Jasarat News:
2026-07-24@02:48:26 GMT

ترکیہ : فوجی اسکولوں میں شامی طلبہ کی شمولیت پر تنازع

اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

انقرہ (انٹرنیشنل ڈیسک) ترکیہ میں فوجی اداروں کے ایک فیصلے نے ملک بھر میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، خاص طور پر سیاسی حلقوں اور سوشل میڈیا پر گرم گرم بحث جاری ہے۔ یہ بحث ترکیہ میں موجود شامی طلبہ کو فوجی اسکولوں میں شامل کرنے کے فیصلے پر جاری ہے۔ یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب حکام نے اعلان کیا کہ ترکیہ کے بری اور بحری فوجی سکولوں میں 49 شامی طلبہ کو داخلہ دیا گیا ہے۔ ناقدین نے غیر ملکیوں کی ایسی تربیت میں شمولیت پر شدید اعتراض کیا۔ ترکیہ کی وزارت دفاع کے ترجمان زکی اکتورک نے 30 اکتوبر کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ مختلف فوجی تربیتی پروگراموں میں شامیوں کو شامل کیا گیا ہے۔اکتورک کے مطابق شامی فوجی اہلکاروں کو ترک مسلح افواج کی بیرکوں اور تربیتی مراکز میں تربیت دی جائے گی۔یہ اقدام 13 اگست کو ترکیہ اور شامی حکومت کے درمیان دستخط شدہ مشترکہ مشاورت اور تربیت کے معاہدے کے تحت کیا گیا ۔ اس اعلان کے بعد ترکیہ میں شدید عوامی ردعمل دیکھنے میں آیا، کیونکہ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب 5ترک فوجی افسران کو گریجویشن تقریب کے دوران ہم مصطفی کمال اتاترک کے سپاہی ہیں کا نعرہ لگانے پر فوج سے برخاست کر دیا گیا تھا۔ان افسران کے برخاست کیے جانے کے بعد سوشل میڈیا پر یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ جب ترک افسران کو قوم پرستی پر سزا دی جا رہی ہے تو غیر ملکی طلبہ کو فوجی تربیت کیوں دی جا رہی ہے۔ ترکیہ کی قوم پرست پارٹی حزب النصر کے نائب سربراہ علی شہرلی اولو نے اس فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا ان شامی طلبہ کے بارے میں تفصیلی سکیورٹی جانچ کیوں نہیں کی گئی۔ کچھ حلقے شامی فوجیوں کے انتخاب کو سخت تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں جبکہ بعض اسے دفاعی اور سفارتی نقطہ نظر سے ترکیہ کے مفاد میں قرار دے رہے ہیں۔

انٹرنیشنل ڈیسک گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی

چیک ریپبلک کے مشرقی حصے میں ایک فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں ایک فوجی ہلاک جبکہ تین دیگر زخمی ہو گئے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چیک وزارتِ دفاع اور فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حادثہ بدھ کے روز نامیشت ناد اوسلاوو ایئر فورس بیس پر پیش آیا جو دارالحکومت پراگ سے تقریباً 180 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔

حادثے کا شکار ہونے والا ہیلی کاپٹر UH-1Y Venom تھا، جس میں مجموعی طور پر 5 فوجی اہلکار سوار تھے۔ حادثے میں ایک اہلکار موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا جبکہ تین زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔

مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہیلی کاپٹر معمول کی فوجی تربیتی سرگرمی کے سلسلے میں پرواز کر رہا تھا، تاہم حکام نے ابھی تک اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے فوج نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیدی ہیں۔

چیک حکام کا کہنا ہے کہ اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں، آیا حادثہ تکنیکی خرابی، موسمی حالات یا انسانی غلطی کے باعث پیش آیا۔ تحقیقات کے نتائج سے میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔ 

 

متعلقہ مضامین

  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل