پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2026 GMT
پاکستان کے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے آسٹریلیا کے خلاف دوسرے ایک روزہ میچ میں ایک منفرد اعزاز اپنے نام کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کے 232 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی بیٹنگ جاری
قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے گئے میچ کے آغاز پر شاہین نے پہلی ہی گیند پر آسٹریلوی اوپنر الیکس کیری کو بولڈ کر کے پاکستانی کرکٹ کی تاریخ میں اپنا نام درج کرا دیا۔
شاہین شاہ آفریدی اب پاکستان کے صرف تیسرے کپتان بن گئے ہیں جنہوں نے ون ڈے انٹرنیشنل میں حریف ٹیم کی اننگز کی پہلی ہی گیند پر وکٹ حاصل کی۔ اس سے قبل یہ کارنامہ پاکستان کے لیجنڈری فاسٹ بولرز وسیم اکرم اور وقار یونس انجام دے چکے ہیں۔
A unique feat for Pakistan captain @iShaheenAfridi today ????
➡️ Download #PCBLIVE app now ????
Google Play Store: https://t.
Apple App Store: https://t.co/RpeYQPshnh
Watch Live: https://t.co/M8wsOD8omx#PAKvAUS | #TakraarKaTime | #BackTheBoysInGreen pic.twitter.com/lh6zWbjS25
— Pakistan Cricket (@TheRealPCB) June 2, 2026
وسیم اکرم نے سنہ 1993 میں کراچی میں زمبابوے کے خلاف اینڈی فلاور کو پہلی گیند پر آؤٹ کیا تھا جبکہ وقار یونس نے 2001 میں لیڈز میں انگلینڈ کے مارکس ٹریسکوتھک کو ابتدائی گیند پر پویلین بھیجا تھا۔
پہلی گیند پر وکٹ لینے والے پاکستانی کپتان
وسیم اکرم: سنہ 1993 بمقابلہ زمبابوے (کراچی)
وقار یونس: سنہ 2001 بمقابلہ انگلینڈ (لیڈز)
شاہین شاہ آفریدی: سنہ 2026 بمقابلہ آسٹریلیا (لاہور)
شاہین آفریدی نے صرف ابتدائی وکٹ پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ شاندار بولنگ کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے آسٹریلیا کے مزید 2 کھلاڑیوں کو بھی آؤٹ کیا۔ انہوں نے 47ویں اوور میں میتھیو کوہنیمن اور 49ویں اوور میں نیتھن ایلس کی وکٹ حاصل کی اور 8 اوورز میں 36 رنز دے کر 3 وکٹیں اپنے نام کیں۔
مزید پڑھیے: شاہین آفریدی نے تاریخ رقم کر دی، ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ میں 100 وکٹیں لینے والے پہلے پاکستانی بولر بن گئے
شاہین کے علاوہ حارث رؤف، ابرار احمد اور عرفات منہاس نے بھی عمدہ بولنگ کا مظاہرہ کیا جس کے باعث آسٹریلوی ٹیم مقررہ 50 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 231 رنز تک محدود رہی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان کے گیند پر
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔