وزیراعظم شہباز شریف کے انرجی سیکیورٹی وژن کے تحت پاکستان کے مقامی وسائل کی ترقی میں اہم پیشرفت دیکھنے میں آئی ہے۔ 20 سال بعد پاکستان کے سمندری علاقوں میں تیل و گیس کے ذخائر سے متعلق بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔
پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق آف شور بڈنگ راؤنڈ میں 23 بلاکس کی کامیاب بولیاں موصول ہوئیں، جن پر پہلے مرحلے میں تقریباً 80 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ ڈرلنگ کے دوران یہ سرمایہ کاری ایک بلین ڈالر تک پہنچنے کا امکان بھی ہے۔ یہ بلاکس مجموعی طور پر 53,510 مربع کلومیٹر رقبے پر محیط ہیں۔
انڈس اور مکران بیسن میں بیک وقت ایکسپلوریشن کی حکمت عملی کامیاب رہی ہے، جس نے بڈنگ راؤنڈ میں سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ظاہر کیا۔ کامیاب بولرز میں ترکی پیٹرولیم، یونائیٹڈ انرجی، اورینٹ پیٹرولیم، فاطمہ پیٹرولیم، او جی ڈی سی ایل، پی پی ایل، ماری انرجیز اور پرائم انرجی شامل ہیں۔
امریکی ادارے ڈیگلیور اینڈ میکناٹن کے مطابق سمندر میں ممکنہ طور پر 100 ٹریلین کیوبک فٹ گیس موجود ہو سکتی ہے۔ آف شور راؤنڈ 2025 کے آغاز کے ساتھ پاکستان نے ان ممکنہ ذخائر سے فائدہ اٹھانے کا عمل شروع کر دیا ہے، جو ملکی معیشت کے لیے ایک نیا سنگِ میل ثابت ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

چین کا ایک اور کامیاب خلائی مشن، 5 سیٹلائٹس مقررہ مدار میں داخل

چین نے اپنی خلائی سرگرمیوں میں ایک اور اہم کامیابی حاصل کرتے ہوئے جمعہ کے روز لیجیان-1 وائی 15 کیریئر راکٹ کے ذریعے 5 مصنوعی سیٹلائٹس کامیابی سے خلا میں بھیج دیے۔

چینی حکام کے مطابق راکٹ کو مقامی وقت کے مطابق صبح 7 بج کر 33 منٹ پر شمال مغربی چین میں واقع ڈونگ فینگ کمرشل اسپیس انوویشن پائلٹ زون سے لانچ کیا گیا۔

کامیاب پرواز کے بعد راکٹ نے تمام 5 سیٹلائٹس کو ان کے مقررہ مدار میں پہنچا دیا، جس کے ساتھ مشن اپنے تمام اہداف حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔

اس موقع پر جاری بیان میں کہا گیا کہ تمام سیٹلائٹس منصوبہ بندی کے مطابق اپنے مخصوص مدار میں داخل ہو گئے ہیں، جس سے لانچنگ کی کامیابی کی تصدیق ہوگئی۔

یہ مشن چین کے تجارتی خلائی پروگرام کی مسلسل پیش رفت کا مظہر ہے، حالیہ برسوں میں چین نے سیٹلائٹ لانچنگ، خلائی تحقیق اور تجارتی خلائی سرگرمیوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور ملک اپنے خلائی پروگرام کو مزید وسعت دینے کے لیے مختلف راکٹ مشنز اور سیٹلائٹ منصوبوں پر کام جاری رکھے ہوئے ہے۔

ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے کامیاب مشنز نہ صرف چین کی لانچنگ صلاحیتوں کو مزید مضبوط بناتے ہیں بلکہ تجارتی خلائی صنعت کی ترقی اور مستقبل کے خلائی منصوبوں کے لیے بھی اہم سنگ میل تصور کیے جاتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

چین خلائی مشن سیٹلائٹ مدار

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کے زرمبادلہ میں اضافے کے لیے سرمایہ کاری ناگزیر، قونصلیٹ ہر ممکن تعاون کرے گا: قونصل جنرل سید مصطفیٰ ربانی
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے اثرات، اسٹاک ایکسچینج میں 1,200 سے زائد پوائنٹس کی کمی
  • وزیرِ پیٹرولیم کی بین الاقوامی توانائی کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقات
  • راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
  • چین کا ایک اور کامیاب خلائی مشن، 5 سیٹلائٹس مقررہ مدار میں داخل
  • عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
  • قومی انڈر-18 ٹیم نے ہاکی فائیو اے سائیڈ ورلڈ کپ کیلیے کوالیفائی کرلیا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم