شنگھائی تعاون تنظیم علاقائی تعاون کو فروغ دینے کیلیے اچھی پوزیشن میں ہے‘ اسحق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ماسکو(مانیٹرنگ ڈیسک )نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحٰق ڈار نے کہا ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے انسانی شعبے میں علاقائی تعاون کو فروغ دینے کے لیے ’ اچھی پوزیشن میں ہے۔اپنے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ ہمارے سامنے موجود ایجنڈا (تجارت، معیشت، ثقافت اور انسانی تعاون) ایک بہتر مستقبل کی طرف دیکھنے والی ایس سی او کی بنیاد ہے، پاکستان انہیں علاقائی شراکت داری کے مضبوط تانے بانے میں جْڑے ہوئے دھاگے سمجھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تیانجن سربراہی اجلاس سے یہ واضح پیغام ملا کہ ہماری تنظیم اقتصادی انضمام پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے اپنے اجتماعی ممکنات کے پورے دائرہ کار کو بروئے کار لانے کے عزم کے ساتھ ترقی کر رہی ہے، جس میں توسیع شدہ تجارتی تعاون، بہتر انفرا اسٹرکچر رابطہ، سرمایہ کاری کی شراکت داری ، سرحد پار تجارتی راہداریوں کی ترقی اور ڈیجیٹل معاشی ترقی کے فروغ شامل ہیں۔اسحٰق ڈار نے اس بات کو اجاگر کیا کہ شنگھائی تعاون تنظیم نے پورے ایس سی او خطے میں پائیدار اقتصادی ترقی کی بنیاد رکھ دی ہے۔وزیر خارجہ نے نشاندہی کی کہ پاکستان نے ٹیکنالوجی پر مبنی، ڈیزاسٹر مینجمنٹ کا نظام تیار کیا ہے اور یہ بھی کہا کہ ملک علاقائی سطح پر آفات سے نمٹنے کی تیاری کو بہتر بنانے کے لیے ایس سی او شراکت داروں کے ساتھ سیمولیشن مشقیں منعقد کرنے کا خواہشمند ہے۔اسحٰق ڈار نے کہا کہ تیانجن میں ہونے والی ہماری گفتگو میں اس ضرورت پر زور دیا گیا کہ ہم اپنی رسائی کو جدید بنائیں، ہمارے مبصر اور شراکت دار ممالک کی قدر بہت زیادہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ایس سی او کی جدیدیت کی ایک اہم خصوصیت انگریزی کو ورکنگ لینگوئج کے طور پر متعارف کرانا ہے، آئیے ہم سیاسی بیانات سے آگے بڑھیں اور ایک ترجمہ یونٹ قائم کریں، صرف اسی ایک قدم سے ایس سی او مزید شراکت داروں کو اپنی طرف راغب کرسکتا ہے اور وسیع تر عالمی اثر و رسوخ حاصل کرسکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایس سی او نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈیوزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔
دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔