لاہور میں گھر کے باہر کھیلتی ہوئی 5 سالہ بچی کھلے مین ہول میں گر کر جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
لاہور کے علاقے نشترکالونی میں گھر کے باہر کھیلنے کے دوران 5 سال کی بچی کھلے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہو گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پنجاب کے دارالحکومت کے علاقے نشتر کالونی میں کھلے مین ہول میں گر کر گرنے والی بچی کی شناخت سحر شاہد کے نام سے ہوئی۔
پولیس نے ضابطے کی کارروائی کے بعد لاش کو ورثا کے حوالے کردیا۔پولیس نے ایم سی ایل کنٹریکٹر سمیت تین افراد کےخلاف مقدمہ درج کرلیا۔
ایف آئی آر میں لکھا گیا ہے کہ واسا اور ایم سی ایل کے کنٹریکٹر نے تعمیراتی کام کے دوران مین ہول کا ڈھکن ہٹایا، مین ہول کا ڈھکن ہٹانے کے بعد حفاظتی انتظامات مکمل نہیں کیے گیے۔
ایف آئی آر کے مطابق واسا اور ایم سی ایل کی غفلت کے باعث گلی میں کھیلتی بچی مین ہول میں گری، مقامی لوگوں نے بچی کو بچانے کی کوشش کی، لیکن جانبرنہ ہوسکی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مین ہول میں
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔