data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

دنیا بھر میں ٹیکنالوجی اور کاروبار کے حوالے سے معروف شخصیت بل گیٹس ہر سال اپنے قارئین کے لیے کتابوں کی ایک فہرست مرتب کرتے ہیں، جس میں وہ ایسی تحریریں شامل کرتے ہیں جو ان کی نظر میں سوچ کے نئے در وا کرتی ہیں۔

سالِ نو کی مناسبت سے اس بار بھی انہوں نے حسبِ روایت 5 ایسی کتابوں کا انتخاب کیا ہے جنہیں وہ ہر اس شخص کے لیے ضروری مطالعہ قرار دیتے ہیں جو علم میں وسعت، ذہن میں تازگی اور نقطۂ نظر میں پختگی چاہتا ہو۔

دنیا کے مختلف ممالک میں دسمبر کے اختتام اور جنوری کے آغاز تک جاری رہنے والی تعطیلات کو وہ ہمیشہ غور و فکر اور مطالعے کے لیے بہترین موقع قرار دیتے ہیں اور اسی خیال کے تحت انہوں نے اس سال بھی اپنی مطالعہ فہرست دنیا سے شیئر کی ہے۔

بل گیٹس نے اپنی منتخب کردہ کتابوں کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب کتب زندگی کے بنیادی سوالات، انسانی رویوں، سائنسی معاملات اور معاشرتی ارتقا کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔ ان کے مطابق مختلف موضوعات پر لکھے گئے یہ کام قاری کے ذہن میں نہ صرف تجسس پیدا کرتے ہیں بلکہ نئی بصیرت بھی عطا کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں انسان کے سوچنے، سمجھنے اور دنیا کو دیکھنے کا زاویہ بدلنے لگتا ہے۔

اس سال ان کی فہرست میں سب سے پہلے شامل کتاب شیلبی وان بیلٹ کا ناول “Remarkably Bright Creatures” ہے، جس کی کہانی ایکویریئم میں ملازمت کرنے والی ایک بزرگ خاتون اور ایک غیر معمولی ذہین آکٹوپس کے درمیان تعلق کے گرد گھومتی ہے۔

بل گیٹس کا کہنا ہے کہ ناول کی سادگی اور جذباتی گہرائی انسان کو زندگی کے بارے میں نئے انداز میں سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے اور قاری کو دکھاتی ہے کہ فطرت اور انسان کے درمیان رشتہ کس قدر غیر معمولی اور پراسرار ہے۔

دوسرے نمبر پر موجود کتاب “Clearing the Air” مصنفہ ہانا رِچی کی ہے، جس میں موسمیاتی تبدیلی کے 50 اہم ترین سوالات کا سائنسی، غیر جانبدار اور نہایت جامع جواب دیا گیا ہے۔ گیٹس نے اس کتاب کو سراہتے ہوئے کہا کہ ماحولیاتی بحران جیسے پیچیدہ مسئلے کو اتنی واضح اور قابلِ فہم زبان میں بیان کرنا آسان نہیں، لیکن مصنفہ نے اسے عام قاری کے لیے بے حد قابلِ رسائی بنا دیا ہے۔

فہرست کی تیسری کتاب میڈیا انڈسٹری کی نمایاں شخصیت بیری ڈیلر کی خودنوشت “Who Knew” ہے۔ بل گیٹس نے اعتراف کیا کہ اس کتاب نے انہیں اپنے پرانے دوست کے کیریئر اور ان کی پیشہ ورانہ جدوجہد کے بارے میں کئی نئے پہلوؤں سے روشناس کیا، خاص طور پر اس بات سے کہ انہوں نے کس طرح ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ کی دنیا میں بڑی اور دیرپا تبدیلیاں متعارف کرائیں۔

چوتھی کتاب ہارورڈ یونیورسٹی کے معروف ماہرِ نفسیات اسٹیون پنکر کی “When Everyone Knows That Everyone Knows” ہے۔ اس کتاب میں مصنف نے اس بات کا جائزہ لیا ہے کہ سماج میں یکساں طور پر تسلیم شدہ معلومات کس طرح عام رویوں، باہمی تعلقات اور اجتماعی فیصلوں پر اثرانداز ہوتی ہیں۔ گیٹس کا کہنا ہے کہ جو لوگ اجتماعی نفسیات اور سماجی رویوں کو سمجھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں، اُن کے لیے یہ کتاب ایک بہترین رہنما ثابت ہوگی۔

بل گیٹس کی فہرست میں آخری کتاب “Abundance” ہے، جس کے مصنف اِزرا کلائن اور ڈیرک تھامسن ہیں۔ کتاب میں اس سوال کا تجزیہ کیا گیا ہے کہ امریکا جیسے ترقی یافتہ ملک میں بڑے ترقیاتی منصوبوں کی رفتار کیوں سست پڑ چکی ہے اور وہ کون سی رکاوٹیں ہیں جو قومی سطح پر منصوبہ سازی کو دباؤ میں رکھتی ہیں۔

بل گیٹس کے مطابق یہ پانچوں کتابیں اپنی اپنی جگہ قیمتی ہیں، کیونکہ یہ نہ صرف معلومات کا اضافہ کرتی ہیں بلکہ انسانی دماغ کو سوال پوچھنے، تجزیہ کرنے اور چیزوں کو مختلف زاویوں سے دیکھنے کی صلاحیت بھی فراہم کرتی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کرتے ہیں بل گیٹس گیٹس نے کے لیے

پڑھیں:

ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر

ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔

پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔

علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی