Juraat:
2026-06-03@06:43:55 GMT

ہندوتوا کی آگ میں جلتا بھارت سیکولر ازم کا جنازہ

اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT

ہندوتوا کی آگ میں جلتا بھارت سیکولر ازم کا جنازہ

پروفیسر شاداب احمد صدیقی

بھارت آج نریندر مودی کی قیادت میں انتہا پسندی، فرقہ واریت اور نفرت کے ایک ایسے دائرے میں داخل ہو چکا ہے ، جس سے واپسی اب مشکل دکھائی دیتی ہے ۔ مودی سرکار کی ”ہندوتوا” پالیسی نے نہ صرف بھارت کے سیکولر آئین کو کمزور کیا ہے بلکہ اس کے جمہوری اور انسانی حقوق کے بنیادی ڈھانچے کو بھی منہدم کر دیا ہے ۔ ”ایک قوم، ایک مذہب”کا نعرہ دراصل بھارت کے اندر ایک مخصوص طبقے ، ہندو بالادست گروہ کی حکمرانی کا اعلان ہے ، جس کے نتیجے میں اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں کو دوسرے درجے کے شہری میں تبدیل کیا جا رہا ہے ۔ گزشتہ برسوں میں ہندو مذہبی رہنماؤں کی نفرت انگیز تقاریر، عسکری اداروں کی انتہا پسند تنظیموں سے قربت، اور سیاسی قیادت کی خاموش تائید نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ہندوتوا اب صرف ایک نظریہ نہیں بلکہ بھارت کی ریاستی پالیسی بن چکی ہے ۔گزشتہ چند برسوں کے واقعات اس تبدیلی کے ناقابلِ تردید ثبوت ہیں۔ مختلف شہروں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پر مبنی جلوس، مساجد پر حملے ، اور سوشل میڈیا پر پھیلتی ہوئی نفرت انگیز مہمات نے بھارتی سماج کے چہرے سے جمہوریت کا نقاب اتار دیا ہے ۔ ”اسلام کو دنیا سے مٹانے ” یا ”مسلمانوں کو جڑ سے اکھاڑنے ” جیسے بیانات محض انتہا پسندوں کی زبان سے نہیں بلکہ اب سیاسی جلسوں میں حکومتی رہنماؤں کے بیانات کا حصہ بن چکے ہیں۔ یہ طرزِ فکر نہ صرف بھارت کے معاشرتی اور سماجی نظام کو تباہ کر رہا ہے بلکہ جنوبی ایشیا کے امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن چکا ہے ۔بی جے پی اور آر ایس ایس کے نظریات اسی ہندوتوا فلسفے کی بنیاد پر قائم ہیں۔آر ایس ایس کے بانی ہیڈگیوار اور گولوالکر نے بیسویں صدی کے اوائل میں جو فکری بیج بویا، وہ آج نریندر مودی کی حکومت میں مکمل درخت کی شکل اختیار کر چکا ہے ۔ آج نریندر مودی، امیت شاہ، یوگی آدتیہ ناتھ اور بی جے پی کی پوری قیادت انہی دونوں کے نظریات کو عملی جامہ پہنا رہی ہے ۔ان کے نزدیک بھارت ایک ”ہندو راشٹر” ہے ، جہاں دیگر مذاہب صرف اسی وقت برداشت کیے جا سکتے ہیں جب وہ ہندو تہذیب کے تابع رہیں۔ نریندر مودی، جو خود آر ایس ایس کا تربیت یافتہ کارکن ہے ، اسی سوچ کو عملی جامہ پہنا رہا ہے ۔ اس کی حکومت کے اقدامات جیسے آرٹیکل 370 کی منسوخی، این آر سی اور سی اے اے جیسے امتیازی قوانین، اور مسلمانوں کے خلاف بلڈوزر پالیسی، سب اسی ذہنیت کے مظاہر ہیں۔ اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ، جو ”ہندو یووا واہنی”کا بانی ہے ، سناتن دھرم کے غلبے کی بات کھلے عام کرتا ہے ، جس سے مذہب و ریاست کی لکیر مکمل طور پر مٹ چکی ہے ۔گجرات 2002 کے فسادات سے لے کر دہلی 2020 اور منی پور 2023 کے واقعات تک، مسلمانوں کے خلاف منظم تشدد مودی کے دورِ حکومت کی پہچان بن چکا ہے ۔ گائے کے نام پر ہجوم کے ہاتھوں بے گناہ مسلمانوں کا قتل، حجاب پر پابندی، مساجد کی بے حرمتی، اور مسلمانوں کے مکانات کو بلڈوزر سے مسمار کرنا ریاستی سرپرستی میں ہونے والے مظالم ہیں۔ اس ظلم پر عدلیہ اور پولیس کی خاموشی بھارت کے عدالتی نظام پر سوالیہ نشان ہے ۔مودی حکومت کے زیرِ سایہ میڈیا کا کردار بھی افسوسناک حد تک جانبدار ہو چکا ہے ۔ قومی سطح کے بیشتر ٹی وی چینل اور اخبارات حکومت کے پروپیگنڈا آلہ کار میں تبدیل ہو گئے ہیں۔ مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مہمات چلانا، انہیں ”ملک دشمن” یا ”دہشت گرد” قرار دینا عام معمول بن چکا ہے ۔ عوامی شعور کو مسخ کیا جا رہا ہے تاکہ اکثریتی طبقہ اقلیتوں کے خلاف مزید مشتعل ہو۔ اسی طرح تعلیمی اداروں میں نصاب کی تبدیلی کے ذریعے مسلمانوں کی علمی و تاریخی خدمات کو حذف یا منفی انداز میں پیش کیا جا رہا ہے ۔ تاریخ کے حقائق مسخ کر کے نوجوان نسل کے ذہن میں ہندوتوا کا بیج بویا جا رہا ہے ۔جمہوری معاشروں میں عدلیہ، میڈیا اور پولیس وہ ستون ہوتے ہیں جو ظلم و جبر کے خلاف عوام کا دفاع کرتے ہیں، مگر بھارت میں یہ تینوں ادارے ہندوتوا کے زیرِ اثر ہیں۔ جب مسلمانوں پر حملے ہوتے ہیں تو پولیس خاموش رہتی ہے یا مظلوموں پر ہی مقدمے قائم کر دیتی ہے ۔ عدالتیں برسوں تک فیصلے نہیں سناتیں یا حکومت کے مؤقف کے حق میں فیصلے دے دیتی ہیں۔ اس صورتحال نے بھارتی جمہوریت کے ڈھانچے کو کھوکھلا کر دیا ہے ۔افسوس کی بات یہ ہے کہ عالمی برادری خصوصاً مغربی ممالک، جو خود کو انسانی حقوق کے علمبردار سمجھتے ہیں، بھارت کے مظالم پر خاموش ہیں۔ امریکا، برطانیہ اور یورپی یونین نے بھارت کی تین اعشاریہ سات کھرب امریکی ڈالر کی منڈی کے سامنے انسانی اقدار قربان کر دی ہیں۔ اقوامِ متحدہ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹس میں بارہا واضح کیا گیا کہ بھارت میں اقلیتوں کے بنیادی حقوق پامال ہو رہے ہیں، مگر عملی اقدامات کہیں نظر نہیں آتے ۔ اس خاموشی نے مودی حکومت کو مزید شہ دی ہے کہ وہ اپنے ایجنڈے کو بلاخوف و خطر جاری رکھے۔
ہندوتوا کی یہ آگ صرف بھارت کے اندر محدود نہیں رہے گی بلکہ پورے خطے کے امن کو لپیٹ میں لے سکتی ہے ۔ جب کسی ریاست میں مذہب کو سیاست کا ہتھیار بنا دیا جاتا ہے تو اس کے اثرات سرحدوں سے آگے پھیل جاتے ہیں۔ پاکستان، بنگلہ دیش، نیپال اور سری لنکا جیسے ہمسایہ ممالک بھی اس انتہا پسندی کے اثر سے محفوظ نہیں رہیں گے ۔ بھارت کے اندر کئی دانشور، طلبہ اور سول سوسائٹی کے افراد ہندوتوا کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں، مگر انہیں ”غدار” اور ”ملک دشمن” قرار دے کر جیلوں میں بند کر دیا جاتا ہے ۔
”نیا بھارت” دراصل نفرت، تشدد اور تعصب کی نئی شناخت بن چکا ہے ۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی قوم نے ظلم کو ریاستی پالیسی بنا لیا، اس کا انجام زوال اور بربادی کے سوا کچھ نہیں ہوا۔ نریندر مودی اور اس کے انتہا پسند رفقا اگر یہ سمجھتے ہیں کہ اقلیتوں کو دباکر بھارت مضبوط ہو جائے گا، تو یہ ان کی سنگین غلط فہمی ہے ۔ ظلم وقتی طور پر طاقتور دکھائی دیتا ہے مگر اس کی بنیاد کمزور ہوتی ہے ۔ اگر بھارت کو واقعی ایک مستحکم، ترقی یافتہ اور پرامن ملک بننا ہے تو اسے اپنے سیکولر آئین کی روح کو بحال کرنا ہوگا۔ مذہب کو ریاستی امور سے الگ رکھنا، اقلیتوں کو مساوی شہری حیثیت دینا، میڈیا کو آزاد کرنا، اور عدلیہ کو دباؤ سے نکالنا ہی وہ راستے ہیں جن پر چل کر بھارت اپنا بکھرتا ہوا جمہوری چہرہ دوبارہ سنوار سکتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: مسلمانوں کے خلاف جا رہا ہے بن چکا ہے حکومت کے بھارت کے کر دیا دیا ہے

پڑھیں:

بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات

بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال اور لاپتا افراد سے متعلق جاری بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں بعض حلقوں کی جانب سے یہ مؤقف پیش کیا جا رہا ہے کہ حالیہ برسوں میں بلوچستان سے متعلق سرگرم بعض مبینہ انسانی حقوق اور میڈیا نیٹ ورکس کے پیچھے بھارت کے مبینہ اثر و رسوخ اور فنڈنگ کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق 2020 میں ’انڈین کرونیکلز‘ جیسے ناموں سے پاکستان اور خاص طور پر بلوچستان کے حوالے سے سرگرم بعض فرضی این جی اوز اور انسانی حقوق کے اداروں کے نیٹ ورک سامنے آئے، جنہیں بعض مبصرین بھارت کے بیانیہ سازی کے منصوبوں سے جوڑتے ہیں، تاہم یہ مؤقف ایک متنازع اور زیرِ بحث دعویٰ ہے جس پر مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:کراچی بڑی تباہی سے بچ گیا، ماہرنگ بلوچ کا جھوٹ بے نقاب

اسی تناظر میں حال ہی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ، جسے بعض حلقے ’ایچ آر سی بی‘ سے منسوب کر رہے ہیں، میں لاپتا افراد کے حوالے سے اعداد و شمار اور کیسز کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم اس کی کریڈیبلٹی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان حلقوں کا دعویٰ ہے کہ رپورٹ میں شامل کئی نام اور فہرستیں ایسے نیٹ ورکس سے اخذ کی گئی ہیں جو سوشل میڈیا پر پہلے سے مخصوص دعوے کرتے ہیں، اور پھر انہی دعووں کو بغیر آزادانہ اور مکمل تصدیق کے رپورٹ کا حصہ بنا لیا جاتا ہے، جسے بعض لوگ ایک “ایکوسسٹم” یا “ایکو چیمبر” قرار دیتے ہیں۔

تنقید کرنے والے مؤقف کے مطابق اس طرزِ عمل میں ایک خاص طریقۂ کار دیکھا جاتا ہے، جس میں پہلے کسی شخص کو جبری گمشدہ قرار دینے کا دعویٰ سامنے آتا ہے، پھر سوشل میڈیا پر اس پر مہم چلتی ہے، اس کے بعد وہی معلومات رپورٹس میں شامل ہو جاتی ہیں، اور پھر بین الاقوامی سطح پر انہیں بطور حوالہ پیش کیا جاتا ہے۔ تاہم بعد ازاں بعض کیسز میں مختلف حقائق سامنے آنے کے دعوے بھی کیے جاتے ہیں، جنہیں ان رپورٹس کی ساکھ پر سوال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ماہرنگ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی ایک بار پھر بے نقاب، دہشتگردوں کی پشت پناہی ثابت

اسی سلسلے میں بعض مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ چند افراد کے کیسز میں بعد میں مختلف دعوے یا وضاحتیں سامنے آئیں، جنہیں ان رپورٹس کے طریقۂ کار پر تنقید کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ناقدین کے مطابق اگر رپورٹنگ کا انحصار غیر مصدقہ سوشل میڈیا دعوؤں پر ہو تو اس کی غیر جانبداری متاثر ہو سکتی ہے، خصوصاً جب اسے کسی مخصوص سیاسی یا نظریاتی بیانیے کے ساتھ جوڑا جائے۔

دوسری جانب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ انسانی حقوق کی کسی بھی رپورٹ میں صرف ایک پہلو نہیں بلکہ تمام متاثرین کا احاطہ ہونا چاہیے، جن میں وہ شہری بھی شامل ہیں جو دہشتگردی کے واقعات میں متاثر ہوئے۔ اس ضمن میں چمن، مچ اور دیگر علاقوں میں پیش آنے والے حملوں کے متاثرین، مسافروں، اساتذہ اور مزدوروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ اگر کسی رپورٹ میں ان واقعات اور متاثرین کو نظر انداز کیا جائے تو اس کی جامعیت اور غیر جانبداری پر سوال اٹھ سکتے ہیں۔

یوں بلوچستان سے متعلق انسانی حقوق کی رپورٹس، لاپتا افراد کے اعداد و شمار اور مبینہ بیرونی اثر و رسوخ کے الزامات ایک پیچیدہ اور متنازع بحث کی صورت اختیار کر چکے ہیں، جس میں مختلف فریقین اپنے اپنے مؤقف کے ساتھ موجود ہیں اور حتمی اتفاق رائے تاحال سامنے نہیں آ سکا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انڈین کرونیکلز بھارت لاپتا افراد ماہرنگ بلوچ

متعلقہ مضامین

  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو  ہونے کا اندیشہ
  • ہماچل پردیش میں موجود اسرائیلی فوجی کی گرفتاری کے لیے بھارت پر دباؤ کیوں؟
  • بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی