واشنگٹن: وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ‘ ٹرمپ نے واقعہ’’ دہشت گردی ‘‘قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) وائٹ ہاؤس سے چند بلاکس کے فاصلے پر دن دہاڑے فائرنگ کے واقعے میں امریکی نیشنل گارڈ کے 2 اہلکار شدید زخمی ہوگئے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس واقعے کو ’دہشت گردی قرار دیا ہے۔ انہوںنے کہا ہے کہ اس واقعے میں 2 اہلکار شدید زخمی ہوئے، جو ’بدی، نفرت اور دہشت گردی کا عمل تھا، یہ ہمارے پورے ملک کے خلاف ایک جرم تھا۔امریکی صدر نے تصدیق کی کہ دن کی روشنی میں وائٹ ہاؤس سے دو بلاکس کے فاصلے پر ہونے والی فائرنگ کے بعد زیر حراست شخص افغانستان سے آیا ہوا غیر ملکی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اب افغانستان سے آنے والے ہر فرد کا دوبارہ جائزہ لینا ہوگا۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہمیں ضروری اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ ایسے تمام غیر ملکیوں کو ملک سے نکالا جا سکے جو یہاں کے نہیں، یا جو ہمارے ملک کو فائدہ نہ پہنچائیں، اگر وہ ہمارے ملک سے محبت نہیں کرتے تو ہم انہیں نہیں چاہتے۔ واقعے کے وقت ٹرمپ فلوریڈا میں تھے، فائرنگ کے بعد وائٹ ہاؤس کو مختصر طور پر لاک ڈاؤن کر دیا گیا، جب کہ وفاقی اور مقامی اداروں کے اہلکار بڑی تعداد میں علاقے میں پہنچ گئے۔واشنگٹن کی میئر میوریل باؤزر نے اسے ’ٹارگٹڈ شوٹنگ‘ قرار دیا جو ایک ہی شخص نے کی، انہوں نے کہا کہ ملزم کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔فائرنگ مقامی وقت کے مطابق دوپہر 2:15 بجے اس وقت ہوئی جب دونوں فوجی (ایک مرد اور ایک خاتون) ہائی ویزیبلٹی پیٹرولنگ کر رہے تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: وائٹ ہاو س
پڑھیں:
واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد
امریکی ریاست واشنگٹن میں ایک کاغذ سازی کے کارخانے میں کیمیائی ٹینک پھٹنے کے واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 ہو گئی ہے۔ حکام کے مطابق تمام لاپتا افراد کی لاشیں ملبے سے نکال لی گئی ہیں، جبکہ حادثے کی وجوہات اور ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
امریکی ریاست واشنگٹن میں ایک صنعتی تنصیب پر کیمیائی ٹینک پھٹنے کے المناک حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 تک پہنچ گئی ہے۔ حکام نے ہفتے کے روز تصدیق کی کہ لاپتا قرار دیے گئے تمام نو افراد کی لاشیں ملبے سے برآمد کر لی گئی ہیں۔
حکام کے مطابق ابتدائی طور پر حادثے کے فوراً بعد دو ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی تھی، جبکہ دیگر افراد لاپتا ہو گئے تھے۔ امدادی اور بحالی کی ٹیموں نے پورے ہفتے متاثرہ مقام پر سرچ آپریشن جاری رکھا، جس کے دوران عمارت کے اندر ملبے کو ہٹانے کے ساتھ ساتھ ڈرونز کی مدد سے علاقے کا فضائی جائزہ بھی لیا گیا۔
کاؤلٹز 2 فائر اینڈ ریسکیو کے ڈپٹی چیف کرٹ اسٹیچ نے بتایا کہ امدادی کارکنوں نے انتہائی دشوار حالات میں ملبے کے نیچے پھنسے افراد کی تلاش جاری رکھی اور بالآخر تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد کر لی گئیں۔
حادثہ منگل کے روز لانگ ویو شہر میں واقع نپون ڈائنو ویو پیکیجنگ (Nippon Dynawave Packaging) کے کارخانے میں پیش آیا، جہاں ’وائٹ لِکر‘ نامی کیمیائی محلول سے بھرا ایک بڑا ٹینک اندرونی دباؤ کے باعث پھٹ گیا تھا۔ یہ محلول سوڈیم ہائیڈرو آکسائیڈ اور سوڈیم سلفائیڈ پر مشتمل ہوتا ہے اور کاغذ کے گودے (Paper Pulp) کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق متاثرہ ٹینک میں تقریباً 9 لاکھ گیلن (34 لاکھ لیٹر) کیمیائی محلول موجود تھا۔ بعد ازاں کیے گئے ٹیسٹوں سے یہ بات سامنے آئی کہ کچھ مقدار قریبی دریائے کولمبیا تک پہنچ گئی تھی، تاہم اب تک فضائی معیار یا لانگ ویو شہر کے پینے کے پانی پر کسی منفی اثرات کی نشاندہی نہیں ہوئی۔
نپون ڈائنو ویو پیکیجنگ جاپان کی دوسری بڑی کاغذ ساز کمپنی Nippon Paper Industries کی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی ہے۔ جاپانی کمپنی نے 2016 میں سیئٹل کی لکڑی اور جنگلاتی مصنوعات تیار کرنے والی کمپنی Weyerhaeuser سے لانگ ویو کا یہ پلانٹ 225 ملین ڈالر میں خریدا تھا۔
حکام نے کہا ہے کہ حادثے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور اس بات کا تعین کیا جا رہا ہے کہ ٹینک کے اندر دھماکے یا انہدام کی اصل وجہ کیا تھی۔ ساتھ ہی ماحولیاتی ماہرین بھی قریبی علاقوں میں ممکنہ آلودگی کے اثرات کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں