خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی آپریشنز، 13 دہشت گرد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 21st, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سیکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کے دوران بھارتی سرپرستی یافتہ گروہ فتنۃ الخوارج کے 13 عناصر کو ہلاک کر دیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پہلی کارروائی ضلع لکی مروت کے علاقے پہاڑ خیل میں خوارج کی موجودگی کی خفیہ اطلاع پر کی گئی، جس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مشترکہ طور پر کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن کے دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور 10 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو کلیئر کرتے ہوئے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا۔
بیان میں کہا گیا کہ دوسری کارروائی ڈیرہ اسماعیل خان میں خفیہ اطلاع کی بنیاد پر انجام دی گئی، جہاں سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کے دوران مزید 3 دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ ہلاک شدہ دہشت گرد بھارت کی سرپرستی میں سیکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عام شہریوں پر حملوں اور ٹارگٹ کلنگ میں ملوث تھے۔
پاک فوج نے بتایا کہ سینیٹائزیشن آپریشنز جاری ہیں تاکہ علاقے میں ممکنہ بھارتی سرپرستی یافتہ دہشت گردوں کے تمام ٹھکانوں کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔
آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ عزم و استحکام کے ساتھ ملک بھر میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بھرپور رفتار سے کارروائیاں جاری رکھیں گے، تاکہ امن و امان کی صورتحال کو مستحکم بنایا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سیکیورٹی فورسز آئی ایس پی آر
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔