اسلام آباد(نیوزڈیسک) وزیردفاع خواجہ آصف نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان دراندازی کر رہا ہے، اس میں بھارت کا ہاتھ ہے، سعودی عرب،یو اے ای،ایران اور چین سمیت دیگر ممالک چاہتے ہیں پاکستان میں دراندازی ختم ہو، افغانستان دہشت گردوں کی آماج گاہ بن چکا ہے۔

تفصیلات کے مطابق خواجہ آصف کا کہناتھا کہ بھارت نہیں چاہتا پاکستان اور افغانستان کے معاملات بہتر ہوں، پاکستان 2محاذوں پر انگیج ہو گا تو اس صورتحال میں ہو سکتا ہے بھارت ہمارے ساتھ لڑائی کا رسک نہ لے، بھارت کو ہر کوئی یاد کروا رہا ہے کہ انہیں ہزیمت اُٹھانا پڑی، بھارتی آرمی چیف کے بیان کو نظرانداز نہیں کر سکتے، ہم بھارت پر کسی صورت اعتماد نہیں کر سکتے،بھارت سرحد پر بھی حملہ کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ غزہ سےمتعلق پاکستان کو بین الاقوامی فورسز کا حصہ بننا چاہیے، پاکستان ابراہم اکارڈ میں جانے کا نہیں سوچ رہا،ابراہم اکارڈ سے متعلق پاکستان کا مؤقف باکل واضح ہے، دوریاستی حل تک پاکستان کے مؤقف میں تبدیلی نہیں ہو سکتی۔

خواجہ آصف کا کہناتھا کہ این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ کم نہیں کریں گے، صوبوں کو کہیں گے دفاع اور قرضے میں اپنا حصہ ڈالیں، فیملی پلاننگ اہم مسئلہ ہے،آبادی بڑھنا ایک بم کی طرح ہے، ہم نے18ویں ترمیم کے ساتھ بددیانتی کی ہوئی ہے، اختیارات پر چاروں صوبوں کے دارالخلافہ کے سیاستدانوں نے قبضہ کیا ہوا، پاکستان میں سب سے زیادہ طاقت بیوروکریسی کے پاس ہے، جب تک بیوروکریسی کی طاقت سیاستدانوں یا منتخب لوگوں کو نہیں ملےگی،کوئی مسئلہ حل نہیں ہو گا، فیض حمید کے ٹرائل کے حوالے سے مجھے کوئی علم نہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • بدقسمت خواجہ سرا۔۔۔؟
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا