اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2026 GMT
وقاص عظیم: وفاقی بجٹ 2026-27 میں اراکین پارلیمنٹ کے اہل خانہ کیلئے اضافی رہائشی سہولیات کی فراہمی کی تجویز سامنے آگئی ہے، جس کے تحت نئے فیملی سوٹس اور سرونٹ کوارٹرز تعمیر کیے جائیں گے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
ذرائع کے مطابق پارلیمنٹ لاجز میں اراکین پارلیمنٹ کے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کیلئے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
منصوبے کے تحت 500 سرونٹ کوارٹرز بھی تعمیر کیے جائیں گے تاکہ اراکین پارلیمنٹ اور ان کے اہل خانہ کو بہتر رہائشی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ منصوبے کی مجموعی لاگت 7 ارب 40 کروڑ روپے مقرر کی گئی ہے، جبکہ جون 2026 تک اس منصوبے پر 2 ارب 29 کروڑ روپے خرچ ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
بجٹ تجاویز کو حتمی منظوری کے بعد آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں شامل کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: اراکین پارلیمنٹ اضافی تجویز فیملی سوٹس پارلیمنٹ اراکین پارلیمنٹ اضافی فیملی سوٹس تجویز اراکین پارلیمنٹ اراکین پارلیمنٹ تعمیر کی
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔