ٹیکنالوجی کمپنی وائپر نے اپنی اسمبلنگ آپریشنز کو لاہور تک توسیع دیدی
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (کامرس رپورٹر) پاکستان کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی وائپر ٹیکنالوجی نے اپنی اسمبلنگ آپریشنز کو لاہور تک توسیع دے دی ہے، جس سے ملکی سطح پر کمپیوٹرز کی پیداوار کی صلاحیت دگنی ہو گئی ہے۔ کمپنی کی یہ توسیع پاکستان کو علاقائی ٹیکنالوجی مینوفیکچرنگ کے میدان میں نمایاں مقام دلانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دی جا رہی ہے۔وائپر جسے آئی ڈی سی 2025 کی دوسری سہ ماہی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی پی سی برانڈ قرار دیا گیا، اب لاہور کے نئے پلانٹ کے ذریعے شمالی علاقوں میں تیز تر مصنوعات کی فراہمی اور بہتر سروس کوریج فراہم کرے گی۔کمپنی کے مطابق یہ نیا پلانٹ نہ صرف ڈیسک ٹاپ، لیپ ٹاپ، ٹیبلٹ اور اے آئی پی سی کی مقامی پیداوار میں اضافہ کرے گا بلکہ سینکڑوں براہ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع بھی فراہم کرے گا۔ اس کیساتھ ساتھ اسمبلنگ، تحقیق و ترقی (R&D)، مارکیٹنگ، پیکیجنگ اور سروس سپورٹ جیسے شعبے بھی مزید فروغ پائیں گے۔وائپر کی یہ توسیع پاکستان میں درآمدی انحصار کم کرنے، قیمتی زرمبادلہ بچانے اور مقامی صنعتی پیداوار کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگی۔اس موقع پر کمپنی کے سربراہ خوشنود آفتاب نے کہا ہے کہ لاہور پلانٹ کی شروعات پاکستان کے ڈیجیٹل خود انحصاری اور صنعتی ترقی کے وژن کی تکمیل کی جانب ایک عملی قدم ہے، جو مستقبل میں ملک کو کمپیوٹر پیداوار اور برآمدات کا علاقائی مرکز بنانے کی راہ ہموار کرے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
لاہور: پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع کردی گئی۔محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق صوبہ بھر میں کھلی فضا میں ڈرون اُڑانے پر مکمل پابندی برقرار ہے، دفعہ 144 کے تحت آؤٹ ڈور ڈرون اڑانے پر عائد پابندی میں 30 روز کی توسیع کر دی گئی ہے۔حکومت پنجاب نے یہ فیصلہ سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر کیا ہے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ہالز اور مارکیز کے اندر تقریبات کے دوران چھوٹے ڈرون کے محدود استعمال کی اجازت ہے، جبکہ اندرونی تقریبات میں ڈرون کے محفوظ استعمال کی ذمہ داری منتظمین پر عائد ہوگی۔حکومتی ہدایت کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انٹیلیجنس ایجنسیاں اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی اور وہ اپنے فرائض کے مطابق ڈرون سمیت دیگر ٹیکنالوجی استعمال کر سکیں گی۔