کشمیریوں کی سیاسی اور اخلاقی حمایت جاری رکھیں گے، یوم سیاہ بھرپور طریقے سے منایا جائے گا، امیر مقام
اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT
وفاقی وزیر برائے امور آزاد کشمیر و گلگت بلتستان امیر مقام نے کہا ہے کہ پاکستان کشمیریوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔
لاہور میں حریت رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ سے لے کر ہر فورم پر کشمیریوں کے حق میں بات کی ہے اور اس معاملے پر آئندہ بھی روشنی ڈالتے رہیں گے۔
یہ بھی پڑھیے: کشمیر پر بھارتی قبضہ: وزارت امور کشمیر کا 27 اکتوبر کو یوم سیاہ بھرپور طریقے سے منانے کا اعلان
وفاقی وزیر نے کہا کہ معرکہ حق میں ہم نے بھارت کا غرور خاک میں ملا دیا، اس معرکے کے بعد کشمیر کا مسئلہ ایک بار پھر سے سامنے آگیا ہے، یہ مسئلہ اگر حل نہیں ہوا تو تنازع جاری رہیں گے، مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ میں حریت رہنماؤں کی قربانیوں اور کوششوں کو خراج تحسین پیش کرنا چاہتا ہوں، اقوام متحدہ سمیت تمام اداروں سے مطالبہ کرتا ہوں کہ مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل نکالنا چاہیے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ کل ملک میں اور ملک سے باہر ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے گی اور کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے ریلی نکالی جائے گی، تمام وزارتیں 27 اکتوبر کو یوم سیاہ کے موقع پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے تقاریب کا انعقاد کیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امیر مقام کشمیر یوم سیاہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: یوم سیاہ کشمیر کا یوم سیاہ
پڑھیں:
مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
نیویارک:اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال تیزی سے قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور پورا خطہ ایک ایسے خطرناک موڑ پر پہنچ چکا ہے جس کے نتائج ناقابلِ تصور ہو سکتے ہیں۔
سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ ناقابلِ تصور تباہی کے کنارے پر کھڑا ہے اور خطہ مسلسل وسیع ہوتے ہوئے تصادم کے دائرے میں کھنچتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہو رہی ہے ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے جبکہ ہر روز نئی کشیدگی مزید خطرناک حالات پیدا کر رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سربراہ کے مطابق جیسے جیسے تنازع پھیل رہا ہے ویسے ویسے سیاسی مقاصد پس منظر میں چلے جا رہے ہیں اور تصادم خود ہی ایک مستقل بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مزید کشیدگی کو روکنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں کیونکہ موجودہ حالات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔