ٹی ٹی پی پاکستان کے خلاف ایک سنگین خطرہ ہے: اقوام متحدہ
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی کمیٹی نے خبردار کیا ہے کہ تحریکِ طالبان پاکستان(ٹی ٹی پی )پاکستان کے خلاف متعدد ہائی پروفائل حملے کر چکی ہے، جن میں بعض میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان بھی ہوا۔ اقوام متحدہ میں ڈنمارک کی نائب مستقل مندوب اور 1267القاعدہ سینکشنز کمیٹی کی سربراہ ایمبسڈر سینڈرا جنسن لانڈی نے سلامتی کونسل کو رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ تقریبا 6ہزار جنگجوں پر مشتمل ٹی ٹی پی علاقے سے ایک سنگین خطرہ ہے اور اسے اٖفغانستان کی عبوری حکومت کی جانب سے لاجسٹک اور مالی معاونت حاصل ہے۔پاکستان کے نائب مستقل مندوباقوام متحدہ عثمان جدون نے بتایا کہ پاکستاندہشت گردی کے خاتمے کے عالمی اقدامات میں فرنٹ لائن سٹیٹ ہے، اور اس نے اسجنگمیں 80ہزار سے زائد جانوں کی قربانی کے ساتھ ساتھ اور اربوں ڈالرکا اقتصادی نقصان برداشت کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری بہادر سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداری افغانستان سے لاحق دہشت گردی کے خطرات کا مسلسل مقابلہ کر رہے ہیں جہاں داعش خراسان ، ٹی ٹی پی اور ان سے منسلک بی ایل اے اور اس کی زیلی تنظیم مجید بریگیڈ جیسے گروہ اپنے میزبانوں کی سرپرستی میں اور ہمارے مخالف ملک جس کا کام ہی خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنا ہے ،کی حمایت سے کام کر رہے ہیں۔ پاکستانی مندوب نے اس بات پر زور دیا کہ 1267القاعدہ سینکشنز کمیٹی کے پابندیوں کے نظام کو زمینی حقائق کے مطابق ہونا چاہیے اور فہرست میں شامل یا خارج کرنے کے مسائل انصاف، شفافیت اور سیاسی اثرات کے بغیر حل کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہاقوام متحدہک ی انسداددہشت گردی کی فریم ورک کو پرتشدد اور انتہا پسند گروہوں کے خلاف سخت اقدامات کرنے کے لیے ضروری اوزار رکھنے چاہیے۔اس موقع پر چینی مندوب نے کمیٹی سے بلوچستان لبریشن آرمی اور اس کے مجید بریگیڈ کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کی حمایت کرنے کی اپیل کی، تاکہ دہشت گردیکے خلاف زیرو ٹالرنس کا مضبوط پیغام دیا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ٹی ٹی پی کے خلاف اور اس
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔