ایرانی ماہرین نے 15 سیکنڈ میں سرطان کی شناخت کرنے والا جدید آلہ تیار کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
نانا حسگرسازان سلامت آریا نامی کمپنی میں تحقیق و ترقی کی سینئر ماہر زہرا حاتمی نے خبر رساں ادارے تسنیم سے گفتگو میں بتایا کہ یہ آلہ سرطانِ پستان (Breast Cancer) کی جراحی کے دوران استعمال کے لیے تیار کیا گیا ہے اور معاونِ جراح کے طور پر کام کرتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی نالج بیسڈ کمپنی کی تحقیق و ترقی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران میں تیار کردہ آلہ "CDP Cancer Diagnostic Pro" محض 15 سیکنڈ میں سرطانی یا سرطان کا پیش خیمہ بننے والے خلیوں (Cells) کی موجودگی کا پتا لگانے کی صلاحیت رکھتا ہے، خصوصاً جراحی کے دوران، جہاں درست اور فوری تشخیص مریض کی جان بچانے میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہے۔
نانا حسگرسازان سلامت آریا نامی کمپنی میں تحقیق و ترقی کی سینئر ماہر زہرا حاتمی نے خبر رساں ادارے تسنیم سے گفتگو میں بتایا کہ یہ آلہ سرطانِ پستان (Breast Cancer) کی جراحی کے دوران استعمال کے لیے تیار کیا گیا ہے اور معاونِ جراح کے طور پر کام کرتا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ جب دورانِ عملِ جراحی ٹیومر جسم سے نکالا جاتا ہے تو متاثرہ بافت میں ایک حاشیہ (Margin) باقی رہ جاتا ہے، جہاں ممکنہ طور پر سرطانی یا پیش سرطانی خلیے موجود رہ سکتے ہیں۔
جراح کو اس پورے حصے کو نقطہ بہ نقطہ معائنہ کرنا پڑتا ہے تاکہ یقین ہو سکے کہ کوئی خلیہ باقی نہیں رہا، کیونکہ اگر ایسا ہو تو مرض کی واپسی یا متاستاسس (Metastasis) کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ زہرا حاتمی کے مطابق یہ آلہ جراح کو اسی وقت اور اسی مقام پر سرطانی خلیوں کی موجودگی کا فوری پتا دیتا ہے، جس کے نتیجے میں متاثرہ بافت کا مکمل طور پر اخراج ممکن ہوتا ہے اور سرطان کی واپسی کا امکان نمایاں طور پر کم ہو جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس آلے کی بنیاد ایک الیکٹروکیمیکل سینسر پر ہے جو سرطانی خلیوں کے میٹابولک عمل کے ضمنی ذرات، بالخصوص ہائیڈروجن (H₂) کے سالمات، کو اپنے الیکٹروڈز پر شناخت کرتا ہے۔ اس کی بدولت نتیجہ صرف ۱۵ سیکنڈ میں آلے کی اسکرین پر ظاہر ہو جاتا ہے، اور جراح فوری طور پر فیصلہ کر سکتا ہے کہ آیا متعلقہ حصہ جسم سے نکالا جائے یا نہیں۔ حاتمی نے مزید کہا کہ اس آلے کا عملیاتی نظام اپنی نوعیت میں منفرد ہے۔
ان کے مطابق دنیا میں اب تک ایسا کوئی نمونہ تیار نہیں ہوا جو سرطانی خلیوں کے میٹابولک محصولات کو براہِ راست اس انداز سے شناخت کر سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ ٹیکنالوجی نہ صرف ایران بلکہ عالمی سطح پر پہلی بار تیار کی گئی ہے، اور اس کے تمام مراحل یعنی ڈیزائن سے لے کر تیاری تک مکمل طور پر ایران کے اندر انجام پائے ہیں۔ مزید یہ کہ امریکہ میں اس اختراع کے آٹھ پیٹنٹس (US Patents) بھی رجسٹر کیے جا چکے ہیں، جو اس کی سائنسی جدت اور عملی قابلیت کا ثبوت ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جاتا ہے
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔