یونیسیف نے بچوں کی مضر صحت غذاؤں سے خبردار کردیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نیویارک (انٹرنیشنل ڈیسک) دنیا بھر کے بچے زیادہ سے زیادہ ایسی غذائیں کھا رہے ہیں ،جو شدید پراسیس شدہ ہوتی ہیں، اس کے نتیجے میں ان کی صحت، نشوونما اور ذہنی سلامتی پر سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ یہ بات بچوں کے امور کی اقوام متحدہ کی تنظیم یونیسیف کی ایک نئی رپورٹ میں سامنے آئی، جو دنیا بھر میں نوجوانوں کی روزمرہ زندگی پر انتہائی پراسیس شدہ غذاؤں کے اثرات کو اجاگر کرتی ہے۔رپورٹ میں حال ہی میں میڈیکل جرنل دی لانسیٹ میں شائع ہونے والے مطالعاتی سلسلے کو بنیاد بنایا گیا ہے، جس میں ان غذاؤں کے صحت پر خطرات اور اس صنعت کے کردار کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔یاد رہے کہ انتہائی پراسیس شدہ غذائیں عموماً چینی، نمک، غیر صحت مند چکنائی، صنعتی نشاستہ اور متعدد اضافی اجزا جیسے امولسیفائر، رنگ اور فلیورز پر مشتمل ہوتی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔