نیشنل گارڈ ہلاک: غیر قانونی تارکین امریکا کے لیے خطرہ بنتے جا رہے ہیں، صدر ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ غیر قانونی تارکینِ وطن ملک میں آکر سنگین مسائل پیدا کر رہے ہیں، اور انہیں روکنے کے لیے مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔ ان کا یہ بیان اس واقعے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں ایک افغان نژاد مشتبہ شخص کی فائرنگ سے نیشنل گارڈ کی خاتون اہلکار جاں بحق ہوگئیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ نے حکام سے غیر قانونی تارکینِ وطن سے متعلق تفصیلی بات چیت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی سیکیورٹی اہلکار ملک کی خدمت کر رہے ہیں اور انہیں پیش آنے والے خطرات انتہائی تشویشناک ہیں۔
مزید پڑھیں:ٹرانسپرینسی ایکٹ پر دستخط، کیا ڈونلڈ ٹرمپ خود بھی اس کی لپیٹ میں آئیں گے؟
ٹرمپ نے بتایا کہ گزشتہ روز فائرنگ کے واقعے میں زخمی ہونے والی نیشنل گارڈ کی 20 سالہ اہلکار سارہ بیک اسٹروم دم توڑ گئی ہیں، جبکہ 24 سالہ دوسرا اہلکار اینڈریو وولف تشویشناک حالت میں زیر علاج ہے۔ ان کے مطابق حملہ آور نے گھات لگا کر اہلکاروں کو نشانہ بنایا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ ایسے موقع پر ہوا ہے جب بائیڈن دور کی امیگریشن پالیسیوں میں کمزوریاں واضح ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کے پاس دنیا کی بہترین فوج اور جدید ترین دفاعی آلات موجود ہیں، اور وینزویلا کے معاملے پر بھی جلد اقدامات کیے جائیں گے۔
مزید پڑھیں:ڈونلڈ ٹرمپ نے ورلڈ کپ شائقین کے لیے ’فیفا پاس‘ متعارف کرنے کا اعلان کردیا
ٹرمپ نے مزید بتایا کہ امریکی بی 2 طیاروں نے 37 گھنٹے طویل مشن مکمل کرکے اپنے ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ انہوں نے بی 2 طیاروں کے پائلٹس سے ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی مہارت دیکھ کر وہ ٹام کروز جیسے محسوس ہوئے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز وائٹ ہاؤس کے قریب نیشنل گارڈ کے 2 اہلکاروں پر فائرنگ کی گئی تھی، جس کے بعد مشتبہ شخص افغانی رحمان اللّٰہ کو موقع سے گرفتار کرلیا گیا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغانی امریکا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تارکین وطن.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغانی امریکا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تارکین وطن ڈونلڈ ٹرمپ نیشنل گارڈ کے لیے
پڑھیں:
فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے ایک آنے والی فلم ’کالا ہرن‘ کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے فلم سازوں کو نوٹس جاری کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: میں اکیلا نہیں ہوں، سلمان خان کی انسٹا پوسٹ نے ماں سمیت لاکھوں مداحوں کو بے چین کردیا
فلم کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس کی کہانی سنہ 1998 کے مشہور کالا ہرن شکار کیس سے متاثر ہے جس میں سلمان خان کا نام سامنے آیا تھا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سلمان خان کی قانونی ٹیم نے کاسٹنگ ڈائریکٹر اکشے پانڈے کو نوٹس بھجوایا ہے جس میں فلم کو اداکار کی شخصیت اور ساکھ کے خلاف قرار دیتے ہوئے اس کی تشہیری مہم اور ریلیز فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
قانونی نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کالا ہرن کیس اب بھی راجستھان ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے جبکہ فلم مبینہ طور پر سلمان خان کی شخصیت اور شہرت کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔
سلمان خان کے وکلا کا کہنا ہے کہ ان کے مؤکل نے نہ تو اپنی شخصیت، نام یا اس واقعے سے متعلق کسی مواد کے استعمال کی اجازت دی ہے اور نہ ہی اس پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
مزید پڑھیے: سلمان خان کی نقل کیوں کی؟ رجب بٹ نے اپنی اس حرکت کی وجہ بتادی
دوسری جانب فلم کے پروڈیوسر امیت جانی نے قانونی نوٹس کو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے سلمان خان کے مؤقف کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ قانونی نوٹس کا مقصد صرف فلم سے وابستہ افراد کو دباؤ میں لانا ہے۔
امیت جانی نے فیس بک پر لکھا کہ سلمان خان کالا ہرن سے وابستہ لوگوں کو قانونی نوٹس کے ذریعے دھمکا رہے ہیں لیکن یہ صرف خوف پیدا کرنے کی کوشش ہے تاکہ لوگ دباؤ میں آ جائیں۔
فلم کے حوالے سے بحث اس وقت مزید تیز ہوگئی جب اس کا پہلا پوسٹر جاری کیا گیا۔ پوسٹر میں ایک شخص کو بندوق تھامے دکھایا گیا ہے جس نے فیروزی رنگ کا وہی بریسلٹ پہن رکھا ہے جو سلمان خان کی پہچان سمجھا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: سلمان خان کے 42 سال پرانے قریبی دوست کا انتقال، اداکار کا سوشل میڈیا پر جذباتی پیغام
فلم سازوں کے مطابق ’کالا ہرن: دی بیٹل فار لیگسی‘ حقیقی قانونی تنازعات اور ایکشن پر مبنی کہانی پیش کرے گی جبکہ اس کا ٹیزر 20 جون کو جاری کیے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔
کالا ہرن کیس کیا تھا؟سنہ1998 میں فلم ’ہم ساتھ ساتھ ہیں‘ کی شوٹنگ کے دوران سلمان خان پر راجستھان کے ضلع جودھ پور کے قریب کنکانی گاؤں میں 2 کالے ہرن شکار کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
اس مقدمے میں سلمان خان کے ساتھ اداکار سیف علی خان، سونالی بیندرے، نیلم اور تبو کے نام بھی شامل تھے تاہم بعد میں دیگر تمام فنکاروں کو بری کر دیا گیا تھا۔
اپریل 2018 میں جودھ پور کی ایک عدالت نے سلمان خان کو مجرم قرار دیتے ہوئے 5 سال قید کی سزا سنائی تھی تاہم بعد ازاں انہیں ضمانت مل گئی۔
یہ بھی پڑھیے: رنویر سنگھ کے بعدسلمان خان کے بہنوئی کو بھی دھمکی آمیز پیغام موصول
سنہ 2022 میں راجستھان ہائیکورٹ نے اس کیس سے متعلق تمام مقدمات اپنے دائرہ اختیار میں لے لیے تھے جہاں اب بھی کارروائی جاری ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بالی ووڈ سلمان خان سلمان خان اور کالا ہرن سلمان خان اور مقدمہ فلم کالا ہرن کالا ہرن