چھینک اور جماہی کے آداب
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
چھینک آنا اچھی بات ہے، چھینک انسان کی صحت کی علامت ہے، نزلے کے وقت، نیز عام اوقات میں بھی جب چھینک آتی ہے تو انسان کا دماغ، کان اور ناک کے راستے صاف ہوتے ہیں، آنکھوں میں ٹھنڈک پیدا ہوتی ہے، سر کا بوجھ کم ہوجاتا ہے، جب نومولود بچہ چھینکتا ہے تو والدین اور معالجین چھینک کو بچے کی تندرستی کی علامت سمجھ کر خوش ہوجاتے ہیں، غرض کہ چھینک انسان کی نشاط وچستی کا سبب ہے، جس سے انسان کو اعمال وطاعات، نیز دنیوی کاموں میں نشاط پیدا ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اللہ کے نبی علیہ السلام نے فرمایا:
اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند فرماتے ہیں (رواہ البخاری عن ابی ہریرة)، کیوں کہ اعمال میں چستی ونشاط کا سبب ہوتی ہے۔
دین ِاسلام کی خوبی اور کمال یہ ہے کہ اسلام انسان کو کامل واکمل بنانے کے لیے ہر چھوٹے اور بڑے ادب سے اس کو آراستہ ومزین کرتا ہے۔ اسلام نے انسانی ضروریات میں سے ہر ضرورت سے متعلق بہترین آداب وتعلیمات کو پیش کیا ہے، من جملہ ان کے چھینک ہے، جسے ہم معمولی چیز سمجھتے ہیں، اس کے آداب کو بھی بیان کیا ہے، لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم چھینک کے آداب کو معلوم کریں اور ان پر عمل کریں۔
چونکہ چھینک اللہ کی نعمتِ صحت وتندرستی کی علامت، چستی اور نشاط کا سبب ہے، اس لیے چھینک آنے پر الحمدللّٰہ کے ذریعے اللہ کا شکر ادا کرنے کو مستقل عبادت قرار دیا گیا ہے۔
رسولؐ نے فرمایا:
جب تم میں سے کوئی چھینکے تو الحمد للّٰہ کہے (رواہ البخاری عن ابوہریرہ)۔
چھینک کے آداب
(1) جب کسی شخص کو چھینک آئے تو الحمدللّٰہ کہے (رواہ البخاری عن ابی ھریرہ) یا اَلْحَمْدُ لِلہِ عَلیٰ کُلِّ حَال کہے (رواہ الترمذی عن ابن عمر)، دونوں صورتیں جائز ہیں۔
(2) جب چھینکنے والا اپنی چھینک پر الحمد للّٰہ کہے، تو سننے والا اس کے جواب میں یرحمک اللّٰہ کہے (بخاری)۔
(3) یرحمک اللّٰہ کے جواب میں چھینکنے والا یَھْدِیْکُمُ اللّٰہُ َویُصْلِحُ بَالَکُمْ یا یَغْفِرُاللہُ لَنَا وَلَکُمْ کہے (بخاری)۔
(4) چھینکنے والا چھینک کے وقت اپنے چہرے کو کپڑے یا کم از کم ہاتھ سے ڈھانک لے (تاکہ چھینک کے وقت ناک اور منہ سے نکلنے والی ریزش سے کسی کو تکلیف نہ ہو، نیز کھانے پینے کی چیزوں میں ناک اور منہ کی رطوبات نہ گریں)۔
(5)چھینک کے وقت اپنی آواز کو پست رکھے۔
آپ علیہ السلام چھینک کے وقت اپنے چہرے کو کپڑے یا ہاتھ سے ڈھانک لیتے تھے اور آواز کو پست کر لیا کرتے تھے (ابوداؤد)۔
(6) محرم عورتیں چھینک کر الحمدللہ کہیں تو محرم مردوں کے لیے یرحمک اللّٰہ کہنا ضروری ہے، نیز مرد محارم کی چھینک کا جواب دینا بھی ضروری ہے (ہندیہ)۔
چھینک کا جواب
مسلمان بھائی چھینک کر الحمدللّٰہ کہے تو اس کے جواب میں یرحمک اللہ کہنا یہ اس کا شرعی حق ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک مسلمان بھائی پر دوسرے مسلمان بھائی کے لیے چھ حقوق ہیں: (۱)جب کوئی مسلمان بھائی بیمار ہو جائے تو اس کی عیادت کرے، (2)جب کسی مسلمان کی وفات ہوجائے تو اس کے جنازے میں شرکت کرے، (3)اگر دعوت دے تو قبول کرے، (4)سلام کرے تو سلام کا جواب دے، (5)چھینک پر الحمدللّٰہ کہے تو اس کے جواب میں یرحمک اللّٰہ کہے، (6)مسلمان بھائی کی موجودگی اور غیر موجودگی میں اس کے ساتھ خیرخواہی کا معاملہ کرے (مسلم، حقوق المسلم)۔
جب چھینکنے والا الحمدللّٰہ کہے تو سننے والے پر یرحمک اللہ کہنا بعض علما کے نزدیک واجب ہے، (فتاوی ہندیہ میں یہی قول نقل کیا ہے) بعض علما نے مستحب قرار دیا ہے، جمہور علما کے نزدیک فرضِ کفایہ ہے، (فتاوی ہندیہ میں واجب لکھا ہے) لہٰذا چھینکنے والے کی الحمدللّٰہ سننے والا ایک شخص ہو تو ضرور یرحمک اللّٰہ کہنا چاہیے، اگر ایک جماعت ہو تو ان میں سے کسی ایک شخص کی طرف سے یرحمک اللّٰہ کہنا کافی ہے (عمدۃ القاری)۔
مندرجہ ذیل مواقع میں چھینک کا جواب ضروری نہیں:
(1)جو آدمی چھینک کر الحمدللہ نہ کہے (بخاری)۔
آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:
جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے اور وہ الحمدللہ کہے تو تم جواب دو، اگر وہ الحمدللہ نہ کہے تو اس کا جواب مت دو (رواہ البخاری)، لہذا جو شخص اپنی چھینک پر الحمدللہ نہ کہے وہ جواب کا مستحق نہیں ہے۔
سیدنا انسؓ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دو شخص حاضر تھے، دونوں کو چھینک آئی، آپ ؐ نے ایک شخص کی چھینک پر یرحمک اللّٰہ فرمایا، دوسرے کی چھینک پر یرحمک اللّٰہ نہیں فرمایا۔ اس پر دوسرے شخص نے عرض کیا، یارسول اللہ! آپ نے اس کے لیے یرحمک اللّٰہ فرمایا، میرے لیے نہیں فرمایا۔ آپ نے ارشاد فرمایا: اس نے چھینک پر الحمدللّٰہ کہا؛ اس لیے وہ جواب کا مستحق ہوا اور تم نے اپنی چھینک پر الحمدللّٰہ نہیں کہا تو تم جواب کے مستحق نہیں ہوئے (متفق علیہ)۔
(2)جب آدمی تین مرتبہ سے زیادہ چھینکے، تو جواب دینا ضروری نہیں ہے، چاہے تو جواب دے، چاہے تو جواب نہ دے (رواہ ابوداؤد)۔
(3)بے ایمان کی چھینک کے جواب میں یرحمک اللہ کہنا جائز نہیں ہے۔
سیدنا ابوموسیؓ فرماتے ہیں:
یہودی لوگ رسول اللہ صلی اللہ وسلم کی خدمت میں چھینکتے تھے (چھینک پر الحمدللہ بھی کہتے) اور یہ امید رکھتے کہ آپ علیہ السلام جواب میں یرحمک اللہ فرمائیں گے؛ لیکن آپ علیہ السلام ان کے جواب میں یرحمک اللّٰہ نہ فرماتے (اس لیے کہ وہ اپنی بے ایمانی کی وجہ سے اللہ کی رحمت کے مستحق نہیں ہیں، لہٰذا ان کو رحمت کی دعا نہیں دی جاسکتی) بلکہ ان کے جواب میں آپ علیہ السلام یَھْدِیْکُمُ اللہُ وَیُصْلِحُ بَالَکُمْ فرماتے (اللہ تم کو ہدایت دیں اور تمہارے احوال درست فرمائیں) (رواہ ابوداؤد)۔
(4) جمعہ وعیدین کے خطبات کے وقت میں جواب نہ دے (عمدۃ القاری)۔
(5)اگر کوئی شخص بیت الخلا میں چھینک کر الحمد للّٰہ کہے تو اس کا جواب بھی لازم نہیں (عمدۃ القاری)۔
مسئلہ:اگر کسی شخص کو نماز میں چھینک آگئی اور اس نے بے اختیار الحمد للّٰہ کہہ دیا تو نماز فاسد نہیں ہوگی، جو نمازی چھینکنے والے کے جواب یرحمک اللہ کہے، اس کی نماز فاسد ہوجائے گی (ہدایہ)۔
جماہی کے آداب
رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند فرماتے ہیں اور جماہی کو ناپسند فرماتے ہیں۔ جماہی شیطان کی طرف سے ہے لہٰذا جہاں تک ہوسکے اس کو روکے، جب (تم میں سے کسی کو جماہی آتی ہے اور) وہ منہ کھولے ہاء، ہاء کہتا ہے تو شیطان ہنستا ہے (رواہ البخاری عن ابی ھریرہ)۔
جماہی زیادہ کھانے، آنتوں کے بھر جانے، نفس وطبیعت کے بوجھل ہو جانے اور حواس کی کدورت کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے، جو غفلت، سستی اور سوئے فہم کا سبب بنتی ہے، نیز جماہی کے وقت انسان کا چہرہ طبعی حالت پر باقی نہیں رہتا ہے، جس کی وجہ سے شیطان خوش ہو جاتا ہے کہ انسان کی طبعی حالت بھی متغیر ہوئی، نیز اب یہ انسان طاعات واعمال اور دیگر ضروری امور میں سستی اور کاہلی کا شکار ہوگا۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ یہی وجہ ہے کہ رسولؐ کو عمر بھر جماہی نہیں آئی ہے، جس کی صراحت مصنف ابن شیبہ کی روایت میں موجود ہے۔ نیز علامہ خطابی رحمہ اللہ علیہ نے مسلم کی روایت سے بیان کیا ہے کہ کسی بھی نبی کو جماہی نہیں آئی (فتح الباری)۔
جماہی شیطان کی طرف سے ہوتی ہے، لہٰذا جب تم میں سے کسی کو جماہی آئے تو جہاں تک ہوسکے اس کو دفع کرے (بخاری)۔ یعنی جبڑوں کو مضبوطی سے دبالے، اگر بے قابو ہو جائے تو منہ پر ہاتھ رکھ لے۔
سیدنا ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے، آپ علیہ السلام نے فرمایا:
جب تم میں سے کسی کو جماہی آئے تو اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لے، اس لیے کے شیطان منہ میں داخل ہو جاتا ہے (رواہ مسلم)۔ لہٰذا منہ پر ہاتھ رکھے۔
علما نے لکھا ہے کہ اگر انسان تلاوت، دینی گفتگو وغیرہ میں مشغول ہو اور جماہی آجائے تو جماہی کو مکمل طور سے بند ہوجانے کے بعد تلاوت کرے، جماہی کے وقت ہا، ہا، کرتے ہوئے تلاوت، دینی باتیں اور ضروری باتیں نہ کرے۔
مولانا عبد اللطیف قاسمی
گلزار
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے جواب میں یرحمک الل رسول اللہ صلی اللہ تم میں سے کسی کو رواہ البخاری عن ا پ علیہ السلام چھینک پر الحمد چھینک کر الحمد چھینکنے والا مسلمان بھائی چھینک کے وقت فرماتے ہیں یرحمک اللہ اللہ علیہ میں چھینک نے فرمایا کو جماہی جماہی کے کی چھینک الحمد لل کے ا داب چھینک ا کا جواب جماہی ا ہوتی ہے کیا ہے اس لیے ہ کہنا کے لیے کا سبب
پڑھیں:
قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
ہر سال ستمبر آتے ہی ایک قصہ نئے سرے سے گردش کرنے لگتا ہے۔ اکثر یہ بات کہی جاتی ہے کہ زیارت سے کراچی واپسی پر ان کی ایمبولینس دانستہ خراب کی گئی اور بابائے قوم کو راستے میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا، تاکہ ان کی طبیعت زیادہ بگڑ جائے اور وہ سروائیو نہ کر پائیں۔ کبھی کچھ اور کہا جاتا ہے، کبھی لیاقت علی خان کی زیارت ریزیڈنسی میں قائداعظم سے ملاقات پر منفی تبصرے کیے جاتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر یہ کہانی ہر بار نئے مسالے کے ساتھ لوٹتی ہے، اور ہر بار کچھ لوگ سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہائے، ہم نے اپنے محسن کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ یوں ہر سال ایک نئی سازشی کہانی جنم لیتی ہے، حالانکہ تاریخ کے مستند ریکارڈ میں ایسی کسی منظم سازش کا سراغ نہیں ملتا۔
یہ بھی پڑھیں: دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا
اس بار تو ہم نے ستمبر کا انتظار بھی نہیں کیا، جولائی ہی میں ستمبر لے آئے۔ شاید اس لیے کہ بارشوں نے لاہور کو بھی چند روز کے لیے زیارت کا سا رنگ دے دیا ہے۔ اس بار یہ شگوفہ مخدوم جاوید ہاشمی کے لبوں سے پھوٹا ہے۔ وہ آج کل حکمرانوں سے کچھ برہم اور ناراض ہیں۔ ان کے اندر کا انقلابی اور باغی ہیرو ایک بار پھر جاگ اٹھا ہے۔ اس بار وہ پہلے سے زیادہ پرجوش انداز میں سامنے آیا۔
ہاشمی صاحب نے فرمایا کہ قائداعظم کو سازش کے تحت زیارت بھیجا گیا تھا، حکومتی کاموں سے دور رکھنے کے لیے، ورنہ وہاں کون جاتا ہے علاج کے لیے۔ اس پر فواد چودھری صاحب نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے مخدوم صاحب کو جواب دیا۔ کچھ اور لوگ بھی بیچ میں کود پڑے۔ یوں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہوگئی۔
خاکسار کی گزارش بس اتنی ہے کہ ذرا ٹھہر جائیں۔ پہلے ہمارے سادہ سے، معصوم سے سوال کا جواب تو دے دیں کہ آخر یہ سازش کس نے کی؟ وہ کون تھا جو محمد علی جناح کو، اس جیسے مردِ آہن کو، کسی بات پر مجبور کرسکتا تھا؟ قائداعظم گورنر جنرل تھے، ایسے جو کابینہ اجلاس میں تاخیر سے آنے پر وزرا کو سختی سے ڈانٹ سکتے تھے۔
وزیراعظم لیاقت علی خان سمیت کس میں اتنی جرأت تھی کہ وہ قائد سے اختلاف کرتا یا ان پر جبر کا سوچ بھی سکتا؟ قائداعظم اپنی بیماری میں بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت تھے۔ کسی میں اتنا دم نہیں تھا کہ ان پر رتی برابر دباؤ ڈال سکے، یا ان کے سامنے زبان کھول سکے۔ جو لوگ زیارت جانے کو سازش کہتے ہیں، وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اس سازش کا مہرہ کون تھا اور دھاگے کس کے ہاتھ میں تھے۔
زیارت کیوں بھیجا گیااصل بات جاننے کے لیے اُس زمانے کی طب کو سمجھنا پڑے گا۔ ٹی بی کے مریض تب ٹھنڈے، بلند علاقوں میں بھیجے جاتے تھے، جہاں صاف، خشک اور ٹھنڈی آب و ہوا مریضوں کے لیے موزوں سمجھی جاتی تھی۔
شملہ ہو، مری ہو یا زیارت، انہی مقامات پر ایسے مریضوں کے سینیٹوریم بنے تھے۔ زیارت قائد کو خود بھی پسند تھا، اور غالباً ڈاکٹروں کے ذہن میں یہ بھی ہوگا کہ وہاں ملاقاتی کم آئیں گے اور مریض کو آرام کا زیادہ وقت ملے گا۔ اس میں سازش کہاں سے آ گئی؟ ویسے جس کسی کو زیارت گرمیوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہو، وہ اعتراف کرے گا کہ ایسی پرسکون، خوبصورت اور خالص ہوا والی جگہ پر مریض کو آنا چاہیے، خاص کر ایسے مریض کو جس کے پھیپھڑے بری طرح متاثر ہوچکے ہوں۔
تھوڑی سی تحقیق کر لیں تو حقائق آشکار ہو جاتے ہیں۔ قائد کو ٹی بی برسوں سے تھی، مگر انہوں نے اسے چھپائے رکھا۔ ان کا اپنا کہنا تھا کہ اگر مخالفین کو خبر ہوگئی تو وہ میری موت کا انتظار کرنے لگیں گے۔ قائد کے آخری دنوں یعنی ستمبر تک یہ مرض اکیلا نہیں رہا تھا، نمونیا اور دیگر پیچیدگیاں بھی ساتھ آ ملیں، شاید پھیپھڑوں کا سرطان بھی۔ قائد کا وزن گھٹ کر صرف 36 کلو رہ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: جب اپنا بوجھ اتار پھینکا جائے
36 کلو کا اندازہ لگا لیں، ایک صحت مند 10 سال کے بچے کے برابر وزن۔ ان کے معالج ڈاکٹر الٰہی بخش نے محترمہ فاطمہ جناح کو صاف بتا دیا تھا کہ اگر معجزہ نہ ہوا تو قائد چند دنوں سے زیادہ نہیں نکال پائیں گے۔ یہ باتیں کسی سازشی بلاگ میں نہیں، ان کے اپنے ڈاکٹروں کی کتابوں اور انٹرویوز میں درج ہیں، خصوصاً ڈاکٹر الٰہی بخش کی یادداشتوں میں۔
کراچی، وہ بھی ستمبر میںاب ایک نکتہ ایسا ہے جس پر شاید ہی کبھی غور کیا گیا ہو۔ قائداعظم ستمبر کے مہینے میں کراچی کیوں آئے؟ ہم لاہور والے جانتے ہیں کہ ستمبر آتے ہی پنجاب کا موسم خوشگوار ہونے لگتا ہے، مگر کراچی میں یہی مہینے نسبتاً زیادہ گرم ہوتے ہیں۔ ایک بیمار آدمی، جس کے پھیپھڑے جواب دے چکے ہوں، اسے بھلا اِس گرمی میں کراچی آنے کی کیا جلدی تھی؟ وہ اکتوبر، نومبر میں بھی آسکتے تھے، جب کراچی کا موسم سنبھل جاتا۔
اس کا جواب تلخ ہے، اور ہم احتراماً اسے زبان پر نہیں لاتے۔ حالات سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ قائد اپنی زندگی کے آخری ایام کراچی اپنے گھر میں گزارنے آرہے تھے۔ ریکارڈ میں کراچی منتقلی کی وجہ یہ درج ہے کہ وہاں بہتر طبی سہولتیں دستیاب تھیں، مگر اندر خانے سب جانتے تھے کہ اب گنتی کے دن رہ گئے ہیں۔ پھر یہ بھی ثابت شدہ حقیقت ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ واپسی کو نجی دورہ رکھا جائے، اسی لیے ائیرپورٹ پر انہیں لینے سرکاری افسران یا وزرا وغیرہ نہیں پہنچے۔ بہت سوں کو تو شاید قائد کی واپسی کا علم ہی نہیں ہوگا۔
ایمبولینس کا قصہاب آتے ہیں اُس ایمبولینس کی طرف جس پر سب سے زیادہ شور مچتا ہے۔ ہاں، وہ ایمبولینس راستے میں خراب ہوگئی تھی، انجن نے ساتھ چھوڑ دیا۔ یہ ایک افسوسناک منظر تھا، اس سے انکار کوئی نہیں کرتا۔ مگر بندہ خدا، ذرا اُس وقت کے پاکستان کی حالت بھی تو دیکھیں۔ ملک بنے ابھی ایک برس ہوا تھا، خزانہ خالی، لاکھوں مہاجر کھلے آسمان تلے پڑے۔ تب کتنی گاڑیاں ہوا کرتی تھیں اور ایمبولینسوں کا کیا حال تھا؟
اس بات پر بھی غور کیجیے کہ خود وزیراعظم لیاقت علی خان قائد کی علالت کے دنوں میں زیارت گئے اور ان سے ملاقات کی۔ یہ کوئی رسمی دورہ نہ تھا، کچھ دیر تنہائی میں بھی بات ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ واپسی پر انہوں نے کراچی پیغام بھجوایا کہ حالات کیا ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جناب علامہ شبیر احمد عثمانی کو خاموشی سے پیغام دیا گیا کہ آپ اگلے کچھ دن کراچی ہی میں رہیں، کسی علمی، تبلیغی دورے وغیرہ پر شہر سے باہر نہ جائیں کہ نمازِ جنازہ کے لیے ان کا نام سوچ لیا گیا تھا، شاید قائد کی ہدایت کے مطابق۔
یہ بھی پڑھیں: اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے
مطلب صاف ہے۔ ٹاپ پر موجود سب جانتے تھے کہ اب دن گنتی کے رہ گئے ہیں۔ جہاں پوری قیادت کو معلوم ہو کہ اختتام قریب ہے، وہاں ایک ایمبولینس کے چلنے یا رکنے سے کیا فرق پڑنا تھا؟
میرا دکھ مگر یہ نہیں کہ ایمبولینس خراب ہوئی۔ میرا دکھ یہ ہے کہ ہم نے اس خرابی کو ایک سازش بنا ڈالا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایمبولینس چلتی یا رکتی، قائد کے پاس وقت بہت کم بچا تھا۔ جس آدمی کو ڈاکٹر 2، 4 دن کی مہلت دے چکے ہوں، اسے وقت پر گھر پہنچا کر بھی آپ چند لمحے ہی جوڑ سکتے تھے، زندگی نہیں لوٹا سکتے تھے۔
کٹا پھٹا پاکستان اور ایک بیمار قائدہمارے ہاں یہ تاثر بہت مستحکم ہے کہ قائد نے کٹا پھٹا پاکستان اسی لیے قبول کر لیا کہ انہیں اپنی بیماری کا، اپنے کم بچے وقت کا اندازہ ہو چکا تھا۔ یہ تاثر تاریخ کے بعض حلقوں میں بھی پایا جاتا ہے اور خاکسار کو بھی یہی قرینِ قیاس محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسا آدمی جو جانتا ہو کہ اگر پاکستان سنتالیس کے بجائے اڑتالیس تک لٹک گیا تو شاید وہ اسے بنتا نہ دیکھ سکے، وہ ادھورا پاکستان لینے پر آمادہ ہو جاتا ہے، اس امید پر کہ اپنے ہاتھوں سے اپنا خواب پورا ہوتے دیکھ لے۔ کوئی اسے کمزوری کہے تو کہتا رہے۔ جس آدمی کا جسم جواب دے چکا ہو مگر ارادہ سلامت ہو، وہ ایسے ہی کڑے سودے کیا کرتا ہے۔
سو یہ سب کہانیاں کہ فلاں چیز سے قائد کی زندگی گھٹی، بے بنیاد ہیں۔ وہ تو پہلے ہی اپنی فولادی قوتِ ارادی کے بل پر ہی زندہ تھے۔ جسمانی سکت ختم ہو چکی تھی۔ حکومتی کام کاج اب وہ نہیں کر سکتے تھے۔
حرفِ آخرصاحبو! بات اتنی سی ہے، قائداعظم نے ایک بھرپور، شاندار زندگی گزاری، اپنا خواب پورا کیا، پاکستان بنایا، اور پھر اپنے آخری سفر پر روانہ ہو گئے۔ اس میں کوئی سازش نہیں تھی۔ چھپا ہاتھ ڈھونڈنے والے بس ڈھونڈتے ہی رہ جائیں گے۔
مسئلہ بس یہی ہے کہ اگر کوئی بات سیدھے سادے طریقے سے ختم ہو جائے تو ہم میں سے بہت سوں کی مریضانہ ذہنیت کو سکون اور مزا نہیں آتا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم تاریخ کو سمجھنے سے زیادہ، اسے سنسنی خیز بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ شاید اسی لیے ہمارے ہاں افسانے زیادہ مقبول ہوتے ہیں اور حقائق کم۔
ہمیں لطف سازشی تھیوری گھڑنے میں آتا ہے، بطور پاکستانی اپنے آپ کو لعن طعن کرنے، اپنے سر میں خاک ڈالنے، اور پھر آنسو بہانے میں۔ گویا اس کے بغیر ہم اچھے اور سچے پاکستانی کہلا ہی نہیں سکتے۔
میری دعا بس اتنی ہے کہ اللہ ہمیں اپنے محسنوں کو عزت سے یاد کرنے کی توفیق دے۔ اور یہ جو ہماری پرانی عادت ہے، ہر اچھی چیز میں کیڑے نکالنے اور ہر سانحے میں سازش ڈھونڈنے کی، اللہ ہمیں اس سے بچائے۔ آمین۔ باقی کہانیاں ہیں بابا، اور کہانیوں کا کیا، وہ تو بنتی رہیں گی۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔
we news زیارت سازشی تھیوری قائداعظم کراچی