Juraat:
2026-07-24@06:25:58 GMT

کیڈٹ کالج پرحملہ اور افغانستان

اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT

کیڈٹ کالج پرحملہ اور افغانستان

ریاض احمدچودھری

کیڈٹ کالج وانا پر حملے کرنے والے دہشت گردوں اور حملے کی منصوبہ بندی کے حوالے سے سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ کیڈٹ کالج وانا پر حملہ کرنے والے تمام دہشتگرد افغان شہری تھے اور حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی جبکہ اس کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا حتمی حکم خارجی نورولی محسود نے دیا – دہشت گرد پوری کاروائی کے دوران افغانستان سے ملنے والی ہدایات پر عمل پیرا تھے، حملے کی منصوبہ بندی خارجی "زاہد” نے کی اور خارجی نور ولی محسود کے حکم پر حملے کی ذمہ داری "جیش الہند” کے نام سے قبول کیـ خارجی نورولی فتنہ الخوارج (TTP ) سے ذمہ داری ہٹانا چاہتا تھا، اِسی لئے حملے کے دوران بنائی گئی ویڈیو میں خارجی بار بار جیش الہند کا نام لیتا رہا۔افغان طالبان کی طرف سے فتنہ الخوارج پر دباؤ رہتا ہے کہ اپنی اصلی شناخت استعمال نہ کریں کیونکہ ان پر پاکستان اور دوست ممالک کا دباؤ بڑھتا ہے۔ آڈیو میں سنا جا سکتا ہے کہ خوارج "جیش الہند” کا متعدد بار نام لیتے ہوئے اردو میں بات کر رہا ہے تا کہ اصل شناحت سامنے نہ آئے۔ اس حملے کیلئے تمام سازوسامان افغانستان سے فراہم کیا گیا، جس میں امریکی ساختہ ہتھیار شامل تھے۔
کیڈٹ کالج وانا پر حملے کا مقصد پاکستان میں سیکورٹی خدشات بڑھانا تھا جو کہ بھارتی ایجنسی RAW کی ڈیمانڈ تھی۔ حملے میں مارے گئے افغان دہشت گردوں کی شناخت نے تمام شکوک و شبہات ختم کر دیے تاہم نیشنل ایکشن پلان اور عزم اے استحکام کے تحت آخری دہشتگرد ختم ہونے تک انشاء اللہ آپریشن جاری رہیں گے۔علاوہ ازیں سکیورٹی اداروں نے وفاقی دارالحکومت میں جوڈیشل کمپلیکس پر ہونے والے خودکش حملے کے سہولت کار اور ہینڈلر کو گرفتار کر لیا۔پولیس ذرائع کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے برق رفتاری سے کارروائی کرتے ہوئے دونوں ملزمان کو حراست میں لیا، سہولت کار گزشتہ ایک ماہ سے راولپنڈی میں مقیم تھا جبکہ ہینڈلر کو خیبرپختونخوا سے گرفتار کیا گیا، پولیس اور حساس اداروں نے اب تک پانچ افراد کو حراست میں لیا ہے۔ خودکش حملے سے قبل سہولت کار اور خودکش بمبار دونوں نے جوڈیشل کمپلیکس کی متعدد بار ریکی کی تاکہ حملے کی منصوبہ بندی کو حتمی شکل دی جا سکے، ملزمان کو گرفتار کرنے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیاہے۔ سہولت کار کو ڈھوک پراچہ کے علاقے سے گرفتار کیا گیا اور وہ راولپنڈی کینٹ کے اہم مقامات کی ریکی بھی کرتا رہا، سہولت کار اور ہینڈلر کو 40 گھنٹوں کے اندر گرفتار کر لیا گیا۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بتایا ہے کہ اسلام آباد کچہری پر ہونے والے حالیہ حملے کا خودکش بمبار افغانستان سے تعلق رکھتا تھا، ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ حملہ آور نہ تو پاکستانی زبان سمجھ سکتا تھا اور نہ پاکستانی کرنسی کے نوٹوں سے واقف تھا۔ خودکش بمبار اسلام آباد میں داخل ہونے کے بعد مختلف موٹر سائیکلوں پر سفر کرتا رہا اور دورانِ تفتیش یہ بھی معلوم ہوا کہ اسے پاکستانی کرنسی میں کرایہ ادا کرنے میں دشواری پیش آ رہی تھی۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے وانا کیڈٹ کالج کا دورہ کرتے ہوئے میں کہا ہے کہ افغانستان دہشت گردی میں ملوث ہے اور کسی کو بھی پاکستان میں امن و امان کو تباہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے دہشتگردوں کو انسانیت سے عاری درندوں کا ٹولہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ وانا کیڈٹ کالج میں اے پی ایس پشاور جیسے سانحے کو دہرانا چاہتے تھے، لیکن پاک فوج کے شاندار آپریشن نے اس منصوبے کو ناکام بنا دیا۔ پاک فوج نے سرحدی علاقوں کی نگرانی سخت کر دی ہے اور پاکستان کے تمام بارڈرز کو محفوظ بنانے پر کام جاری ہے۔اس موقع پر وانا کے عمائدین نے وفاقی حکومت کا شکریہ ادا کیا اور بتایا کہ علاقے میں تعلیمی ادارے، صحت کے مراکز اور دیگر ترقیاتی منصوبے کامیابی سے جاری ہیں۔ انہوں نے حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کا یقین بھی دلایا۔
افغان طالبان اور بھارتی اسپانسرڈ دہشت گردوں کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے والے سکیورٹی فورسز کے جوان قوم کے ہیرو ہیں۔افغانستان میں کی جانے والی کارروائیاں غیر ریاستی عناصر اور دشمن کے غیر مرکزی ڈھانچوں کو نشانہ بنانے کیلئے سب ٹیکٹیکل جنگی حکمت عملی پر منحصر تھیں۔ ایم ڈی اوز کا استعمال عام طور پر ریاستی افواج کے خلاف کیا جاتا ہے۔ جبکہ افغانستان میں آپریشنز تقریباً مکمل طور پر بغیر پائلٹ کے جنگی فضائی گاڑیوں کے ذریعے کیے گئے۔پاکستان نے حال ہی میں متعارف کرایا گیا بیٹل فیلڈ مینجمنٹ سسٹم (بی ایف ایم ایس)، جو کہ زمینی اور فضائی افواج سے حقیقی وقت کی خفیہ معلومات کو یکجا کرنے والا ایک سافٹ ویئر پلیٹ فارم ہے۔ استعمال کیا۔ بی ایف ایم ایس نے کمانڈ یونٹس کو ہیومنٹ (انسانی ذہانت/انٹیلی جنس) کی بنیاد پر حملے کی بہترین حکمت عملیاں طے کرنے کے قابل بنایا۔ آرٹلری یونٹس بھی اس سسٹم کے ساتھ مربوط تھے اور انہیں دہشت گردوں کی سرحدی پوزیشنوں کو غیر موثر بنانے کیلئے موثر طریقے سے استعمال کیا گیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: حملے کی منصوبہ بندی سہولت کار کیڈٹ کالج پر حملے کیا گیا

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکوں میں شدت
  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار