طاقت کے زورپر اقتدار حاصل کرنے والوں کی پالیسی سے عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں، ڈاکٹر اسامہ رضی
اشاعت کی تاریخ: 21st, November 2025 GMT
جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر ڈاکٹر اسامہ رضی نے ملک میں جمہوریت کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنرل یحیٰ نے جاگیر دار ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ مل کر ملک توڑ دیا اور عوام کی رائے کو بالکل نظر انداز کیا۔
جماعت اسلامی پاکستان کے تین روزہ اجتماعِ عام “بدل دو نظام” کے تیسرے سیشن سے خطاب کرتے ہوئےڈاکٹر اسامہ رضی نے بھٹو پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جمہوریت کا گلا گھونٹ کر اقتدار حاصل کیا تھا، آج بھی طاقت کے زور پر عوام کے منتخب کردہ نمائندوں کو ایک طرف دکھیل دیا گیا ہے، ماضی میں ہمیشہ یہی ہوتا رہا ہے کہ طاقت کے زور پر ملک کے اقتدار پر براجمان ہوا گیا جبکہ وہ عوام جو ملک کے حقیقی مالک ہیں، ناانصافی کی وجہ سے معاشرتی پس منظر میں پس رہی ہیں۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ طاقت کے استعمال کے ذریعے کراچی کی میئر شپ چھینی گئی، ملک میں جمہوریت نہیں بلکہ آمریت ہے، موجودہ ظالمانہ نظام میں انصاف کا کوئی نام و نشان نہیں ہے، یہاں تک کہ انصاف فراہم کرنے والے ججز بھی انصاف کے لیے خود رجوع کر رہے ہیں۔
انہوں نے 26ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے کہا کہ اس ترمیم میں بھی عوام کو نظرانداز اور خریدنے کی کوشش کی گئی، جس کے نتیجے میں یہ ترمیم منظور کر لی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل طاقت کے
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔