار ہوگی۔ شزا فاطمہ کا کہنا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ افرادی قوت نہ صرف نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گی بلکہ پاکستان کی معیشت، صنعت اور قومی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

شزا فاطمہ وفاقی وزیر

متعلقہ مضامین

  • امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
  • رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق