ناک سے خون آنا: کب معمولی ہے اور کب سنگین علامات کا اشارہ؟
اشاعت کی تاریخ: 21st, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ناک سے خون آنا ایک عام مسئلہ ہے جو تقریباً ہر عمر میں پیش آ سکتا ہے اور اکثر یہ خود بخود رک جاتا ہے۔ زیادہ تر کیسز میں خون 10 سے 15 منٹ میں رک جاتا ہے اور اس میں عموماً کوئی سنجیدہ خطرہ نہیں ہوتا، کیونکہ یہ زیادہ تر ناک کے سامنے والے حصے سے نکلتا ہے۔ تاہم بعض اوقات ناک سے خون آنا کسی سنگین صحت کے مسئلے کی علامت بھی ہو سکتا ہے، جس کے لیے فوری طبی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق ناک سے خون آنے کی عام وجوہات میں خشک ہوا، ناک میں انگلی ڈالنا، الرجیز یا اچانک خون کے دباؤ میں تبدیلی شامل ہیں۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب ناک میں موجود چھوٹی خون کی نالیاں پھٹ جاتی ہیں۔ کچھ معاملات میں یہ دواوں کے اثر، چوٹ یا دیگر بیماریوں کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے، اور اگر بلڈ پریشر زیادہ ہو تو خون رکنے میں دیر لگ سکتی ہے۔
اگر خون 20 سے 30 منٹ تک رکتا نہیں یا اتنا زیادہ ہو جائے کہ کپڑے یا ٹشو بھیگ جائیں، تو یہ سنگین صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے۔ اسی طرح، اگر خون کسی چوٹ کے بعد آئے یا اس کے ساتھ چکر، کمزوری یا سانس لینے میں دشواری ہو، تو فوری ایمرجنسی علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔ ڈاکٹرز کے مطابق، اگر ناک کے پیچھے کی خون کی نالی پھٹ جائے تو خون روکنا مشکل ہو سکتا ہے اور یہ گلے میں جا کر سانس کی راہ میں رکاوٹ پیدا کر سکتا ہے، جو خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
ناک سے خون روکنے کے لیے کچھ بنیادی اقدامات انتہائی مؤثر ہیں۔ سب سے پہلے سیدھے بیٹھ کر تھوڑا آگے جھکنا چاہیے تاکہ خون گلے میں نہ جائے۔ ناک کے نرم حصے کو 10 سے 15 منٹ تک دبائے رکھیں اور اس دوران منہ کے ذریعے سانس لیں۔ خون کی نالیوں کی سوجن کم کرنے کے لیے ٹھنڈا کمپریس لگانا بھی مفید ہے۔
ناک کے خون سے بچاؤ کے لیے بعض احتیاطی تدابیر اپنانا بھی ضروری ہے۔ خشک موسم میں ہیومیڈیفائر استعمال کریں، پانی کی مقدار زیادہ رکھیں تاکہ جسم ہائیڈریٹڈ رہے، اور ہائی بلڈ پریشر یا خون جمنے کی بیماری والے افراد اپنی صحت کا خاص خیال رکھیں اور بلڈ پریشر باقاعدگی سے چیک کروائیں۔
عمومی طور پر ناک سے خون آنا کوئی سنگین مسئلہ نہیں ہوتا، لیکن اگر خون بہت زیادہ بہے یا رکنے کا نام نہ لے تو فوراً طبی امداد حاصل کرنا ضروری ہے۔ بار بار ناک سے خون آنا کسی اور صحت کے مسئلے، جیسے ہائی بلڈ پریشر یا خون کی کمی، کی علامت ہو سکتا ہے، اس لیے ایسے حالات میں ڈاکٹر سے مشورہ لینا انتہائی اہم ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ناک سے خون آنا ہو سکتا ہے بلڈ پریشر کے لیے خون کی ہے اور ناک کے
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔