چھینک اور جماہی کے آداب
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
چھینک آنا اچھی بات ہے، چھینک انسان کی صحت کی علامت ہے، نزلے کے وقت، نیز عام اوقات میں بھی جب چھینک آتی ہے تو انسان کا دماغ، کان اور ناک کے راستے صاف ہوتے ہیں، آنکھوں میں ٹھنڈک پیدا ہوتی ہے، سر کا بوجھ کم ہوجاتا ہے، جب نومولود بچہ چھینکتا ہے تو والدین اور معالجین چھینک کو بچے کی تندرستی کی علامت سمجھ کر خوش ہوجاتے ہیں، غرض کہ چھینک انسان کی نشاط وچستی کا سبب ہے، جس سے انسان کو اعمال وطاعات، نیز دنیوی کاموں میں نشاط پیدا ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اللہ کے نبی علیہ السلام نے فرمایا:
اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند فرماتے ہیں (رواہ البخاری عن ابی ہریرة)، کیوں کہ اعمال میں چستی ونشاط کا سبب ہوتی ہے۔
دین ِاسلام کی خوبی اور کمال یہ ہے کہ اسلام انسان کو کامل واکمل بنانے کے لیے ہر چھوٹے اور بڑے ادب سے اس کو آراستہ ومزین کرتا ہے۔ اسلام نے انسانی ضروریات میں سے ہر ضرورت سے متعلق بہترین آداب وتعلیمات کو پیش کیا ہے، من جملہ ان کے چھینک ہے، جسے ہم معمولی چیز سمجھتے ہیں، اس کے آداب کو بھی بیان کیا ہے، لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم چھینک کے آداب کو معلوم کریں اور ان پر عمل کریں۔
چونکہ چھینک اللہ کی نعمتِ صحت وتندرستی کی علامت، چستی اور نشاط کا سبب ہے، اس لیے چھینک آنے پر الحمدللّٰہ کے ذریعے اللہ کا شکر ادا کرنے کو مستقل عبادت قرار دیا گیا ہے۔
رسولؐ نے فرمایا:
جب تم میں سے کوئی چھینکے تو الحمد للّٰہ کہے (رواہ البخاری عن ابوہریرہ)۔
چھینک کے آداب
(1) جب کسی شخص کو چھینک آئے تو الحمدللّٰہ کہے (رواہ البخاری عن ابی ھریرہ) یا اَلْحَمْدُ لِلہِ عَلیٰ کُلِّ حَال کہے (رواہ الترمذی عن ابن عمر)، دونوں صورتیں جائز ہیں۔
(2) جب چھینکنے والا اپنی چھینک پر الحمد للّٰہ کہے، تو سننے والا اس کے جواب میں یرحمک اللّٰہ کہے (بخاری)۔
(3) یرحمک اللّٰہ کے جواب میں چھینکنے والا یَھْدِیْکُمُ اللّٰہُ َویُصْلِحُ بَالَکُمْ یا یَغْفِرُاللہُ لَنَا وَلَکُمْ کہے (بخاری)۔
(4) چھینکنے والا چھینک کے وقت اپنے چہرے کو کپڑے یا کم از کم ہاتھ سے ڈھانک لے (تاکہ چھینک کے وقت ناک اور منہ سے نکلنے والی ریزش سے کسی کو تکلیف نہ ہو، نیز کھانے پینے کی چیزوں میں ناک اور منہ کی رطوبات نہ گریں)۔
(5)چھینک کے وقت اپنی آواز کو پست رکھے۔
آپ علیہ السلام چھینک کے وقت اپنے چہرے کو کپڑے یا ہاتھ سے ڈھانک لیتے تھے اور آواز کو پست کر لیا کرتے تھے (ابوداؤد)۔
(6) محرم عورتیں چھینک کر الحمدللہ کہیں تو محرم مردوں کے لیے یرحمک اللّٰہ کہنا ضروری ہے، نیز مرد محارم کی چھینک کا جواب دینا بھی ضروری ہے (ہندیہ)۔
چھینک کا جواب
مسلمان بھائی چھینک کر الحمدللّٰہ کہے تو اس کے جواب میں یرحمک اللہ کہنا یہ اس کا شرعی حق ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک مسلمان بھائی پر دوسرے مسلمان بھائی کے لیے چھ حقوق ہیں: (۱)جب کوئی مسلمان بھائی بیمار ہو جائے تو اس کی عیادت کرے، (2)جب کسی مسلمان کی وفات ہوجائے تو اس کے جنازے میں شرکت کرے، (3)اگر دعوت دے تو قبول کرے، (4)سلام کرے تو سلام کا جواب دے، (5)چھینک پر الحمدللّٰہ کہے تو اس کے جواب میں یرحمک اللّٰہ کہے، (6)مسلمان بھائی کی موجودگی اور غیر موجودگی میں اس کے ساتھ خیرخواہی کا معاملہ کرے (مسلم، حقوق المسلم)۔
جب چھینکنے والا الحمدللّٰہ کہے تو سننے والے پر یرحمک اللہ کہنا بعض علما کے نزدیک واجب ہے، (فتاوی ہندیہ میں یہی قول نقل کیا ہے) بعض علما نے مستحب قرار دیا ہے، جمہور علما کے نزدیک فرضِ کفایہ ہے، (فتاوی ہندیہ میں واجب لکھا ہے) لہٰذا چھینکنے والے کی الحمدللّٰہ سننے والا ایک شخص ہو تو ضرور یرحمک اللّٰہ کہنا چاہیے، اگر ایک جماعت ہو تو ان میں سے کسی ایک شخص کی طرف سے یرحمک اللّٰہ کہنا کافی ہے (عمدۃ القاری)۔
مندرجہ ذیل مواقع میں چھینک کا جواب ضروری نہیں:
(1)جو آدمی چھینک کر الحمدللہ نہ کہے (بخاری)۔
آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:
جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے اور وہ الحمدللہ کہے تو تم جواب دو، اگر وہ الحمدللہ نہ کہے تو اس کا جواب مت دو (رواہ البخاری)، لہذا جو شخص اپنی چھینک پر الحمدللہ نہ کہے وہ جواب کا مستحق نہیں ہے۔
سیدنا انسؓ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دو شخص حاضر تھے، دونوں کو چھینک آئی، آپ ؐ نے ایک شخص کی چھینک پر یرحمک اللّٰہ فرمایا، دوسرے کی چھینک پر یرحمک اللّٰہ نہیں فرمایا۔ اس پر دوسرے شخص نے عرض کیا، یارسول اللہ! آپ نے اس کے لیے یرحمک اللّٰہ فرمایا، میرے لیے نہیں فرمایا۔ آپ نے ارشاد فرمایا: اس نے چھینک پر الحمدللّٰہ کہا؛ اس لیے وہ جواب کا مستحق ہوا اور تم نے اپنی چھینک پر الحمدللّٰہ نہیں کہا تو تم جواب کے مستحق نہیں ہوئے (متفق علیہ)۔
(2)جب آدمی تین مرتبہ سے زیادہ چھینکے، تو جواب دینا ضروری نہیں ہے، چاہے تو جواب دے، چاہے تو جواب نہ دے (رواہ ابوداؤد)۔
(3)بے ایمان کی چھینک کے جواب میں یرحمک اللہ کہنا جائز نہیں ہے۔
سیدنا ابوموسیؓ فرماتے ہیں:
یہودی لوگ رسول اللہ صلی اللہ وسلم کی خدمت میں چھینکتے تھے (چھینک پر الحمدللہ بھی کہتے) اور یہ امید رکھتے کہ آپ علیہ السلام جواب میں یرحمک اللہ فرمائیں گے؛ لیکن آپ علیہ السلام ان کے جواب میں یرحمک اللّٰہ نہ فرماتے (اس لیے کہ وہ اپنی بے ایمانی کی وجہ سے اللہ کی رحمت کے مستحق نہیں ہیں، لہٰذا ان کو رحمت کی دعا نہیں دی جاسکتی) بلکہ ان کے جواب میں آپ علیہ السلام یَھْدِیْکُمُ اللہُ وَیُصْلِحُ بَالَکُمْ فرماتے (اللہ تم کو ہدایت دیں اور تمہارے احوال درست فرمائیں) (رواہ ابوداؤد)۔
(4) جمعہ وعیدین کے خطبات کے وقت میں جواب نہ دے (عمدۃ القاری)۔
(5)اگر کوئی شخص بیت الخلا میں چھینک کر الحمد للّٰہ کہے تو اس کا جواب بھی لازم نہیں (عمدۃ القاری)۔
مسئلہ:اگر کسی شخص کو نماز میں چھینک آگئی اور اس نے بے اختیار الحمد للّٰہ کہہ دیا تو نماز فاسد نہیں ہوگی، جو نمازی چھینکنے والے کے جواب یرحمک اللہ کہے، اس کی نماز فاسد ہوجائے گی (ہدایہ)۔
جماہی کے آداب
رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند فرماتے ہیں اور جماہی کو ناپسند فرماتے ہیں۔ جماہی شیطان کی طرف سے ہے لہٰذا جہاں تک ہوسکے اس کو روکے، جب (تم میں سے کسی کو جماہی آتی ہے اور) وہ منہ کھولے ہاء، ہاء کہتا ہے تو شیطان ہنستا ہے (رواہ البخاری عن ابی ھریرہ)۔
جماہی زیادہ کھانے، آنتوں کے بھر جانے، نفس وطبیعت کے بوجھل ہو جانے اور حواس کی کدورت کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے، جو غفلت، سستی اور سوئے فہم کا سبب بنتی ہے، نیز جماہی کے وقت انسان کا چہرہ طبعی حالت پر باقی نہیں رہتا ہے، جس کی وجہ سے شیطان خوش ہو جاتا ہے کہ انسان کی طبعی حالت بھی متغیر ہوئی، نیز اب یہ انسان طاعات واعمال اور دیگر ضروری امور میں سستی اور کاہلی کا شکار ہوگا۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ یہی وجہ ہے کہ رسولؐ کو عمر بھر جماہی نہیں آئی ہے، جس کی صراحت مصنف ابن شیبہ کی روایت میں موجود ہے۔ نیز علامہ خطابی رحمہ اللہ علیہ نے مسلم کی روایت سے بیان کیا ہے کہ کسی بھی نبی کو جماہی نہیں آئی (فتح الباری)۔
جماہی شیطان کی طرف سے ہوتی ہے، لہٰذا جب تم میں سے کسی کو جماہی آئے تو جہاں تک ہوسکے اس کو دفع کرے (بخاری)۔ یعنی جبڑوں کو مضبوطی سے دبالے، اگر بے قابو ہو جائے تو منہ پر ہاتھ رکھ لے۔
سیدنا ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے، آپ علیہ السلام نے فرمایا:
جب تم میں سے کسی کو جماہی آئے تو اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لے، اس لیے کے شیطان منہ میں داخل ہو جاتا ہے (رواہ مسلم)۔ لہٰذا منہ پر ہاتھ رکھے۔
علما نے لکھا ہے کہ اگر انسان تلاوت، دینی گفتگو وغیرہ میں مشغول ہو اور جماہی آجائے تو جماہی کو مکمل طور سے بند ہوجانے کے بعد تلاوت کرے، جماہی کے وقت ہا، ہا، کرتے ہوئے تلاوت، دینی باتیں اور ضروری باتیں نہ کرے۔
مولانا عبد اللطیف قاسمی
گلزار
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے جواب میں یرحمک الل رسول اللہ صلی اللہ تم میں سے کسی کو رواہ البخاری عن ا پ علیہ السلام چھینک پر الحمد چھینک کر الحمد چھینکنے والا مسلمان بھائی چھینک کے وقت فرماتے ہیں یرحمک اللہ اللہ علیہ میں چھینک نے فرمایا کو جماہی جماہی کے کی چھینک الحمد لل کے ا داب چھینک ا کا جواب جماہی ا ہوتی ہے کیا ہے اس لیے ہ کہنا کے لیے کا سبب
پڑھیں:
ناتمام (آخری قسط)
ہارون صاحب کی کتاب ’’ناتمام‘‘ میں کچھ غیر معمولی شخصیات کے بارے میں لکھی گئی تحریریں بے حد دلنشین ہیں۔ ایک جگہ لکھتے ہیں ’’کبھی کبھی یہ طالب علم سوچتا ہے سیدنا علی بن عثمان ہجویریؒ کے بعد شاید اقبالؔ ہی وہ مفکر تھے، جنھوں نے امت کے ادبار پر دل سوزی کے ساتھ پیہم تدبر کیا، جس برصغیر میں وہ پیدا ہوئے تھے، اسے الوداع کہا تو وہ بدل چکا تھا، مسلم برصغیر کو امید اور امکان کی راہ دکھانے میں ان کا حصہ کسی بھی شخص سے زیادہ تھا، یہ اقبالؔ ہی تھے، جنھوں نے کہا تھا: جہاں کہیںجہاں میں روشنی ہے، مصطفیؐ کے طفیل ہے یا مصطفی ؐ کی تلاش میں! ۔۔۔۔‘‘
’’سیّد ابوالاعلیٰ نے آخری دنوں میں اقبالؔ سے فیض پایا۔ ان کی وفات پر اپنے مضمون ’’اقبالؔ، میرا نفسیاتی سہارا‘‘ میں لکھا ’قرآنِ کریم ان کے لیے ایک شاہ کلید تھا، تمام بند دروازے جس سے کھل جاتے‘آج کل کے دانشور کیا ہیں کہ مغرب کی چکاچوند نے جنھیں اندھا کردیا، جو یہ نہیں سمجھتے کہ ترقی، علم اور ارتقا، تقلید میں نہیں ہوتا، جہاں جو چیز اچھی ہے، وہ لے لی جاتی ہے اور جو ناقص ہو، وہ ترک کردینی چاہیے اور یہ عالمانِ دین ہیں کہ اکیسویں صدی میں قبائلی عہد میں زندہ رہنے پر مصر ہیں، جنھیں سرکارؐ کا پڑھایا ہوا اولین سبق ہی یاد نہیں۔ غوروفکر، حسنِ کلام، حکمت اور دلیل کے ساتھ مکالمہ، دردمندی اور دل سوزی کے ساتھ تفکّر اور تدبّر درکار ہے۔‘‘
مصنّف قائد اور اقبالؒ کا پھر ایک کالم میں ذکر کرتے ہیں ’’یہ قوم اپنے دو عظیم رہنماؤں کو بھول گئی۔ جناح ایسے تھے کہ عمر بھر تین باتوں کا طعنہ انھیں کبھی نہ دیا گیا۔ کبھی وعدہ نہ توڑا، کبھی مالی بے قاعدگی نہیں، کبھی جھوٹ نہ بولا۔ اقبالؔ ایسے کہ تمام فکری تعصبات سے اوپر اٹھ کر سوچ بچار کیا اور پیہم کیا، تمام خلوص، تمام صلابتِ کردار۔۔ نہیں، فقط سیاست سے ہماری زندگی نہیں بدلے گی، تعلیم، غوروفکر اور حسنِ کردار۔ حضورؐ نے ارشاد فرمایا تھا: اللہ جسے ہدایت دینا چاہے، اپنی آنکھ اس پر کھول دیتا ہے۔ دوسروں کے عیب چننے سے نہیں، حیات اپنی اصلاح سے ثمر بار ہوتی ہے۔‘‘ مصنّف نے کیا دلپذیر باتیں لکھی ہیں جو ہرشعبۂ حیات کے لیڈر کو پڑھنی چاہئیں۔
ناتمام میں مصنف نے بھٹوصاحب کا بھی تجزیہ کیا ہے، لکھتے ہیں ’’بھٹو حیرت انگیز خامیوں اور خوبیوں کا مجموعہ تھے۔ 1965کی جنگ کے ہنگام وہ ایک قوم پرست بن کر ابھرے، جب بھارت کے خلاف ہزار سالہ جنگ کا انھوں نے نعرہ لگایا، غریب آدمی کے احساسات کا انھوں نے ادراک کیا، سندھ اور پنجاب میں وہ ایک مقبول رہنما بن کر ابھرے مگر 1970 کے انتخابی نتائج کو عملاً انھوں نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ شیخ مجیب الرحمٰن کو واضح اکثریت حاصل ہوئی تو جنرل یحییٰ سے انھوں نے گٹھ جوڑ کرلیا اور انتقالِ اقتدار کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گئے، ان دو آدمیوں کی ہوسِ اقتدار نے پاکستان کے دولخت ہونے کی بنیاد فراہم کی۔‘‘
پھر لکھتے ہیں ’’ایک راز بھٹو نے پالیا تھا۔ لیڈر وہ شخص ہوتا ہے، جو کسی قوم کی عمیق ترین، سب سے بنیادی اور سب سے بڑی آرزو کو پوری طرح پہچان لے۔ جنگِ ستمبر تک، وہ فیلڈ مارشل ایوب خان کے درباری تھے، کبھی اسے صلاح الدین قرار دیتے اور کبھی ایشیا کا ڈیگال۔ جنگِ ستمبر میں پہلی بار دلوں میں یہ امید جاگی کہ کشمیر پہ دشمن بھارت کا تسلّط تمام ہوسکتا ہے، بھٹو نے اس نجیب آرزو کو پہچانا اور اس کا مظہر بن گئے، اقوامِ متحدہ میں جاری مباحث کے دوران، جن کا ایک ایک لفظ غور سے پڑھا اور سنا جایا کرتا، بھٹو نے بھارت کے ’’میسنے‘‘ وزیرِ خارجہ سردار سورن سنگھ کو مخاطب کرکے کہا: لڑنا پڑا تو کشمیر کے لیے ایک ہزار برس تک بھی ہم لڑیں گے، تبھی وہ ہیرو بن کر ابھرے۔ ہاں! مگر ان کا کوئی عقیدہ نہ تھا، قوم پرست وہ یقیناً تھے اور بے شک انھوں نے پہلی بار Anti Estabhishment پارٹی تشکیل دی مگر خود پسند، اقتدار کے حریص اور نرگسیت کے مارے۔ باقی سب تاریخ ہے"
پاکستانی سیاست کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں’’ پاکستانی سیاست اور معاشرے کا مرض یہ ہے کہ سائنسی اندازِ فکر سے وہ محروم ہے۔ تعصّبات اور جذبات کا غلبہ اس قدر ہے کہ کبھی نفرت چھا جاتی ہے اور کبھی محبت۔ بھٹو صاحب کے مداحوں سے عرض کیجیے کہ بے شک مقبول وہ بہت تھے۔
بجا کہ ملک کو انھوں نے دستور عطا کیا، ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی، جذباتی توازن سے مگر وہ محروم تھے اور پرلے درجے کے انتقام پسند۔ دوسروں کا تو ذکر ہی کیا، اپنی پارٹی کے سیکریٹری جنرل جے رحیم کو پٹوایا۔ قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے رکنِ اسمبلی ملک سلیمان اور ان کے خاندان کی تذلیل کی، اپنے وزیرِ اعلیٰ حنیف رامے کو شاہی قلعے میں قید رکھا۔ پارٹی کے ایک دوسرے لیڈر احمد رضا قصوری پر قاتلانہ حملے میں ان کے والد مارے گئے۔ کوئی نہیں سنتا، کوئی نہیں مانتا۔‘‘
کتاب کے مصنّف، عمران خان کے سب سے بڑے سپورٹر تھے اور شاید اب بھی ہیں مگر اس کتاب میں انھوں نے اس کی خامیاں بھی چھپانے کی کوشش نہیں کی، لکھتے ہیں ’’لاہور میں موسم بہار کی ایک سویر جب میں زمان پارک میں اسے ملنے گیا تو وہ ورزش میں مصروف تھا۔ کچھ دیر کے بعد وہ نمودار ہوا اور ضرورت سے زیادہ پُراعتماد لہجے میں کہا’’اپنے جسم پر بھی آدمی کو سرمایہ کاری کرنی چاہیے‘‘ ۔ ’’جی ہاں‘‘۔ عرض کیا ’’اپنے ذہن پر بھی‘‘۔ اسے دھچکا لگا ’’تمہارا مطلب یہ ہے کہ میں نے ذہن پہ سرمایہ کاری نہیں کی‘‘۔ ہاں! میں نے جواب دیا ’’میرا مطلب یہی ہے‘‘۔ بدمزہ نہیں، وہ کچھ حیران سا ہوا اور ناشتے میں جُت گیا، پھل، دہی، ڈبل روٹی کے دو ٹکڑے اور بہت سا جوس۔ مجال ہے کہ ایسے میں دوسروں کو وہ دعوت دے‘‘۔
پھر لکھتے ہیں ’’عمران خان اپنی پہاڑ سی غلطیوں کو بھلا کر ظفرمندی کے خواب کا اسیر تھا، 11 مئی کی صبح احسن رشید سے کہا کہ انتخابی نتائج سنتے ہی شوکت خانم اسپتال آجانا کہ جشن منایا جاسکے۔ اپنے بچوں سے لندن میں کہہ آیا تھا کہ اگلی بار وزیراعظم کی حیثیت سے برطانیہ آئے گا۔ نتیجہ نکلا تو صرف اس کی نہیں، پارٹی کے تمام بزر جمہروں کی رائے یہ تھی کہ قبول کرلینا چاہیے۔
الجھے ہوئے ذہن کے ساتھ کئی ماہ وہ مخمصے کا شکار رہا، پارٹی کو ان دنوں دو تین گھنٹے سے زیادہ وقت نہ دیا کرتا۔ شاطروں نے سمجھ لیا کہ اسے الّو بنانے میں کامیاب رہے‘‘۔ ایک اور جگہ لکھتے ہیں ’’ناقابلِ فہم بات یہ ہے کہ دس حلقے کھولنے کی شرط کے ساتھ مفاہمت پہ آمادگی کے بعد تحریکِ انصاف کے سربراہ وزیراعظم کے استعفیٰ کی تاریخیں کیوں دینے لگے؟ نوبت پھر تھرڈ امپائر کی انگلی تک پہنچی، بلا استثنیٰ سبھی کا تاثر یہ تھا کہ کپتان کا اشارہ عسکری قیادت کی طرف ہے۔ کئی دن بعد کپتان نے اعلان کیا کہ ان کی مراد اللہ تعالیٰ سے تھی۔ اللہ تعالیٰ امپائر نہیں، وہ کائنات اور زندگی کا خالق ہے۔ حیات کی تمام حرکیات اور قوانین کا، وہ دلوں کے بھید جانتا ہے۔ ذاتِ باری تعالیٰ کو کرکٹ کے امپائر سے تشبیہہ دینا پرلے درجے کی بدذوقی اور سطحیت تھی۔ کپتان اگر انھی لوگوں کے زیرِ اثر رہا، جن کے زیرِ اثر ہے تو مستقبل میں بھی اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے‘‘۔
کچھ دوسرے لیڈروں کے بارے میں لکھتے ہیں ’’چوہدری نثار علی میں صلاحیّت بے پایاں تھی مگر روحانی جہت معمولی۔ کھٹ سے اللہ کی رحمت کا دروازہ کھلتا مگر بن مانگے تو گاہے وہ گھاس بھی نہیں دیتا، چہ جائیکہ عظمت ورفعت۔ یوں بھی عظمت غریبوں، دکھ جھیلنے اور ایثار کرنے والوں کے لیے ہوتی ہے۔ چوہدری کہاں، شریف برادران کہاں، ان کے مقاصد محدود ہیں۔ اقتدار کا انبساط، جو دنیا کا سب سے تباہ کن نشہ ہے، جان چھوڑتا ہی نہیں، عزتِ نفس اور شان وشوکت کا ایک سطحی سا تصور۔عمران خان سمیت سبھی کا حال پتلا ہے۔ پانی پت کی تیسری جنگ لڑنے جاتے ہیں اور لشکر سراج الدولہ سے بدتر۔ رہے علّامہ طاہرالقادری تو جرأت ہی نہیں، جسارت ہی نہیں، فقط زورِ خطابت۔ کوئی دن میں غبارہ پھٹ جائے گا‘‘۔
’’اچھی حکمرانی کی بے تاب تمنا بھی بجا۔ بحث بہت ہوچکی۔ سیاست کے قرینوں سے اب ہم آگاہ ہیں مگراس کے لیے سیاست کافی نہیں زندگی جوڑ توڑ سے بہت بڑی ہے۔ علم اور اخلاق کے بغیر معاشرے، اقوام نہیں، ریوڑ ہوتے ہیں۔ علم، اخلاق اور تربیت۔ قرآن کریم اور اس کا صاحب انوار شارع۔۔ اور ہاں جدید علم!‘‘
ہر طبقۂ فکر کے لوگوں خصوصاً سیاست میں دلچسپی رکھنے والوں کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔