امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے ارکانِ اسمبلی کانگریس کے خلاف بغاوت اور غداری کے مقدمات قائم کرنے کی دھمکی دی ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپوزیشن ارکان اسمبلی پر نہ صرف غداری اور بغاوت کے الزامات عائد کیئے بلکہ یہاں تک کہہ دیا کہ یہ لوگ سزائے موت کے قابل ہیں۔

یاد رہے کہ یہ اپوزیشن کے وہ ارکان اسمبلی ہیں جو حال ہی میں فوج اور انٹیلیجنس اداروں سے صدر ٹرمپ کے غیرقانونی احکامات ماننے سے انکار کرنے کی اپیل کرچکے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ڈیموکریٹس کے خلاف سخت زبان استعمال کی اور لکھا کہ ان کی سزا موت ہے۔

امریکا کی اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹک پارٹی نے صدر ٹرمپ کے اس بیان کو انتہائی گھٹیا اور جمہوری اقدار کے لیے خطرناک قرار دیا۔

یاد رہے کہ یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب 6 ڈیموکریٹک سینیٹرز اور نمائندگان جو فوج یا انٹیلیجنس میں خدمات بھی انجام دے چکے ہیں، نے ایک ویڈیو پیغام وائرل کیا تھا۔

ویڈیو پیغام میں ان ارکان اسمبلی نے فوج کے حاضر اہلکاروں کو یاد دہانی کرائی کہ غیرقانونی احکامات پر عمل کرنا قانوناً جرم ہے۔

ان ارکان اسمبلی نے مزید کہا کہ امریکی آئین کے خلاف کوئی حکم نافذ العمل نہیں ہوتا اور فوجی اہلکاروں کا فرض ہے کہ وہ ایسے کسی بھی حکم کو مسترد کردیں۔

ویڈیو میں سینیٹر مارک کیلی، ایلیسا سلاٹکن اور دیگر نے فوجی اہلکاروں کو براہ راست کہا کہ
آپ کا فرض ہے کہ غیر قانونی احکامات کو مسترد کریں۔ ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔

اس ویڈیو کو حکمراں جماعت ریپبلکن نے سیاسی بنیادوں پر فوج کو بغاوت پر اکسانے کی کوشش قرار دیا۔

صدر ٹرمپ کے مشیر اسٹیفن ملر نے اسے ’’کھلی بغاوت‘‘ کہا تھا۔

جس پر ڈیموکریٹس نے جواب دیا کہ یہ صرف قانون کی وضاحت ہے جیسا کہ امریکی فوجی عدالتیں پہلے بھی واضح کر چکی ہیں کہ ظاہرًا غیرقانونی حکم ماننا جرم ہے۔

خیال رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب امریکی صدر نے سخت زبان استعمال کی ہو اس سے قبل 2016 میں ہیلری کلنٹن کے خلاف ’’Lock her up‘‘ نعرہ ان کی انتخابی مہم کا حصہ تھا۔

اسی طرح ڈونلڈ ٹرمپ نے 2020 میں بھی نے الیکشن میں روسی مداخلت کی تحقیقات کرنے والوں کو سزا دینے کا مطالبہ کیا تھا۔

2024 میں بھی صدر ٹرمپ نے سابق امریکی صدر جو بائیڈن اور سابق نائب صدر کمیلہ ہیرس کے خلاف کارروائی کا کہا تھا۔

حال ہی میں صدر ٹرمپ نے اپنی ہی جماعت ریپبلکن کے رہنما لز چینی کے بارے میں بھی سخت اور متنازع جملے ادا کیے تھے۔

اسی طرح صدر ٹرمپ نے اپنے ناقدین ایڈم شیف، لیٹیشیا جیمز، جیمز کومی اور جان بولٹن کے خلاف قانونی کارروائیوں کی کھل کر حمایت کی، جن میں سے بعض پر باضابطہ مقدمات بھی قائم ہو چکے ہیں۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ارکان اسمبلی کے خلاف

پڑھیں:

اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا

اٹلی(نیوز ڈیسک)اطالوی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اٹلی میں پولیس نے دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے جو ایک جلی ہوئی منی وین میں مردہ پائے گئے تھے۔

گاڑی جنوبی کلابریا کے علاقے میں ایک وسیع کھیتی کے علاقے میں ایک گاؤں کے قریب ایک پٹرول اسٹیشن سے ملی۔

سی سی ٹی وی امیجز میں دیکھا گیا کہ دو افراد وین کے دروازے باہر سے روک رہے ہیں اور آگ لگانے کے لیے اندر مائع پھینک رہے ہیں۔

رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اس علاقے میں حالیہ مہینوں میں پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو نذر آتش کرنے کے 14 واقعات ہوئے ہیں، جہاں فارم کے کام اور رہائش کی تقسیم پر تارکین وطن کے درمیان تناؤ پایا جاتا ہے۔

فائر فائٹرز کو منگل کو مقامی وقت کے مطابق تقریباً 13:00 بجے (11:00 GMT) جلتی ہوئی وین کے مقام پر بلایا گیا۔

شعلوں کو بجھانے کے بعد انہوں نے اندر سے چار جلی ہوئی لاشوں کی بھیانک دریافت کی۔

دونوں مشتبہ افراد کو بعد میں سی سی ٹی وی فوٹیج کے شواہد کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا۔

اطالوی میڈیا کا کہنا ہے کہ افغانستان سے تعلق رکھنے والا پانچواں شخص حملے میں بچ گیا ہے۔ ان کے حوالے سے بتایا گیا کہ ہلاک ہونے والوں میں تین افغان اور ایک پاکستانی شامل ہے، جو تمام زراعت کا کام کرتے تھے۔

زندہ بچ جانے والے شخص نے اطالوی میڈیا کو بتایا کہ وہ ایک کھڑکی توڑ کر جلتی ہوئی کار سے بچ نکلا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں گرفتار افراد کی جانب سے گاڑی میں سوار افراد سے ٹرانسپورٹیشن کی رقم کا مطالبہ کرنے کے بعد تنازعہ پیدا ہوا تھا، جسے انہوں نے دینے سے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ مزدوروں کو علاقے کے اسٹرابیری کے کھیتوں میں ان کے کام کی ادائیگی نہیں کی گئی، حالانکہ انہیں کھانا اور رہائش فراہم کی گئی تھی۔

ان ہلاکتوں نے اٹلی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ کلابریا کے علاقائی صدر، روبرٹو اوچیوٹو نے کہا کہ حملے کی خبر “انسانیت پر یقین کو متزلزل کرتی ہے”، اور مزید کہا کہ یہ “غیر انسانی” ہے۔

اس دوران CGIL یونین کے حوالے سے اٹلی کی انسا نیوز ایجنسی نے “ہمارے دیہی علاقوں میں مزدوروں، اکثر تارکین وطن کی طرف سے برداشت کی جانے والی روزمرہ کی زندگی کی گھناؤنی حرکتوں کا مقابلہ کرنے” کے لیے کارروائی کا مطالبہ کیا۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار