پاکستان کی بحری تاریخ میں ایک اور سنگِ میل عبور
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
پاکستان نے بحری و توانائی کے شعبوں میں تاریخی پیش رفت کرتے ہوئے پہلی بار بین الاقوامی تنظیم برائے بحری امور کے معیار کے مطابق ماحول دوست انتہائی کم سلفر فیول آئل (VLSFO) کی بڑے پیمانے پر پیداوار اور باقاعدہ ترسیل کامیابی سے مکمل کرلی۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق کراچی پورٹ سے 8,722 میٹرک ٹن وزنی ویٹول کی سنگاپور کی بنکر بارج کے ذریعے ماحول دوست میرین فیول کی ترسیل عمل میں لائی گئی، جو پاکستان کی میری ٹائم انڈسٹری میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔
حکام کے مطابق پاکستان کی جانب سے آئی ایم او معیار کے مطابق VLSFO کی پیداوار اور اس کی باقاعدہ ترسیل کا آغاز ملکی توانائی کے شعبے کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے، جس سے نہ صرف ملکی بندرگاہوں کی بین الاقوامی ساکھ مضبوط ہوگی بلکہ ماحول دوست ایندھن کی مقامی پیداوار سے ساحلی اور سمندری ماحولیات پر مثبت اثرات بھی مرتب ہوں گے۔
یہ کامیابی وزیرِ اعظم کی ٹاسک فورس برائے بحری امور اور حکومتِ پاکستان کے مختلف متعلقہ اداروں کی مربوط کوششوں کا نتیجہ ہے، جنہوں نے پیداوار اور سپلائی کے پورے عمل کو عالمی معیارات کے مطابق یقینی بنایا۔
اس سے قبل ویٹول نے پاکستان کے بحری شعبے میں تعاون کے مختلف مواقع کا بھی جائزہ لیا تھا، جن میں بارج آپریشنز سمیت دیگر اہم شعبے شامل ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ماحول دوست میرین فیول کی ملکی سطح پر تیاری اور ترسیل پاکستان کو علاقائی بحری تجارت میں ایک مضبوط اور قابلِ اعتماد مقام فراہم کرے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ماحول دوست کے مطابق
پڑھیں:
آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
تصویر سوشل میڈیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے۔
وزیراعظم کی زیرِ صدارت آئی ٹی کے شعبے کی اسٹریٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ اجلاس ہوا۔
اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
شہباز شریف نے ہدایت کی کہ آئی ٹی کے شعبے کے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
اعلامیہ کے مطابق انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔
اجلاس کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025 میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی۔
وزیراعظم کو ’’کنیکٹ پاکستان وژن 2030‘‘ کے اجراء کی تیاریوں پر بھی بریفنگ دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا۔
بریفنگ کے مطابق جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دیے گئے۔