Jasarat News:
2026-06-03@05:20:18 GMT

ہمارے قومی رویے خواہشات، تمناؤں کے خواب اور تعبیر

اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251106-03-6
محسن باقری
دنیا میں گزر بسر کرتے ہوئے آج کا انسان نہ جانے کتنے اندیشوں اور تمناؤں کا شکار ہو جاتا ہے۔ عام آدمی تو ویسے ہی پریشانیوں اور دہشت زدہ زندگی سے نبرد آزما ہے اوپر سے روز مرہ کی سیاسی چپقلش جو کسی لسانی یا مذہبی تفرقہ بازی کی نفرت انگیزی سے کم نہیں اس نے ہماری عمومی زندگی میں تلاطم اور ایک کہرام بپا کر کے رکھا ہوا ہے۔ یہ اقتدار کی ایک ایسی جنگ ہے جس میں زندہ باد اور مردہ باد کے نعرے لگانے والے سیاسی کارکنان واقعتا اپنے مخالف کی زندگیوں کے در پہ ہو جاتے ہیں جبکہ اقتدار کے مزے لوٹنے کے منتظر سیاستدان روزانہ کی بنیاد پر مختلف چینلوں پر جلوہ افروز اور رونق افزا ہو کر مہنگائی، گیس، بجلی، پٹرول کی بڑھتی قیمتیں، صاف پانی کی فراہمی، تعلیم کا فقدان، اور ان جیسے اہم اشوز کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے گھسے پٹے موضوعات پر مختلف رویے اپناتے ہوئے ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچتے نظر آتے ہیں۔ عام آدمی کا رویہ اس بات کی غمازی کر رہا ہے کہ وہ اس سیاسی چپقلش سے اُکتا گیا ہے۔ اس حقیقت کو کون نظر انداز کر سکتا ہے کہ ہماری خواہشات اور تمنائیں بنیادی حقوق، تعلیم، ضروریات زندگی اور معیار زندگی کے حوالے سے گھری ہوئی ہیں جن کا موجودہ نظام میں رہتے ہوئے پورا ہونا ناممکنات میں سے ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر نظام کیسے تبدیل ہو، نظام کی تبدیلی تو بہت دور کی بات ہے عمومی طور سے لوگ ان موضوعات پر بات کرنا پسند نہیں کرتے تو دوسری جانب اپنے نہاں خانوں میں کچھ بت بھی تراش کر رکھے ہوئے ہیں اور افسوس کہ بنی اسرائیل کی طرز پر سیاسی سحر، بچھڑے اور ساحروں کی عقیدت میں بری طرح گرفتار ہیں۔ ایک سیاست لٹیروں، چوروں اور غاصبوں کو عروج عطا کرتی ہے یہ سیاست ساحروں اور شعبدہ بازوں کی سیاست ہے، ایک سیاست پیغمبرانہ انداز سیاست ہے جو ساحروں اور شعبدہ بازوں سے عوام کو برسر عام متنبہ کرتی ہے، بڑے پیمانے پر خدمت خلق اور معاشرے میں دین اور دنیا کے حوالے سے تعلیم تربیت اور علم کے فروغ کے لیے کوشاں رہنا اس طرز سیاست کا شعار ہے۔

اکثر مایوسیوں کے رویے بھی ہمارے

سامنے آتے ہیں کہ موجودہ ظلم کا نظام تبدیل نہیں ہو سکتا یا یہ کہ اس قوم کو اور اس نظام کو بدلنے کے لیے نہ جانے کتنی دہائیاں درکار ہوں گی لیکن دوسری جانب ہم خلفائے راشدین کو دیکھتے ہیں کہ ان کو تو بس ایک ہی اور وہ بھی مختصر دورانیہ حکومت کے لیے ملا تھا لیکن اس میں بھی وہ تاریخ ساز کام کر گئے، عمر بن عبدالعزیزؒ خلیفہ راشد خلیفہ خامس نے کرپشن کے خاتمے کے حوالے سے جو اقدامات کیے چاہے وہ ان کی اہلیہ کے ہار کی بیت المال میں واپسی ہو یا ظلم سے جاگیر ہتھیانے والے شاہی خاندان سے متعلق رشتہ داروں کی دستاویزات کو جلا دینا اور انہیں قومی ملکیت میں واپس کرنا ہو وہ آج تاریخ کے ماتھے پر سنہری حروف سے کندہ ہیں۔ ان عظیم المرتبت شخصیات کی گھریلو زندگی جہاں زُہد و تقویٰ کی لا زوال مثال تھی وہیں ان کی حکمرانی مثالی تھی، ان اصحاب کے مقرر کردہ گورنر، وزراء اور سفراء کی زندگیاں عوام کی خدمت کے لیے وقف تھیں، ان کے مقرر کردہ فوجی جرنیل وقت کی ’’سپر پاور‘‘ اور بڑے بڑے سورماؤں کو بھی خاطر میں نہیں لاتے تھے، ناممکن کو ممکن بنانے، دین کے غلبہ کے لیے جرأت اظہار میں، گویا آپ اپنی جگہ علم و حکمت سے ان کی زندگیاں معمور تھیں، یہ اصحاب متانت شرافت اور کردار کے لحاظ سے بہت شفاف اور اْجلے تھے۔ ماضی اور حال کی مرکز اور صوبوں میں براجمان حکمران جماعتیں اگر اِسی انداز سیاست اور حکمرانی کو اپناتیں تو آج پاکستان کے عوام خوشحال اور دنیا میں نام ہوتا، ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم نہ چاہنے کے باوجود اس گلے سڑے اور ظلم کے نظام میں رہنے کے خوگر ہو گئے ہیں۔ حکمرانوں نے تو عزت نفس کہیں رہن یا گروی رکھائی ہوئی ہے، کْل عالم میں کاسہ ِ گدائی ہمارا قومی نشان اور حکمرانوں کی پہچان بنا ہوا ہے۔ یہ کیسے حکمران ہیں جو عوام کے خون پسینہ کی کمائی سے ادا ہونے والے ٹیکسوں کے پیسوں سے نمائشی کاموں کے نام پر پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا پر کروڑوں سے اپنی ذاتی تشہیری مہم چلائے ہوئے ہیں، یہ قومی خزانے میں خیانت نہیں تو اور کیا ہے؟ بجائے اس کے کہ عوام حکمرانوں کا احتساب کریں چند نمائشی کاموں سے عوام کو اپنا احسان مند بنایا جا رہا ہے۔

کوئی جذباتی قدم اٹھا کر موجودہ حکمرانوں کو چلتا تو کیا جا سکتا ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس مشق لا حاصل یعنی صرف چہروں کی تبدیلی سے اگر 78 برسوں میں کچھ نہ حاصل ہو سکا تو اب کیا حاصل ہوگا؟ اگر شخصی مقبولیت، پیسے اور پروپیگنڈے کے سحر سے باہر نکلا جائے تو ذوالفقار علی بھٹو سے زیادہ مقبول ذہین اور فطین شخصیت تو پاکستان کی سیاست میں ابھی تک نہیں آسکی ہے، بھٹو کی مقبولیت کسی کام نہ آسکی، پیپلز پارٹی حکمرانی کرتے ہوئے چند سطحی تبدیلیوں کے علاوہ تو کچھ بھی نہیں کرسکی۔ جب منافقت اور تَناقُض میں مبتلا عوام اور خواص ہوں تو بھلا یہ فرسودہ نظام کیسے تبدیل ہو سکتا ہے۔

آج پاکستانی قوم کو ایک ایسے رہنما کی ضرورت ہے جو سیاسی چپقلش کے راستے کو چھوڑ کر آگے بڑھ کر اس گلے سڑے نظام کو بدلنے کی جد وجہد شروع کرے، اس کے لیے عوامی رجحانات رویوں کو تبدیل کرنے کی اور عوام کو شعور دینے کی ضرورت ہے لیکن یہ سب علم اور تعلیم کے بغیر ناممکن ہے۔ اپنے اطراف میں نظر دوڑائیں اور مختلف سیاسی قائدین اور جماعتوں کا تجزیاتی مطالعہ کریں تو مستقبل میں جھانکنے اور ملک کے نوجوانوں کو ہنر مند بنانے اور انہیں علم سے آراستہ کرنے کے لیے اگر حافظ نعیم الرحمن کی کاوشوں کو دیکھا جائے تو ہمیں نہ صرف امید کی کرن دکھائی دیتی ہے بلکہ مایوسیوں کے بادل بھی چھٹتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ الخدمت کے ’’بنو قابل‘‘ پروگرام کے ذریعے سے اب تک ساٹھ ہزار نوجوان مختلف آئی ٹی کورسز کر چکے ہیں اور ان کی بڑی تعداد ان کورسز کی بدولت اپنے پیروں پر کھڑی ہو چکی ہے۔ اب حافظ نعیم الرحمن کا وژن دو

سال میں ۲۰ لاکھ نوجوانوں کو آئی ٹی کے شعبے میں ہنر مند بنانا اور ایک کاروبار سے وابستہ کرکے معاشی طور سے انہیں آسودہ کرنا ہے۔ پیٹ بھرے گا تو پھر مقاصد تخلیق پاکستان اور نظریہ پاکستان کے حوالے سے انہی نوجوانوں میں کچھ سوچنے کا اور کچھ کرنے کا جذبہ بیدار ہوگا اور یہی جذبے اس فرسودہ نظام کو اس کی جڑوں سے اکھاڑ پھینکیں گے، سفر طویل ضرور ہے لیکن پر امن جدوجہد پر یقین رکھنے والے جواں جذبوں اور ہمت کے امین حافظ نعیم الرحمن موجودہ سیاسی چپقلش میں سب پر بازی لے گئے ہیں، یہ دیوانے کی بڑ نہیں ہے، جنہوں نے بنو قابل پروگرام سے دلچسپی لی ہے وہ لاکھوں کی تعداد میں پاکستان کے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ہیں۔ آپ پاکستان کے چھوٹے بڑے شہروں کی تعداد کا اندازہ کر لیجیے اور اسے ہزاروں کی دہائیوں سے ضرب دے لیں تو آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ پاکستان کے کتنے نوجوان علم و ہنر سے وابستہ ’’بنو قابل آئی ٹی گر یجویٹ‘‘ ہو کر اپنے پیروں پر کھڑے ہو جائیں گے۔ حافظ نعیم کے وژن کے مطابق آئندہ مراحل گھریلو خواتین کی تعلیم اور بہبود اور دیگر شعبوں کے حوالے سے متوقع ہیں۔

نظام کی تبدیلی تو اب نوشتہ دیوار ہے، خونیں انقلاب کی باتیں اور باز گشت گونج رہی ہے، یہ راستہ اپنے انجام کے لحاظ سے درست نہیں، ایک دوسرا راستہ عوام کو شعوری لحاظ سے یہ باور کرانے کا ہے کہ نظام بدلے گا تو پاکستانی عوام کی تمنائیں اور آرزؤں اور خوشحالی کا خواب بھی شرمندہ تعبیر ہوگا، یہ نظام کی تبدیلی کا پر امن اور جدوجہد کا راستہ ہے، یہ مایوسیوں کے اندھیرے میں چراغ جلانے اور مایوسی پھیلانے والے عناصر اور اب تک مرکز و صوبوں میں حکمران سیاستدانوں اور جماعتوں سے گلو خلاصی کا راستہ ہے۔ ظلم کا یہ نظام بدلے گا تو پاکستانی عوام کی خوشحالی کی تمناؤں اور آرزؤں کا خواب بھی شرمندہ تعبیر ہوگا۔ حافظ نعیم نے پاکستان کے نوجوانوں اور کسانوں کی بہبود کے لیے جو عملی قدم اٹھایا ہے کیا پاکستان کی کوئی اور سیاسی، مذہبی یا دینی جماعت ان امور کے بارے میں سوچ بھی سکی ہے؟

کوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زورِ بازو کا
نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سیاسی چپقلش کے حوالے سے پاکستان کے کی تبدیلی حافظ نعیم نظام کی عوام کو ا راستہ سکتا ہے ں اور ا اور ان کے لیے

پڑھیں:

قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان

راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔

علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔

(جاری ہے)

انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔

علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔

متعلقہ مضامین

  • سیاستدان امیر دوستوں کو مراعات دینا، غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں: بلاول
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان