WE News:
2026-06-03@05:32:33 GMT

28ویں آئینی ترمیم کب آئےگی اور اس میں کیا تجاویز ہوں گی؟

اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT

28ویں آئینی ترمیم کب آئےگی اور اس میں کیا تجاویز ہوں گی؟

حکومت نے گزشتہ سال 26ویں آئینی ترمیم منظور کرائی تھی جس کے فوری بعد 27ویں آئینی ترمیم کی باز گشت ہونے لگی تھی، اور اب رواں ماہ 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری سے قبل ہی سینیٹر فیصل واؤڈا نے کہا تھا کہ 27ویں تو منظور ہو ہی جائے گی میڈیا والے 28ویں ترمیم کی تیاری کریں۔

ایسا ہی ہوا کہ 27 آئینی ترمیم کی منظوری کہ چند دنوں بعد ہی 28 آئینی ترمیم انے کی بھی باتیں زور پکڑ رہی ہیں اور حکومتی رہنماؤں کی جانب سے بھی اس کی تصدیق کی جا چکی ہے۔

مزید پڑھیں: استعفے دینے والے ججوں کے ذاتی مقاصد ہیں، 28ویں آئینی ترمیم بھی جلد پاس ہوگی، رانا ثنااللہ

’وی نیوز‘ نے جاننے کی کوشش کی کہ 28ویں آئینی ترمیم کب تک آ سکتی ہے اور اس ترمیم کے ذریعے آئین میں کیا تبدیلی کی جا سکتی ہے۔

وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے کہاکہ حکومت نے 27ویں آئینی ترمیم کے وقت ایم کیو ایم کے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ بلدیاتی نظام کی مضبوطی کے لیے بھی آئین میں ترمیم کی جائے گی لیکن وہ اس وقت پیپلز پارٹی کے اعتراضات کے باعث نہ ہو سکی تھی۔

’اس لیے بلدیاتی نظام کی مضبوطی کے لیے آرٹیکل 140 اے میں ترمیم کے علاوہ این ایف سی اور تعلیم سے متعلق اصلاحات کے لیے 28ویں آئینی ترمیم تجاویز دی جائیں گی، اس ترمیم میں بجٹ سے متعلق بھی ترامیم ہوں گی اور اس کی منظوری یقینی طور پر بجٹ سے قبل ہوگی۔‘

انہوں نے کہاکہ امکان ہے اپریل سے پہلے 28ویں ترمیم کی منظوری ہو جائے گی، اس ترمیم کا براہِ راست تعلق بجٹ سے بھی ہوگا۔

بیرسٹر عقیل ملک نے کہاکہ 28ویں ترمیم میں اپنے دوسرے اتحادیوں کے مطالبات کو بھی مدنظر رکھا جائے گا، بلدیاتی نظام میں کچھ تبدیلیاں کی جائیں گی۔ وزیراعظم نے اس سے متعلق قومی اسمبلی میں بھرپور اظہار خیال کیا ہے تو اس ترمیم کو بھی اتفاق رائے سے منظور کیا جائےگا۔

مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما رانا ثنا اللہ بھی 28ویں ترمیم آنے کی تصدیق کرتے ہوئے واضح کر چکے ہیں کہ یہ ترمیم لوکل باڈیز، این ایف سی اور صحت سے متعلق ہوگی۔

ان کے مطابق اس ترمیم میں زیادہ ترامیم عوامی معاملات سے متعلق ہوں گی۔ ’اس وقت بلدیاتی نظام، این ایف سی اور صحت کے معاملات پر اتحادیوں کے ساتھ مشاورت جاری ہے، اگر اتفاق ہوتا ہے تو جلد 28ویں آئینی ترمیم لائی جائے گی۔‘

سینیئر تجزیہ کار مظہر عباس نے کہاکہ جس طرح کے ملکی سیاسی حالات ہیں کوئی بھی ترمیم کسی بھی وقت ہو سکتی ہے، پیپلز پارٹی اور بلاول بھٹو کے لیے 18ویں آئینی ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کے معاملہ بہت حساس ہے لیکن میرا خیال ہے کہ ابھی تو اٹھارویں ترمیم پر بھی صحیح طرز پر عملدرآمد نہیں ہوا۔

انہوں نے کہاکہ صوبائی فائنانس کمیشن بننا تھا، جس کا قیام نہیں ہو سکا، 18ویں ترمیم میں اختیارات کی منتقلی کی بات ہوئی تھی لیکن وہ بھی نہیں ہو سکے ہیں۔ ابھی تو 18ویں ترمیم پر بھی مکمل سے عمل نہیں ہوا تو اس میں مزید ترمیم سے پیپلز پارٹی یا مسلم لیگ ن کیا حاصل کر سکے گی؟

مظہر عباس نے کہاکہ اس وقت حکومت کو آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے مطلوبہ عددی حمایت بھی حاصل ہے جبکہ اپوزیشن یا کسی بار کونسل یا وکلا برادری کی جانب سے اس کی کوئی منظم مخالفت نہیں کی جا رہی۔

مزید پڑھیں: اپوزیشن اتحاد کا 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف شدید ردعمل، یوم سیاہ اور مارچ کا اعلان کردیا

انہوں نے کہاکہ ججوں کے استعفیٰ دینے کے باوجود وکلا کی کوئی تحریک سامنے نہیں آئی جو کہ ماضی میں سامنے آتی رہی ہے، اس لیے حکومت کے لیے آئینی ترمیم کرنا آسان ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

18ویں ترمیم wenews آئینی ترمیم باز گشت پیپلز پارٹی سینیٹر فیصل واوڈا وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: 18ویں ترمیم پیپلز پارٹی سینیٹر فیصل واوڈا وی نیوز ترمیم کی منظوری آئینی ترمیم کی بلدیاتی نظام پیپلز پارٹی 28ویں ترمیم ایف سی نے کہاکہ ترمیم کے نہیں ہو جائے گی کے لیے

پڑھیں:

جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟

اسلام ٹائمز: اس مخمصے سے نکلنے کے لیے امریکہ کے سامنے دو ہی راستے تھے، ایک طرف جنگ کو وسعت دینے کا اسرائیلی حمایت یافتہ راستہ تھا، تاکہ شکست کی دھند کو بارود کے دھوئیں میں چھپایا جا سکے۔ چنانچہ امریکہ نے ایران کو عالمی خطرہ بنا کر پیش کیا اور یورپی و نیٹو اتحادیوں کو شامل کرنے کی کوشش کی، مگر یورپ نے فاصلہ اختیار کرنے میں عافیت جانی۔ تحریر: سید محمد

کسی پرانے جوئے خانے کی ایک کہاوت مشہور ہے "تم اس وقت تک حقیقتاً نہیں پھنستے جب تک تمہیں یہ احساس نہ ہو جائے کہ باہر نکلنے کا دروازہ بند ہوچکا ہے۔" مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ سیاسی بساط پر اسرائیل یہی کھیل کھیل رہا ہے۔ ظاہری بیانیے کو ایک طرف رکھیں تو ایک واضح حقیقت سامنے آتی ہے: اسرائیل ایران کی ایٹمی صلاحیت یا میزائل پروگرام سے کم اور امریکی انخلا کے محض امکان سے زیادہ خوفزدہ ہے۔ یہ خوف کوئی معمولی تشویش نہیں بلکہ ایک ایسی وحشت ہے، جو اسرائیلی حکمتِ عملی کے ہر پہلو کو تشکیل دے رہی ہے۔

اسرائیل ہر اس راستے کو سبوتاژ کرتا دکھائی دیتا ہے، جو واشنگٹن کو بحران سے نکلنے کا راستہ فراہم کرسکے۔ یہاں جنگ کا مقصد دشمن کو شکست دینا نہیں بلکہ اتحادی کو اس حد تک اندر کھینچ لینا ہے کہ وہ خود جنگ کا قیدی بن جائے۔ سوال یہ نہیں کہ امریکہ اس تنازعے میں شریک رہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اس حد تک شریک ہو جائے کہ بعد میں الگ نہ ہوسکے۔ یہ حکمتِ عملی ایک نفسیاتی اور سیاسی جال کی صورت اختیار کرچکی ہے۔ ابتدا ہی سے اسرائیل نے ٹرمپ کو ایران کے ساتھ براہِ راست تصادم کی طرف دھکیلا اور ٹرمپ اپنی طاقت اور امریکی بالادستی کے تصور میں اس قدر گرفتار رہا کہ اسے واپسی کا راستہ دکھائی نہ دیا۔

ایران اور مزاحمتی محاذ کی استقامت نے امریکی عسکری برتری کے اُس طلسم کو چیلنج کر دیا، جسے دہائیوں سے ناقابلِ شکست تصور کیا جاتا تھا۔ اربوں ڈالر کے دفاعی نظام، جدید ٹیکنالوجی اور وسیع عسکری اتحاد بھی خطے میں پیدا ہونے والی نئی بے یقینی کو روک نہ سکے، جبکہ امریکی دفاعی چھتری اور اڈوں کی محدودیت پہلے سے زیادہ نمایاں ہوگئی۔ اسی میدان میں اہداف کا مسلسل سکڑنا بھی صورتِ حال کا مظہر تھا۔ ایران میں رجیم تبدیلی جیسے بڑے ہدف سے شروع ہونے والا معرکہ بلاشرط ہتھیار ڈالنے کے مطالبے، دفاعی صلاحیتوں کو محدود کرنے اور بالآخر آبنائے ہرمز کو کھلوانے جیسے محدود اہداف تک سمٹ آیا، جبکہ امریکی دھمکیاں بھی بتدریج ایرانی سویلین انفراسٹرکچر اور پاور پلانٹس کو نشانہ بنانے تک گر آئیں۔

اس مخمصے سے نکلنے کے لیے امریکہ کے سامنے دو ہی راستے تھے، ایک طرف جنگ کو وسعت دینے کا اسرائیلی حمایت یافتہ راستہ تھا، تاکہ شکست کی دھند کو بارود کے دھوئیں میں چھپایا جا سکے۔ چنانچہ امریکہ نے ایران کو عالمی خطرہ بنا کر پیش کیا اور یورپی و نیٹو اتحادیوں کو شامل کرنے کی کوشش کی، مگر یورپ نے فاصلہ اختیار کرنے میں عافیت جانی۔ دوسری طرف سفارتی اخراج کا راستہ تھا، مگر یہاں بھی مسئلہ یہ تھا کہ اسرائیل جس صف بندی کو اپنی سلامتی کے لیے ضروری سمجھتا ہے، وہی امریکہ کے علاقائی اتحادیوں کے لیے معاشی، سیاسی اور سکیورٹی خطرات کا باعث بن سکتی تھی۔

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور دیگر خلیجی ریاستیں اپنی معیشتوں، توانائی کی تنصیبات اور سرمایہ کاری کے مراکز کے باعث براہِ راست خطرات سے دوچار ہوسکتی تھیں۔ اسی لیے وہ ایسے راستوں کی تلاش میں تھیں، جو ضروری نہیں کہ اسرائیل کے مفادات سے ہم آہنگ ہوں۔ آج اگر امریکہ اپنے مفادات کے لیے واپس چلا جاتا ہے تو اسرائیل تنہا رہ جاتا ہے، لیکن اگر پورا امریکی وقار، افواج اور سیاسی سرمایہ اس جنگ سے جڑ جائے تو واشنگٹن کے لیے اسرائیل سے فاصلہ اختیار کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔

روایتی جنگوں کا مقصد دشمن کو شکست دینا ہوتا ہے، لیکن اسرائیل نے جنگ کو ایک ایسے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا سیکھ لیا ہے، جس کا نشانہ دشمن نہیں بلکہ اس کا سب سے بڑا اتحادی یعنی امریکہ ہے۔ لبنان کا محاذ بھی اب صرف میدانِ جنگ کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ سفارتی عمل کو متاثر کرنے کا ایک مؤثر آلہ بن چکا ہے۔ جب بھی مذاکرات یا کشیدگی میں کمی کا امکان پیدا ہوتا ہے، لبنان دوبارہ مرکزِ توجہ بن جاتا ہے۔ اس کے ذریعے کسی بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ یا سست کیا جا سکتا ہے۔ اگر امریکہ ایران کے ساتھ کسی مفاہمت تک پہنچ جاتا ہے تو یہ تاثر پیدا ہوسکتا ہے کہ خطے کے اہم معاملات اسرائیل کی براہِ راست شمولیت کے بغیر بھی طے ہوسکتے ہیں اور یہی وہ تاثر ہے، جسے اسرائیل ٹوٹنے نہیں دینا چاہتا۔

بعض ریاستوں کے لیے مستقل بحران خود ایک قیمتی سرمایہ بن جاتا ہے۔ جاری کشیدگی اتحادیوں کو متحد اور سکیورٹی خدشات کو زندہ رکھتی ہے۔ اسرائیل کے لیے فوری امن یا جامع سیاسی تصفیہ شاید اتنا مفید نہیں جتنا ایک ایسا کنٹرولڈ بحران جو مسلسل مغربی حمایت اور علاقائی توجہ کو اس کی طرف کھینچے رکھے۔ یہ تمام عوامل امریکہ کو ایک غیر معمولی اسٹریٹجک دباؤ کے دائرے میں دھکیل چکے ہیں۔ ایک طرف ایران کی ایسی مزاحمت ہے، جو کسی حتمی فوجی حل کو ناممکن بناتی ہے، دوسری طرف اسرائیل کی خواہش ہے کہ واشنگٹن مکمل طور پر بحران میں جکڑا رہے، جبکہ تیسری طرف علاقائی اتحادی کشیدگی میں کمی چاہیتے ہیں تاکہ ان کی معیشتیں اور داخلی استحکام محفوظ رہ سکیں۔ نتیجتاً امریکہ ایک ایسی پوزیشن میں کھڑا ہے، جہاں آگے بڑھنا بھی خطرناک ہے، پیچھے ہٹنا بھی مشکل اور جمود بھی اتحادیوں کے اعتماد کو کھوکھلا کر رہا ہے۔

جنگیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں جیتی جاتیں بلکہ بعض اوقات ان کی سب سے بڑی کامیابی مخالف اتحاد کے اندر موجود تضادات، کمزوریوں اور متصادم مفادات کو بے نقاب کرنے اور اس کے سیاسی، سفارتی اور اسٹریٹجک ڈھانچے میں دراڑیں نمایاں کرنے میں ہوتی ہے۔ اسی تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حماقت سے نارملائزیشن فریم ورک کو شدید دھچکا پہنچنے کے باوجود، سعودی عرب، قطر، پاکستان، ترکی، مصر اور اردن جیسے ممالک پر ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت اور واضح سیاسی صف بندی کے لیے دباؤ بڑھانا بھی قابلِ توجہ ہے۔ عملاً اس کا مطلب یہ ہے کہ ان ممالک سے ایک ایسے بحران میں اپنی پوزیشن واضح کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، جس کے ممکنہ عسکری، معاشی اور سیاسی نتائج کا بوجھ بھی انہیں خود اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • شاداب خان نے اچھی اننگ کھیلی ،وہ باؤلر سے اچھے آل راؤنڈر بن گئے ؛ مائیک ہیسن
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار