Al Qamar Online:
2026-06-02@22:46:35 GMT

دہلی دھماکا،بھارتی پولیس نےکشمیریوں کاجیناحرام کردیا

اشاعت کی تاریخ: 21st, November 2025 GMT

دہلی دھماکا،بھارتی پولیس نےکشمیریوں کاجیناحرام کردیا

آگرہ، : دہلی کار دھماکوں کے بعدبھارتی پولیس نے ملک بھر میں کشمیری مسلمانوں کا جینا حرام کردیا ہے۔

تازہ واقعے میں آگرہ کے منٹولا میں رہنے والے کشمیری نوجوانوں سے پوچھ گچھ کی ہے، انہیں تصدیق کے لیے تھانے بھی بلایا گیا۔

 پولیس کی کارروائی سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، کیونکہ لوگوں کو سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا کہ معاملہ کیا ہے؟ لوگوں کو اس معاملے کے بارے میں یقین نہیں تھا۔

 آگرہ کے اداروں میں زیر تعلیم کشمیری طلبہ بھی سکیورٹی ایجنسیوں کے ریڈار پر ہیں۔ڈی سی پی سٹی سید علی عباس نے بتایا کہ ایل آئی یو کے ان پٹ کی بنیاد پر پورے شہر میں تصدیق کی جا رہی ہے۔

ایل آئی یو کو اطلاع ملی تھی کہ منٹولا میں کشمیری نوجوان رہتے ہیں لیکن مقامی پولیس اس سے لاعلم تھی۔ اس لیے تمام کشمیری نوجوانوں کو جمعرات کو تھانے بلایا گیا۔ ان سے پوچھ گچھ کی گئی۔

اس بات کا تعین کیا گیا کہ آیا ان کے خلاف کوئی کیس زیر التوا یا نہیں ہے۔ ان کے سرٹیفکیٹس کی بنیاد پر کشمیر سے بھی تحقیقات کی جارہی ہیں۔

یہ بھی انکشاف ہوا کہ تمام نوجوان برسوں سے یہاں سردیوں میں گرم کپڑے بیچنے آتے رہے ہیں، سردیوں سے پہلے انہوں نے آگرہ میں مکان کرائے پر لے لیا۔

 پولیس کی کارروائی سے پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور کشمیریوں کے بارے میں بات چیت کی جارہی ہے۔

ڈی سی پی سٹی سید علی عباس نے بتایا کہ کشمیری نوجوانوں کی ابتدائی تفتیش میں کوئی مشتبہ شخص سامنے نہیں آیا۔ شہر کے دیگر علاقوں میں رہنے والے کشمیری نوجوانوں کی بھی اسی طرح تصدیق کی جا رہی ہے۔

دہلی کار بم دھماکے کے سلسلے میں لکھنو ¿ میں گرفتار کیے گئے ڈاکٹر پرویز کا آگرہ سے تعلق تھا۔ ڈاکٹر پرویز نے آگرہ کے ایس این میڈیکل کالج سے ایم ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ سکیورٹی ایجنسیاں اور یوپی اے ٹی ایس کی ٹیمیں اس بات کی تحقیقات کر رہی ہیں کہ ڈاکٹر پرویز اپنی پڑھائی کے دوران کس کس سے رابطے میں تھے۔

 اس کے قریبی ساتھی کون ہیں؟ کون کون اس سے ملنے آیا کرتا تھا۔ڈاکٹر پرویز کی بہن ڈاکٹر شاہین بھی آگرہ آئی تھیں۔ نتیجتاً ایجنسیاں ڈاکٹر پرویز اور ڈاکٹر شاہین کے رابطوں کی چھان بین کر رہی ہیں۔

 ایس ٹی ایف اور اے ٹی ایس کی ٹیموں نے ایس این میڈیکل کالج کا دورہ کیا اور پوچھ گچھ کی۔ ٹیم نے ہاسٹل اور شعبہ طب کی بھی تلاشی لی۔ 2009 سے 2016 تک کے جونیئر ڈاکٹروں کی تفصیلات بھی مانگی گئی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل کشمیری نوجوانوں ڈاکٹر پرویز

پڑھیں:

بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان

سیکیورٹی اداروں نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے معلومات فراہم کرنے والے شخص کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا ہے، جبکہ ان کی تلاش کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران حبیبہ پیرجان کی رہائش گاہ سے ڈائریاں، کالعدم بی ایل اے کے ہلاک دہشتگردوں سے متعلق ریکارڈ، ریاست مخالف مواد اور بھارتی فنڈنگ کے شواہد برآمد ہوئے۔ تحقیقات سے حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، کے ساتھ روابط سامنے آئے۔

مزید پڑھیں: آسٹریلیا کی جانب سے بی ایل اے اور 3 سینیئر رہنماؤں پر دہشتگردی کے الزامات کے تحت پابندیاں عائد

سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی پروپیگنڈا شاعری اور زہریلی سوشل میڈیا سرگرمیاں معصوم نوجوانوں میں ریاست مخالف بیانیے اور باغیانہ سوچ کو فروغ دینے کے لیے استعمال کی جاتی رہی ہیں۔

حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں۔ انہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا تھا، تاہم علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔

کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، کالعدم بی ایل اے کے ہلاک شدہ عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا۔ سیکیورٹی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد میں بھارتی مالی معاونت اور ریاست مخالف سرگرمیوں سے متعلق بعض اہم شواہد بھی شامل ہیں جن کا مزید تجزیہ کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات اور انٹیلیجنس معلومات سے حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، بالخصوص رستم پیرجان، کے ساتھ مبینہ قریبی روابط کی نشاندہی ہوئی ہے۔ انہوں نے ضلع کیچ کے دشت کے پہاڑی علاقوں میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 ملاقاتیں کیں، جن میں ایک ملاقات رواں سال 14 فروری کو ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) سے وابستہ متعدد شخصیات سے روابط اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے ریاست مخالف مواد کی تشہیر میں سرگرم کردار ادا کرتی رہی ہیں۔

ذرائع کے مطابق حبیبہ پیرجان کی شاعری اور تحریروں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ دستیاب مواد میں ایسی نظمیں اور اشعار شامل ہیں جن میں مسلح عناصر کی تعریف، ریاستی اداروں کے خلاف بیانیے کی ترویج اور نوجوانوں کو باغیانہ سوچ کی جانب راغب کرنے کے عناصر پائے جاتے ہیں۔

ان کی اکثر نظموں میں مسلح گروہوں اور شدت پسندوں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے، جبکہ بعض تحریروں میں نوجوانوں کو انتخابی عمل سے دور رہنے، ریاستی اداروں کے خلاف نفرت پیدا کرنے اور مسلح جدوجہد کی حمایت پر آمادہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ کالعدم بی ایل اے کے ایک گروپ کے اشتہاری سربراہ حربیار مری کی تحسین میں بھی ایک نظم لکھی گئی ہے، جس کا اردو ترجمہ اور عکس بھی موجود ہے:

حربیار مری کے نام

ٹوٹا ہوا وطن کا آواز ہے حربیار

کالی رات کا خوف ہے حربیار

پہاڑوں میں کھڑا ہوا ہے اپنی بات کہ اوپر

ایک آگ کی طرح ہے حربیار

اسکو خبر ہے اس راستہ کا

آجاؤ ہمسفر ہماری آواز ہے حربیار

حبیبہ سو دفعہ سوچ چکی ہے

ہر بلوچ کا درد وار ہے حربیار

حکام کے مطابق ایسے مواد کو شدت پسندی اور دہشتگردی کے لیے ہمدردی پیدا کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی

سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان کے خلاف دستیاب شواہد اور برآمد شدہ مواد کا فرانزک و قانونی جائزہ جاری ہے، جبکہ ان کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ حکام کے مطابق مطلوب خاتون کے بارے میں مصدقہ معلومات فراہم کرنے والے شخص کے لیے 10 لاکھ روپے انعام مقرر کیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

10 لاکھ روپے انعام انٹیلیجنس معلومات بلوچ یکجہتی کمیٹی پروپیگنڈا شاعری حبیبہ پیرجان رستم پیرجان سیکیورٹی ادارے عسکریت پسند کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کالعدم بی ایل اے

متعلقہ مضامین

  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟