امریکی سینیٹ نے مختلف ممالک پر لگایا گیا ٹرمپ ٹیرف مسترد کردیا
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
امریکی سینیٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے دنیا کے مختلف ممالک پر لگائے گئے ٹرمپ ٹیرف کو مسترد کردیا۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے استعمال کردہ ایمرجنسی پاورز کو ختم کرنے کے لیے سینیٹ کی جانب سے علامتی اقدام کیا گیا ہے۔
تمام ڈیموکریٹس نے صدر ٹرمپ کیخلاف ووٹ دیا، مخالفت میں ووٹ دینے والوں میں صدر ٹرمپ کی اپنی ری پبلکن پارٹی کے چار اراکین بھی شامل تھے، اس طرح 47 کے مقابلے میں 51 ووٹ ڈالے گئے۔
اس قرارداد پر عمل لازم نہیں، اس سے پہلے سینیٹ نے صدر ٹرمپ کے اُن اختیارات کیخلاف ووٹ کیا تھا جن کے تحت صدر ٹرمپ نے برازیل پر 50 اور کینیڈا پر 35 فیصد ٹیرف عائد کیا تھا، ایوان میں اس حوالے سے قراردادیں پیش ہونے کی توقع نہیں ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
بشکیک / تہران: ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی بھی ملک امریکا کی جانب سے ایران پر ہونے والی کسی بھی فوجی کارروائی میں تعاون یا مدد فراہم کرتا ہے تو اسے بھی اس کے نتائج اور بین الاقوامی ذمہ داری کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے شمالی ایران میں پاسداران انقلاب کے ایک بحری اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کرغزستان میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت میں حصہ لینے، تعاون کرنے یا سہولت فراہم کرنے والے تمام فریق بین الاقوامی قانون کے تحت ذمہ دار ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اپنے دفاع کے حق کے تحت ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور ملکی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔
ادھر ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق شمالی صوبے گیلان کے نائب گورنر علی باقری نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی میزائلوں نے صبح کے وقت زیباکنار میں واقع پاسداران انقلاب کی بحریہ کے ایک ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا۔
ایرانی حکام کے مطابق حملے کے نتیجے میں فوجی تنصیب میں موجود کچھ آلات کو نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان یا مزید تفصیلات کے بارے میں فوری طور پر معلومات جاری نہیں کی گئیں۔
تاحال امریکا کی جانب سے ایرانی حکام کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس حملے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خطے کی سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے بیانات سے سفارتی تناؤ میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔