وانا، اسلام آباددہشتگردی ،بھارت وطالبان گٹھ جوڑ کا نتیجہ ہے، دفاعی تجزیہ کار
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک)دفاعی تجزیہ کار بریگیڈئیر (ر) احمد سعید منہاس نے کہا ہے کہ وانا اور اسلام آباد میں جو کچھ ہوا، وہ بھارت اور افغان طالبان کے گٹھ جوڑ کا نتیجہ ہیں۔دفاعی تجزیہ کار احمد منہاس، ماہر قومی سلامتی امور سید محمد علی ، میجر جنرل (ر) زاہد محمود، بریگیڈئیر (ر) راشد ولی اور بریگیڈئیر (ر) وقار حسن نے میڈیا سےگفتگو کی۔
احمد منہاس نے کہا کہ پاکستان میں حالیہ حملے بھارت اور افغان طالبان کے گٹھ جوڑ کا نتیجہ ہیں۔سید محمد علی نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت بہار کے انتخابات پر اثرانداز ہونے کے لیے دہشت گردی کو استعمال کررہی ہے، افغان طالبان بھارت کی خوشنودی کے لیے پاکستان کے احسان بھول گئے ہیں۔
زاہد محمود نے مزیدکہا کہ بھارت کی اندرونی سیاست اور افغان گروہوں کے اختلافات دہشت گردی کی وجوہات ہیں، پاکستان اس کو پورا جواب دے گا۔
راشد ولی نے یہ بھی کہا کہ بھارت کا جنگی جنون اس وقت تک قابو نہیں آئے گا جب تک وہاں حکومت نہیں بدل جاتی۔وقار حسن نے کہا خیبر پختونخوا حکومت فیصلہ کرلے کہ وہ کس کے ساتھ ہے، اس کی بندوقوں کا رخ کس جانب ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: نے کہا
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :