Express News:
2026-06-03@08:08:19 GMT

ای چالان کو جلد صوبے بھر میں نافذ کردیں گے، آئی جی سندھ

اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT

کراچی:

آئی جی سندھ نے کہا ہے کہ ای چالان ٹریکس کا آغاز کراچی سے کیا گیا ہے تاہم جلد ہی صوبے بھر میں اس کے دائرہ کار کو وسعت دی جائے گی۔

یہ بات انہوں ںے منظم جرائم کے خلاف قومی حکمت عملی کے عنوان سے منعقدہ ایک روزہ سیمینار میں شرکت کے موقع پر خطاب میں کہی۔ سندھ پولیس میوزیم کراچی میں منعقدہ سیمینار کا اہتمام اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم، حکومت برطانیہ، حکومت پاکستان اور سندھ پولیس کے تعاون سے کیا گیا۔

آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ ٹریفک ای چالان، ٹریکس کا آغاز بھی ایسی ہی اصلاحات کی بہترین مثال ہے ابھی ٹریکس کا آغاز کراچی سے کیا ہے تاہم جلد ہی صوبے بھر میں اس کے دائرے کو وسعت دی جائے گی، ٹریفک کی کسی بھی خلاف ورزیوں کے لیے ٹریکس فعال کردار ادا کریگا۔ اب ٹریفک پولیس کو مینؤل چیکنگ یا دستی چالان کی اجازت ہر گز نہیں ہے اس اقدام سے ٹریفک پولیس کے خلاف مختلف قسم کے الزامات اور منفی تاثر یکسر ختم ہوجائیں گے، ٹریکس ایک کیمرا بیسڈ ٹیکنالوجی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تھانہ بجٹ کے استعمال کے اختیارات ایس ایچ او کے پاس ہیں سب انسپیکٹر رینک کا افسر ایس ایچ او لگ سکتا ہے مالیاتی استحکام اور خود مختاری سے تھانہ کلچر میں نمایاں بہتری آئے گی۔

آئی جی سندھ نے کہا کہ پاکستان میں منظم جرائم کے خلاف قومی حکمت عملی کی ترتیب ناگزیر ہے ایسے جرائم کے خلاف، سول سوسائٹیز، اکیڈمیز، سول سروینٹس، تاجربرادری، میڈیا اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کا تعاون اور سپورٹ اشد ضروری ہے، ایسے سیمنارز، تقاریب سے معاشی عدم استحکام اور منظم جرائم کے خاتمے کا راستہ و حکمت عملی کا تعین ہوتا ہے۔

آئی جی سندھ کا کہنا تھا کہ منظم جرائم دراصل کسی گروہ یا جرائم پیشہ افراد کے جتھوں کی ایک منفی سوچ کا نام ہے جو مختلف نیٹ ورک کے تحت مسلسل سرگرم عمل رہتے ہیں ایسے جرائم عام شہریوں میں خوف و ہراس کا باعث بنتے ہیں جس سے معاشی عدم استحکام تقویت پاتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ کراچی ایک گلوبل سٹی ہے جہاں سرمایہ کاری کے مواقع زیادہ ہیں مقابل تجدید توانائی میں سرمایہ کاری کے لیے کراچی ایک بہترین شہر ہے کراچی جو سال 2013 میں ورلڈ کرائم انڈیکس پر چھٹے نمبر پر تھا، قانون نافذ کرنے والے اداروں، ایجنسیز، پولیس کی شب و روز محنت اور اشتراک سے اس شہر کا امن واپس آیا، آج ہم ورلڈ کرائم انڈیکس میں دہلی، ڈھاکا، تہران، کوالالمپور، پیرس، واشنگٹن و دیگر ممالک سے بدرجہ بہتر ہیں، آج ورلڈ کرائم انڈیکس پر کراچی کا نمبر 19 پلس ہے تاہم گزشتہ سال کراچی 128 ویں نمبر پر تھا منظم جرائم کے خلاف آج تمام اسٹیک ہولڈرز ایک پلیٹ فارم پر ہیں، اس حوالے سے سی پی ایل سی اور پولیس کا اشتراک انتہائی کارآمد رہا ہے۔

آئی جی نے کہا کہ منظم جرائم، اغوا برائے تاوان الحمداللہ اب اس شہر میں انتہائی کم ہوگئے ہیں ہم نے بھتہ خوری کے خلاف بھی بہتر کام کیا ہے جوکہ اس شہر کا ایک عام جرم تھا کرمنل جسٹس سسٹم کی تقویت سے متاثرین کو انصاف جبکہ ملزمان کو سزائیں یقینی ہوتی ہیں۔ ہم پولیس اسٹیشنز کی سطح پر پبلک سروس میں بہتری لارہے ہیں شہادتوں کو اکٹھا کرنے اور انویسٹی گیشن جیسے امور کو بہتر کررہے ہیں ہمارا بنیادی مقصد بہترین اور مؤثر تفتیش کی بدولت ملزمان کی سزاؤں کو یقینی بنانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ وہ واحد صوبہ ہے جس نے تھانہ جات و تفتیشی آفیسر کے لیے براہ راست بجٹ مختص کیا ہے، اس وقت 485 پولیس اسٹیشنز کا اپنا بجٹ ہے میں جانتا ہوں کہ تبدیلی ایک رات میں نہیں آتی تاہم اس کے لیے چھوٹی چھوٹی کاوشیں کرنا ضروری ہے ،ڈرائیونگ لائسنس برانچ اس کی ایک بہترین مثال ہے تین سال قبل اسے جدید اور ماڈرن تیکنیکس سے آراستہ کیا آج اس کی تعریفیں زبان زد عام ہے اور ہر ادارہ اسکی کارکردگی کا معترف ہے۔

پانچ سیشنز پر مشتمل سیمینار میں سابق انسپکٹر جنرلز، نمائندہ ایف پی سی سی آئی، کاٹی، آباد، کے سی سی آئی، سینیئر صحافیوں، سماجی رہنماؤں، اساتذہ، محققین اور دیگر نے شرکت کی اور گفتگو کی۔

سیمینار کا مقصد منظم جرائم کے خلاف سندھ کی سول سوسائٹی، اکیڈمیا اور تاجربرادری کو آگاہی فراہم کرنا تھا۔ مقررین نے منظم جرائم کے خلاف قومی حکمت عملی، تاجروں کی بھتہ خوری، قبضہ، عدم تحفظ کے خلاف شکایات، اسٹریٹ کرائم، گاڑی چوری، منشیات اسمگلنگ اور پانی چوری کے خلاف سول سوسائٹی کے کردار، منظم جرائم کے خلاف اور روک تھام میں نوجوانوں، اکیڈمیا، انسانی حقوق کے رہنماؤں کے کردار اور دیگر موضوعات پر تفصیلی گفتگو کی اور اظہار خیال کیا۔

سابق آئی جی سعود احمد نے افتتاحی  جبکہ سابق گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر عشرت حسین اور یو این او ڈی سی کے بیت اللہ خان نے اختتامی کلمات ادا کیے۔
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: منظم جرائم کے خلاف حکمت عملی نے کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق

شہر قائد کے علاقے سرجانی ٹاؤن روزی گوٹْھ میں فائرنگ کے افسوسناک واقعے میں باپ اور بیٹا جاں بحق جبکہ دوسرا بیٹا زخمی ہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق سرجانی روزی گوٹھ میں فائرنگ کا افسوسناک واقعہ پیش آیا جس میں والد اور دو بیٹے زخمی ہوئے۔ 

مقتولین کی لاشوں اور زخمی کو چھیپا کے رضا کاروں نے عباسی شہید اسپتال منتقل کیا۔

اس حوالے سے ترجمان ڈسٹرکٹ ویسٹ پولیس کا کہنا ہے کہ سرجانی روزی گوٹھ میں فائرنگ سے جاں بحق افراد کی شناخت 62 سالہ کامل حسین اور اس کے بیٹے کو 26 سالہ دوہان کے نام شناخت کیا گیا جبکہ زخمی ہونے والے دوسرے بیٹے 30 سالہ عادل کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

ترجمان کے مطابق ابتدائی معلومات میں پتہ چلا ہے کہ فائرنگ کا واقعہ رشتے داروں کے درمیان تنازع پر جھگڑے کے دوران پیش آیا جس کی اطلاع ملتے ہی سرجانی ٹاؤن پولیس نے موقع پر پہنچ کر شواہد حاصل کیے اور واقعے کی مزید چھان بین شروع کر دی ہے۔

ترجمان کے مطابق  فائرنگ کرنے والے ملزم کی بھی شناخت کرلی گئی ہے جس کی گرفتاری کے لیے لیے پولیس چھاپہ مار رہی ہے جسے جلد گرفتار کرلیا جائیگا۔

ایس ایچ او سرجانی ٹاؤن سہیل خاصخیلی نے بتایا کہ فائرنگ کا واقعہ لڑکی کے رشتے پر ہونے والے تنازعے کی وجہ سے پیش آئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فیفا ورلڈکپ 2026 میں نافذ کیے جانے والے نئے قوانین کیا ہیں؟
  • کراچی: بھینس کالونی میں شادی کی تقریب میں ہوائی فائرنگ، دلہا گرفتار
  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟