ایرانی زائرین کے لیے منیٰ سے جمرات تک راستہ مختصر کرنے کی تجویز، سعودی حکام کی جانب سے مثبت ردِعمل
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق علی رضا رشیدیان سعودی وزیرِ حج و عمرہ کی دعوت پر اس وقت مملکتِ عرب میں موجود ہیں۔ انہوں نے صالح بن ابراہیم الرشید سے ملاقات میں حج انتظامیہ کی کوششوں کو سراہا اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی طرف سے زائرین کی اوسط عمر اور گرم موسم کو مدِنظر رکھتے ہوئے منیٰ سے مقامِ رمیِ جمرات تک راستہ مختصر کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ یہ تجویز سعودی حکام کی جانب سے خیرمقدم اور عملی جائزے کے وعدے کے ساتھ قبول کر لی گئی۔ تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق علی رضا رشیدیان سعودی وزیرِ حج و عمرہ کی دعوت پر اس وقت مملکتِ سعودی عرب میں موجود ہیں۔ انہوں نے صالح بن ابراہیم الرشید سے ملاقات میں حج انتظامیہ کی کوششوں کو سراہا اور حج تمتع 1405ھ کے موسم میں ایرانی زائرین کے لیے خدمات میں بہتری کی ضرورت پر زور دیا۔
رشیدیان نے کہا کہ اس وقت ۹ لاکھ سے زائد افراد زیارتِ بیت اللہ کے منتظر ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ طویل عرصے سے نئے اندراجات بند رہنے اور آبادی میں اضافے کے باعث ایران کے حج کوٹے میں متناسب اضافہ ناگزیر ہو گیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ مشتاقانِ زیارت بیت اللہ کو یہ موقع فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایرانی زائرین کی ایک بڑی تعداد درمیانی اور ضعیف العمر طبقے پر مشتمل ہے، اور موجودہ راستہ منیٰ سے جمرات تک، شدید گرمی کے باعث ان کے لیے جسمانی دقت کا باعث بنتا ہے، یہ راستہ مختصر کر دیا جائے یا متبادل آسان راستے فراہم کیے جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس سے نہ صرف زائرین کی صحت و سلامتی کو تحفظ ملے گا بلکہ مناسکِ حج کی ادائیگی بھی زیادہ سہولت اور نظم سے ممکن ہو سکے گی۔ اس موقع پر مکہ مکرمہ اور مشاعرِ مقدسہ کی انتظامی کمیٹی کے سربراہ انجینئر صالح بن ابراہیم الرشید نے تجویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ مسجد الحرام کے توسیعی منصوبے کے تناظر میں، ہم متعلقہ اداروں کے ساتھ مشاورت اور ضروری جائزہ کریں گے تاکہ زائرین کو درپیش مشکلات میں کمی کے لیے مناسب عملی راہ حل اختیار کیا جا سکے۔ واضح رہے کہ یہ ملاقات اور حج و عمرہ انتظامات کے متعلق باہمی گفت و شنید دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی روابط کی پائیداری کا سبب بنے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
میکسیکو کی معروف بیوٹی انفلوئنسر اور سوشل میڈیا کانٹینٹ کریئٹر 30 سالہ ایڈریانا گارشیا (Adriana Garcia)کاسمیٹک سرجری کے دوران پیش آنے والی پیچیدگیوں کے باعث چل بسی۔
رپورٹس کے مطابق ایڈریانا گارشیا کا منگل کے روز ریاست سینالووا کے ایک نجی کلینک میں کاسمیٹک آپریشن کیا جا رہا تھا، جہاں دورانِ سرجری پیچیدگیاں پیدا ہونے کے بعد ان کی موت واقع ہوگئی،مقامی حکام نے تاحال موت کی سرکاری وجہ جاری نہیں کی، جبکہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
مزیدپڑھیں:عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
واقعے کے بعد حکام نے سرجری کے دوران پیش آنے والے حالات اور ممکنہ طبی غفلت کے پہلوؤں کا جائزہ لینے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ایڈریانا گارشیا کے انسٹاگرام اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر 90 ہزار سے زائد فالوورز تھے، ان کے انتقال کی تصدیق میکسیکو کی کمپنی نے بھی کی، جس کے ساتھ وہ بطور انفلوئنسر کام کرتی تھی۔