موم بتیوں کے غیر ذمہ دارانہ استعمال نے خوبصورت ٹیمپل کو راکھ کا ڈھیر بنادیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
چین کے صوبے جیانگ سو میں واقع معروف ون چانگ پویلین میں ایک بڑے آتشزدگی کے واقعے نے تہلکہ مچا دیا۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق آگ ایک سیاح کی جانب سے موم بتیوں اور اگربتیوں کے غیر ذمہ دارانہ استعمال کے باعث بھڑکی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے 3 منزلہ عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
یہ بھی پڑھیں: چین: اسکول ہاسٹل میں آتشزدگی سے 13 بچے ہلاک
واقعے کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئیں جن میں پہاڑی کی چوٹی پر قائم مندر سے اٹھتے ہوئے شعلے اور سیاہ دھواں صاف دکھائی دے رہا ہے۔
اس واقعے نے نہ صرف مقامی رہائشیوں کو پریشان کیا بلکہ چین بھر میں تاریخی و ثقافتی مقامات پر سیاحوں کے رویے اور حفاظتی اقدامات سے متعلق بحث کو بھی دوبارہ زندہ کردیا۔
پویلین کی تعمیر سال 2009 میں مکمل ہوئی تھی جبکہ اس کا انتظام قریبی یونگ چنگ مندر کے پاس ہے جس کی تاریخی حیثیت کئی صدیوں پر محیط ہے۔
اگرچہ پیویلین قدیم ورثہ نہیں تھا، تاہم اس کی تعمیر روایتی چینی طرزِ تعمیر کے مطابق کی گئی تھی جس کی وجہ سے یہ فینگ ہوانگ پہاڑ کی سیر کرنے والے سیاحوں میں خاصا مقبول مقام تھا۔
یہ بھی پڑھیں: آگ دیکھ کر بھارتی فوجی افراتفری کا شکار
ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ آگ کے شعلوں نے کم وقت میں ہی پوری عمارت کو گھیر لیا جس کے باعث چھت کا بڑا حصہ منہدم ہوگیا۔ خوش قسمتی سے واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور آگ پیویلین سے آگے جنگلاتی علاقے تک نہیں پھیلی۔
ابتدائی رپورٹ میں حکام نے واضح کیا ہے کہ حادثے کا سبب سیاح کی غفلت تھی جس نے مذہبی رسومات کے دوران موم بتیوں اور اگربتیوں کو احتیاط کے بغیر استعمال کیا۔
مقامی انتظامیہ نے اس عمل کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے نہ صرف ثقافتی مقام بلکہ قرب و جوار کے جنگلات کو سنگین خطرے میں ڈال دیا۔
حکام کے مطابق واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں جس کے بعد پیویلین کی بحالی کے کام کا آغاز روایتی طرزِ تعمیر کے مطابق کیا جائے گا۔ انتظامیہ نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ آئندہ ایسے واقعات سے بچنے کے لیے سیکیورٹی اور حفاظتی اقدامات کو مزید سخت کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد کے فائر فائٹنگ نظام میں بہتری کی توقع، چین کا 21 گاڑیوں کا عطیہ
اس واقعے نے سن 2023 میں گانسو صوبے کے شان دان گریٹ بدھا مندر میں لگنے والی اُس بڑی آگ کی یاد بھی تازہ کردی جس میں مندر کا بڑا حصہ تباہ ہوگیا تھا جبکہ صرف دیو قامت بدھا کا مجسمہ جزوی طور پر محفوظ رہ سکا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news آگ ٹیمپل چین سیاح موم بتیاں ون چانگ پویلین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ٹیمپل چین سیاح موم بتیاں ون چانگ پویلین کے مطابق یہ بھی
پڑھیں:
معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔
کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔
بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال
اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔
ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔
گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔
349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم
کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔
کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔