نانا حسگرسازان سلامت آریا نامی کمپنی میں تحقیق و ترقی کی سینئر ماہر زہرا حاتمی نے خبر رساں ادارے تسنیم سے گفتگو میں بتایا کہ یہ آلہ سرطانِ پستان (Breast Cancer) کی جراحی کے دوران استعمال کے لیے تیار کیا گیا ہے اور معاونِ جراح کے طور پر کام کرتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی نالج بیسڈ کمپنی کی تحقیق و ترقی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران میں تیار کردہ آلہ "CDP Cancer Diagnostic Pro" محض 15 سیکنڈ میں سرطانی یا سرطان کا پیش خیمہ بننے والے خلیوں (Cells) کی موجودگی کا پتا لگانے کی صلاحیت رکھتا ہے، خصوصاً جراحی کے دوران، جہاں درست اور فوری تشخیص مریض کی جان بچانے میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہے۔

نانا حسگرسازان سلامت آریا نامی کمپنی میں تحقیق و ترقی کی سینئر ماہر زہرا حاتمی نے خبر رساں ادارے تسنیم سے گفتگو میں بتایا کہ یہ آلہ سرطانِ پستان (Breast Cancer) کی جراحی کے دوران استعمال کے لیے تیار کیا گیا ہے اور معاونِ جراح کے طور پر کام کرتا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ جب دورانِ عملِ جراحی ٹیومر جسم سے نکالا جاتا ہے تو متاثرہ بافت میں ایک حاشیہ (Margin) باقی رہ جاتا ہے، جہاں ممکنہ طور پر سرطانی یا پیش‌ سرطانی خلیے موجود رہ سکتے ہیں۔ 

جراح کو اس پورے حصے کو نقطہ بہ نقطہ معائنہ کرنا پڑتا ہے تاکہ یقین ہو سکے کہ کوئی خلیہ باقی نہیں رہا، کیونکہ اگر ایسا ہو تو مرض کی واپسی یا متاستاسس (Metastasis) کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ زہرا حاتمی کے مطابق یہ آلہ جراح کو اسی وقت اور اسی مقام پر سرطانی خلیوں کی موجودگی کا فوری پتا دیتا ہے، جس کے نتیجے میں متاثرہ بافت کا مکمل طور پر اخراج ممکن ہوتا ہے اور سرطان کی واپسی کا امکان نمایاں طور پر کم ہو جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس آلے کی بنیاد ایک الیکٹروکیمیکل سینسر پر ہے جو سرطانی خلیوں کے میٹابولک عمل کے ضمنی ذرات، بالخصوص ہائیڈروجن (H₂) کے سالمات، کو اپنے الیکٹروڈز پر شناخت کرتا ہے۔ اس کی بدولت نتیجہ صرف ۱۵ سیکنڈ میں آلے کی اسکرین پر ظاہر ہو جاتا ہے، اور جراح فوری طور پر فیصلہ کر سکتا ہے کہ آیا متعلقہ حصہ جسم سے نکالا جائے یا نہیں۔ حاتمی نے مزید کہا کہ اس آلے کا عملیاتی نظام اپنی نوعیت میں منفرد ہے۔

ان کے مطابق دنیا میں اب تک ایسا کوئی نمونہ تیار نہیں ہوا جو سرطانی خلیوں کے میٹابولک محصولات کو براہِ راست اس انداز سے شناخت کر سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ ٹیکنالوجی نہ صرف ایران بلکہ عالمی سطح پر پہلی بار تیار کی گئی ہے، اور اس کے تمام مراحل یعنی ڈیزائن سے لے کر تیاری تک مکمل طور پر ایران کے اندر انجام پائے ہیں۔ مزید یہ کہ امریکہ میں اس اختراع کے آٹھ پیٹنٹس (US Patents) بھی رجسٹر کیے جا چکے ہیں، جو اس کی سائنسی جدت اور عملی قابلیت کا ثبوت ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: جاتا ہے

پڑھیں:

دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس

دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔

دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر

نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔

ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟

ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔

کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟

حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔

دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا