Juraat:
2026-06-03@04:34:58 GMT

کراچی پولیس چیف کا عزیزآباد ایس ایچ او کو شوکاز

اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT

کراچی پولیس چیف کا عزیزآباد ایس ایچ او کو شوکاز

شوکاز میں ایس ایچ او وقار قیصر کا خاص بیٹر ہیڈ کانسٹیبل سہراب بھی نامزد
بھتہ خوری، منشیات اسمگلنگ ، گٹکا مافیا، جوا سٹہ کی سرپرستی کے الزامات
(رپوٹ/ ایم جے کے )کراچی پولیس چیف کی جانب سے عزیزآباد ایس ایچ او کو شوکاز جاری، شوکاز میں ایس ایچ او وقار قیصر کا خاص بیٹر ہیڈ کانسٹیبل سہراب کو بھی نامزد کیا گیا، دونوں کو شوکاز منشیات و گٹکا ماوا، جوا سٹہ مافیا سے ہفتہ وار لینے پر جاری کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق تھانہ عزیزآباد ایس ایچ او وقار قیصر کو کراچی پولیس چیف کی جانب سے شوکاز نوٹس جاری کردیا گیا، شوکاز نوٹس میں ایس ایچ او وقار قیصر اور اس کا خاص بیٹر ہیڈ کانسٹیبل سہراب کو علاقہ عزیزآباد سے منشیات و گٹکا ماوا اور جوا سٹہ مافیا سے ہفتہ وار لینے پر جاری کیا گیا، شوکاز نوٹس جاری کرنے کی ایک وجہ نمائندہ جرأت اخبار کی جانب سے مسلسل ثبوتوں(ویڈیو، تصاویر، نشاندہی) پر مبنی خبریں بھی ہیں، شوکاز نوٹس 27 ؍اکتوبرکو جاری کیا گیا کراچی پولیس آفس سے جس میں کراچی پولیس چیف کی جانب سے کہا گیا کہ مورخہ 10؍اکتوبر ایس ایس پی سینٹرل انٹیلی جنس اسپیشل برانچ کی طرف سے کی گئی انکوائری رپورٹ میں ایس ایچ او عزیزآباد وقار قیصر اور HC-16 سہراب کے خلاف غیرقانونی تجارت، بھتہ خوری، منشیات کی اسمگلنگ اور جوا سٹہ کی سرپرستی کرنے کے الزامات ہیں، ان لوگوں کے ساتھ جن میں یونس چھالیہ والا (نان کسٹم پیڈ)، عامر عرف روفی(منشیات فروش) وقاص چکلی(جوا سٹہ)، ببلو، جنید اور طاہر عرف بوبی(گٹکا ماوا ڈیلر) شامل ہیں۔ لہٰذا "میں مطمئن ہوں کہ الزامات کی نوعیت ایسی ہے کہ کوئی باضابطہ انکوائری ضروری نہیں ہے اور یہ کارروائی سندھ کے قاعدہ 6 (3) (b) (1)، پولیس (افادیت اور نظم و ضبط) کے اصول کے مطابق ہے اور میرا خیال ہے کہ الزامات اس بات پر زور دیتے ہیں کہ آپ کو کوئی ایک یا زیادہ سزا دی جائے گی ،اس لیے اب میں، جاوید اے اوڈھو پی ایس پی، ایڈیشنل آئی جی پی، کراچی رینج، قاعدہ 6 (3) (b) (1) کے مطابق کارروائی کی مندرجہ ذیل بنیادوں پر، انسپکٹر (K-1927)وقار قیصر (CNIC 42301-1407055-3)سابق ایس ایچ او پی ایس عزیزآباد( آر پی او آفس ویسٹ زون کراچی کو سات دن کے اندر پیش ہوں”، بتاتے چلیں کہ شوکاز نوٹس جس انکوائری آفیسر کی انکوائری پر جاری کیا گیا ،اس کا کہنا ہے کہ جب سے ایس ایچ او وقار قیصر 21؍جون کو پوسٹ ہوئے۔ پی ایس عزیزآباد میں، وہ اور ہیڈ کانسٹیبل سہراب دونوں جوا سٹہ مافیا اور منشیات و گٹکا ماوا مافیا سے ہفتہ وار وصول کر رہے ہیں جبکہ پچھلا ریکارڈ پی ایس رضویہ میں ایس ایچ او وقار قیصر کے دور میں (3؍دسمبر 2024 تا 5 ؍مئی 2025) گٹکا ماوا فروخت کرنے والا (اشفاق کاٹھیاواڑی اور ذیشان ملا) سے بھی ہفتہ وار لینے میں ملوث تھے ، جس پر IR کے مطابق 5 ؍مئی 2025کو ایس ایچ او وقار قیصر اور ہیڈ کانسٹیبل کی معطلی ہوئی تھی، انکوائری افسر کا مزید کہنا تھا کہ ہیڈ کانسٹیبل سہراب اکثر سادہ کپڑوں میں رہتا ہے اور ایس ایچ او عزیزآباد وقار قیصر کے دفتر کے اندر غیرقانونی سرگرمیاں ہوتی ہیں لہٰذا ان دونوں کے خلاف الزامات ثابت اور درست ہیں، کراچی پولیس چیف کی جانب سے بھیجے گئے شوکاز نوٹس میں ایس ایچ او عزیزآباد وقار قیصر اور ہیڈ کانسٹیبل سہراب کو کہا گیا ہے کہ اگر آپ کو بھیجے گئے شوکاز نوٹس کا جواب مقررہ مدت کے اندر موصول نہیں ہوتا، تو فیصلہ میرٹ پر کیا جائے گا‘‘۔ واضح رہے کہ شوکاز نوٹس جاری کیے دو ہفتوں سے زیادہ وقت گزر گیا اور ایس ایچ او عزیزآباد وقار قیصر اور اس کا خاص بیٹر ہیڈ کانسٹیبل سہراب اب تک تھانہ عزیزآباد میں ہی تعینات ہیں، علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ ایسی کون سی گیدڑ سنگھی ان دونوں کے پاس ہے کہ دونوں کے جرائم ثابت ہونے کے باوجود بھی اب اپنی کرسیوں پر موجود ہیں، علاقہ مکینوں نے مزید کہا کہ کراچی پولیس چیف ایس ایچ او عزیزآباد وقار قیصر اور ہیڈ کانسٹیبل سہراب کو جرم ثابت ہونے پر فی الفور نوکری سے برخاست کریں، کیونکہ جوا سٹہ کے علاوہ خاص کر گٹکا ماوا عزیزآباد کی ہر گلی میں کھلے عام فروخت ہو رہا ہے جس سے نئی نسل تباہ ہو رہی ہے اور اس کے ذمہ دار یقینا ایس ایچ او عزیزآباد وقار قیصر اور ہیڈ کانسٹیبل سہراب ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: ایس ایچ او عزیزآباد وقار قیصر اور وقار قیصر اور ہیڈ کانسٹیبل کراچی پولیس چیف کی جانب سے میں ایس ایچ او وقار قیصر اور ہیڈ کانسٹیبل سہراب ہیڈ کانسٹیبل سہراب کو جاری کیا گیا شوکاز نوٹس گٹکا ماوا کے مطابق ہفتہ وار جوا سٹہ پی ایس ہے اور

پڑھیں:

کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ

مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ ایف آئی اے امیگریشن نے دبئی جانے والے مسافر سید ظل اللہ احسان الزمان کو جعلی یو اے ای ریزیڈنس، ورک ویزا پر سفر کی کوشش کے دوران آف لوڈ کر دیا۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق دورانِ بورڈنگ عملے کو ٹکٹ کی تفصیلات ایئرلائن سسٹم میں نہ ملنے پر مسافر کو مزید جانچ کیلئے روکا گیا، تفصیلی جانچ کے دوران پیش کردہ یو اے ای ورک ویزا جعلی اور بوگس پایا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں مسافر نے انکشاف کیا کہ اس نے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کرنے والے ایجنٹ ملک شہباز اعوان سے بیرون ملک ملازمت کے انتظامات کروائے تھے، مذکورہ ایجنٹ مبینہ طور پر ’’مَلک اوورسیز‘‘ کے نام سے جوہرآباد، خوشاب میں کام کر رہا ہے۔

مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ ادائیگیاں مختلف جاز کیش اور بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی گئیں۔ مسافر نے مؤقف اختیار کیا کہ اسے ویزا کے جعلی ہونے کا علم نہیں تھا اور وہ خود بھی ویزا فراڈ کا شکار ہوا ہے۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق مسافر کو تمام متعلقہ دستاویزات سمیت مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات کیلئے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکو گرفتار
  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟