بھارت دوبارہ پاکستان پر جنگ مسلط کرنیوالا تھا، ڈونلڈ ٹرمپ کی تصدیق
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
سعودی ولی عہد کیساتھ وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ میں نے پاک بھارت جنگ بندی سمیت دنیا میں 8 بڑی جنگیں رکوائیں، میں نے پاک بھارت وہ جنگ بھی رکوائی، جو دوبارہ شروع ہونیوالی تھی۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی پاکستانی خدشے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ بھارت دوبارہ پاکستان پر جنگ مسلط کرنے والا تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کیساتھ وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں نے پاک بھارت جنگ بندی سمیت دنیا میں 8 بڑی جنگیں رکوائیں، میں نے پاک بھارت وہ جنگ بھی رکوائی، جو دوبارہ شروع ہونے والی تھی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان اور بھارت اب اچھے اقدامات کر رہے ہیں، امریکی صدر نے روس اور یوکرین جنگ بھی جلد ختم ہونے کی امید دلا دی، انہوں نے کہا اندازہ نہیں تھا کہ یوکرین روس جنگ کا معاملہ اتنا طویل ہو جائے گا۔
واضح رہے کہ وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ملاقات کی، جس کے بعد دونوں فریقین نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان دیرینہ دوست ہیں، اِن کو یہاں آنے پر خوش آمدید کہتا ہوں، میری حکومت میں امریکہ ترقی کر رہا ہے۔ اُنہوں نے کہا تھا کہ جوبائیڈن انتظامیہ نااہل تھی، ہم مہنگائی کو کم ترین سطح پر لائے، ہم نے پٹرولیم اور گیس کی قیمتیں کم کی ہیں، سعودی عرب نے 600 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: میں نے پاک بھارت سعودی ولی عہد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کرتے ہوئے تھا کہ
پڑھیں:
اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔