امریکا اور اسرائیلی رجیم کو اپنی جارحیتوں کا جواب دینا ہوگا، ایران
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
نمائندے نے ایران کی صنعت پر عائد یکطرفہ قہری اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات اور ان کے سرحد پار اثرات نے بین الاقوامی تعاون اور کثیرالجہتی نظام کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جو اقوام متحدہ کے منشور اور یونیدو کے مقاصد کے سراسر منافی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سعودی عرب میں ایران کے سفیر نے اقوام متحدہ کی صنعتی ترقیاتی تنظیم (یونیدو) کی جنرل کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے امریکا اور صہیونی رجیم کی جانب سے ایران کے صنعتی ڈھانچے پر حملے کی جانب اشارہ کیا اور زور دیا کہ جارح قوتوں کو اپنی جنایات کا جواب دینا ہوگا۔ تسنیم نیوز ایجنسی کے شعبۂ خارجہ امور کے مطابق، علیرضا عنایتی، سعودی عرب میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر، نے 5 آذر کو یونیدو کی 21ویں جنرل کانفرنس میں ایران کی نمائندگی کرتے ہوئے گروپ 77 اور چین کے بیان، نیز ہم فکر ممالک کے گروپ کے بیان میں یونیدو کے رکن ممالک پر یکطرفہ زورآور اقدامات کی مذمت کی گئی تھی، اس کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔ عنایتی نے زور دیا کہ صہیونی رژیم نے امریکا کی شراکت سے ایران کے عوام اور صنعتی تنصیبات پر حملہ کیا، جو ایک کھلی جارحیت تھی اور اس کے نتیجے میں ہزاروں بے گناہ افراد، جن میں خواتین، بچے، سائنس دان اور صنعتی شعبے کے کارکنان شامل ہیں، شہید ہوئے یا زخمی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ حملہ آوروں کو ان جنایات کے لیے جواب دہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔ ایران کے نمائندے نے ایران کی صنعت پر عائد یکطرفہ قہری اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات اور ان کے سرحد پار اثرات نے بین الاقوامی تعاون اور کثیرالجہتی نظام کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جو اقوام متحدہ کے منشور اور یونیدو کے مقاصد کے سراسر منافی ہے۔ آخر میں ایرانی سفیر نے پائیدار صنعتی ترقی کے فریم ورک کے تحت یونیدو کی سرگرمیوں کے لیے ایران کی مستقل اور بھرپور حمایت پر زور دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
اسحاق ڈار---فائل فوٹونائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکا ایران تنازع میں پاکستان کی ثالثی کوششوں کو یورپی یونین کی جانب سے سراہا گیا ہے، پاکستان خطے میں امن، سفارت کاری اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
یورپی یونین کی رہنما کایا کالاس کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ آخری یورپی یونین وزٹ 7 سال پہلے ہوا تھا، ہم پچھلے سال بھارت پاکستان جنگ اور ایران امریکا تنازع کے دوران قریبی رابطے میں رہے، آج ہم نے مشترکہ طور پر اسٹریٹیجیک مذاکرات کی صدارت کی، ہم نے پچھلے سال نومبر میں مشترکہ اسٹریٹیجیک مذاکرات کیے تھے، امریکا ایران تنازع کے دوران یورپی یونین کے تعاون کا مشکور ہوں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم نے سیکیورٹی ایشوز اور دہشت گردی کے امور پر بھی بات کی، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی افغانستان میں موجودگی پر بھی بات کی، پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات میں مثبت پیشرفت جاری ہے، کایا کالاس کا دورہ اس کا واضح ثبوت ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ امور اور سیکیورٹی پالیسی کی سربراہ نے امریکا ایران تنازع کے حل کے لیے پاکستان کےثالثی اقدامات کی تعریف کر دی۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان آٹھواں اسٹریٹجک ڈائیلاگ اعلیٰ ترین ادارہ جاتی مکالمہ ہے، پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون کے فروغ پر اتفاق ہوا، جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت پاکستان اور یورپی یونین کا تجارتی تعاون دونوں فریقوں کے لیے فائدہ مند ہے، اسلام آباد میں پاکستان یورپی یونین بزنس فورم کا انعقاد دو طرفہ اقتصادی تعلقات کے فروغ میں اہم پیش رفت ہے۔
نائب وزیرِ اعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر تنازع کا حل کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے، انڈس واٹرز معاہدہ برقرار ہے، حالیہ عدالتی فیصلے نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے، افغان سر زمین سے دہشت گرد عناصر کی پاکستان میں کارروائیاں بدستور ہماری بڑی تشویش ہیں، پاکستان اور یورپی یونین نے دو طرفہ تعلقات کو جامع اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔