27ویں آئینی ترمیم کے نتیجے میں سپریم جوڈیشل کونسل، جوڈیشل کمیشن اور پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کی تشکیل نو کردی گئی۔

سپریم کورٹ نے اعلامیہ جاری کردیا، سپریم کورٹ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق دونوں چیف جسٹس صاحبان کی مشاورت سے جسٹس جمال خان مندوخیل سپریم کورٹ جوڈیشل کونسل کے ممبر بن گئے۔

جسٹس عامر فاروق جوڈیشل کمیشن کے ممبر نامزد کیے گئے، جسٹس جمال خان مندوخیل پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کے ممبر نامزد کیے گئے،  چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سپریم جوڈیشل کونسل کے سربراہ ہونگے۔

چیف جسٹس امین الدین خان جوڈیشل کونسل کے دوسرے سینئر ممبر ہونگے، جسٹس منیب اختر جسٹس حسن رضوی، جسٹس جمال مندوخیل جوڈیشل کونسل کے رکن ہونگے، جسٹس مندوخیل کی نامزدگی دونوں چیف جسٹس نے مشاورت سے کی۔

چیف جسٹس یحیی آفریدی جوڈیشل کمیشن کے سربراہ ہونگے، چیف جسٹس امین خان جسٹس منیب اختر کمیشن کے رکن ہونگے، جسٹس حسن رضوی، جسٹس عامر فاروق جوڈیشل کمیشن کے ممبر بن گئے۔

ان کے علاوہ وزیر قانون اعظم تارڑ،  اٹارنی جنرل منصور اعوان کمیشن کے رکن ہونگے، حکومتی اور اپوزیشن کے دو دو ارکان پارلیمان کمیشن کے رکن ہونگے، پاکستان کا بار کونسل نامزد وکیل اور اسپیکر قومی کی نامزد خاتون کمیشن کی ممبر ہونگے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: جوڈیشل کونسل کے جوڈیشل کمیشن کے رکن ہونگے چیف جسٹس کمیشن کے کے ممبر

پڑھیں:

آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری

الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔

الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔

اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن