کراچی کو عالمی سطح پر کون سا بڑا اعزاز ملنے والا ہے؟ اقوام متحدہ کی پیشگوئی
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
کراچی کو عالمی سطح پر ایک بڑا اعزاز حاصل ہونے والا ہے، اس حوالے سے عالمی ادارے نے اپنی رپورٹ جاری کردی ہے۔
اقوام متحدہ نے اپنی تازہ ’ورلڈ اربنائزیشن پروسپیکٹس 2025‘ رپورٹ میں پیشگوئی کی ہے کہ کراچی آبادی کے غیر معمولی پھیلاؤ کے باعث آنے والے برسوں میں دنیا کے بڑے شہروں کی فہرست میں نمایاں مقام حاصل کر لے گا۔
تخمینوں کے مطابق 2025ء سے 2030ء کے درمیان کراچی ٹاپ ٹین میگا سٹیز میں شامل ہوجائے گا، جب کہ 2050ء تک شہر کی آبادی بڑھ کر تقریباً 3 کروڑ 30 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے، جس کے بعد وہ دنیا کے 5 سب سے بڑے شہروں میں شمار ہوگا۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ کراچی آبادی کے اعتبار سے باآسانی قاہرہ، ٹوکیو، چین کے گوانگزو، فلپائن کے منیلا اور بھارت کے کولکتہ جیسے شہروں کو بھی پیچھے چھوڑ سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق 1975ء میں دنیا بھر میں صرف 8 بڑے شہر تھے، جو 2025ء میں بڑھ کر 33 تک پہنچ چکے ہیں، جن میں سے اکثریت یعنی 19 شہروں کا تعلق ایشیا سے ہے۔ ادارے نے پیشگوئی کی ہے کہ 2050ء تک یہ تعداد 37 ہو جائے گی۔
عالمی ڈیٹا کے مطابق ڈھاکا صدی کے وسط تک دنیا کا سب سے بڑا شہر بننے کی دوڑ میں سب سے آگے ہے جب کہ ٹوکیو کی آبادی میں کمی کے باعث اس کی عالمی درجہ بندی نیچے آنے کا امکان ہے اور 2050ء تک وہ ساتویں نمبر پر پہنچ سکتا ہے۔
رپورٹ میں کراچی کی گنجان آبادی پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے، جہاں آبادی کا دباؤ 25 ہزار افراد فی مربع کلومیٹر تک پہنچ چکا ہے۔ دنیا کے کئی زیادہ گنجان آباد شہر بھی اسی گروہ میں شامل ہیں، جہاں فی مربع کلومیٹر آبادی 20 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ دنیا تیزی سے شہری طرز زندگی کی طرف بڑھ رہی ہے۔ 1950ء میں عالمی آبادی کا صرف 20 فیصد شہروں میں رہتے تھے، جو آج بڑھ کر 45 فیصد تک پہنچ چکے ہیں۔ صرف 2000ء سے 2025ء کے دوران شہری آبادی میں 1.
ادارے کے مطابق 2015ء سے 2025ء کے دوران دنیا کے 3 ہزار سے زائد شہروں میں آبادی میں کمی بھی دیکھی گئی ہے جب کہ عالمی دیہی آبادی 2040ء کی دہائی میں اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ کر بتدریج کم ہونا شروع ہو جائے گی۔
رپورٹ واضح کرتی ہے کہ مستقبل قریب میں دنیا کی سب سے بڑی شہری آبادی چین اور بھارت ہی برقرار رکھیں گے اور یہی رجحان 2050ء تک دنیا کی شہری ڈیموگرافکس پر نمایاں اثرات ڈالتا رہے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ کے مطابق دنیا کے تک پہنچ
پڑھیں:
فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی
دنیائے کھیل کا سب سے بڑا اور مقبول ترین میلہ ’فیفا فٹبال ورلڈکپ 2026‘ اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ 12 جون سے شروع ہونے جا رہا ہے۔
فٹبال کی تاریخ کا یہ اب تک کا سب سے انوکھا اور تاریخی ٹورنامنٹ ہوگا جس کی مشترکہ میزبانی امریکا، میکسیکو اور کینیڈا کر رہے ہیں۔
اس بار ورلڈکپ محض ایک کھیل نہیں بلکہ اعصاب کی جنگ ثابت ہونے والا ہے، کیونکہ تاریخ میں پہلی بار 32 کے بجائے 48 ٹیمیں عالمی اعزاز کے لیے ایک دوسرے سے ٹکرائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں:104 میچز، 48 ٹیمیں اور اربوں شائقین، فیفا ورلڈ کپ 2026 میں کیا کچھ نیا ہونے جارہا ہے؟
جہاں شائقین کا جوش و خروش عروج پر ہے، وہی کھیلوں کے معروف ڈیٹا ماڈل ’اوپٹا سپر کمپیوٹر‘ نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی مدد سے 10 ہزار سیمولیشنز تیار کر کے فاتح ٹیم کے حوالے سے ایک سنسنی خیز پیشگوئی کر دی ہے۔
ٹورنامنٹ کا نیا فارمیٹ اور راؤنڈ آف 32 کا تاریخی آغازماضی کے برعکس اس بار ٹورنامنٹ کے ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ ٹورنامنٹ میں شریک 48 ٹیموں کو 12 گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر گروپ 4 ٹیموں پر مشتمل ہے۔
اس نئے فارمیٹ کے تحت ایونٹ کے دوران مجموعی طور پر ریکارڈ 104 میچز کھیلے جائیں گے۔ ہر گروپ سے پہلے اور دوسرے نمبر پر آنے والی ٹیمیں ناک آؤٹ مرحلے میں کوالیفائی کریں گی، جس سے ایونٹ کی تاریخ میں پہلی بار ’راؤنڈ آف 32′ کا سنسنی خیز آغاز ہوگا۔
زیادہ ٹیموں کی شمولیت کے باعث جہاں مقابلوں کا جوش بڑھے گا، وہیں کسی بھی ٹیم کے لیے فائنل تک کا سفر طویل اور تھکا دینے والا ہوگا۔
اوپٹا سپر کمپیوٹر کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتا ہے؟شائقین فٹبال کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ ’اوپٹا سپر کمپیوٹر‘ کوئی روایتی فزیکل کمپیوٹر نہیں ہے۔ یہ دراصل آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی پر مبنی ایک انتہائی ایڈوانس ماڈل ہے جو فٹبالرز اور ٹیموں کے موجودہ فارم، ماضی کے ریکارڈز اور ہزاروں دیگر ڈیٹا پوائنٹس کا تجزیہ کرتا ہے۔
یہ ماڈل ڈیٹا کی بنیاد پر پورے ٹورنامنٹ کو 10 ہزار سے زیادہ بار ڈیجیٹل طور پر سیمولیٹ کرتا ہے اور پھر پیشگوئی کرتا ہے کہ کس ٹیم کے ٹورنامنٹ جیتنے، فائنل میں پہنچنے یا کسی خاص میچ میں کامیابی حاصل کرنے کے کتنے فیصد امکانات موجود ہیں۔
’اسپین‘ فیورٹ، مگر ایک بڑا دھچکا بھیاوپٹا سپر کمپیوٹر کی 10 ہزار ڈیجیٹل سیمولیشنز کے بعد جو نتائج سامنے آئے ہیں، انہوں نے فٹبال کی دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ ماڈل نے تمام تر غیریقینی صورتحال کے باوجود ’اسپین‘ کو ٹرافی جیتنے کے لیے واضح طور پر فیورٹ قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد میں فیفا ورلڈ کپ 2026 کی تقریبات کا آغاز، سیالکوٹ کی فٹبال نے میلہ لوٹ لیا
سپر کمپیوٹر کے مطابق اسپین کے ورلڈکپ جیتنے کا امکان 16.1 فیصد ہے۔ تاہم دلچسپ اور پریشان کن بات یہ ہے کہ جہاں اسپین کو فاتح قرار دیا گیا ہے، وہیں ڈیٹا یہ بھی بتاتا ہے کہ اسپین وہ واحد بڑی ٹیم ہے جس کے کوارٹر فائنل تک نہ پہنچنے کا امکان 52.1 فیصد ہے۔ یعنی اگر اسپین ابتدائی ناک آؤٹ مرحلے عبور کرنے میں کامیاب رہا، تو اس کے سیمی فائنل میں پہنچنے کا امکان 39 فیصد جبکہ فائنل میں پہنچنے کا امکان 25.6 فیصد ہوگا۔
دیگر بڑی ٹیموں کے جیتنے کے امکاناتسپر کمپیوٹر کے مطابق ٹرافی کی دوڑ میں اسپین تنہا نہیں ہے بلکہ دیگر روایتی حریف بھی اس کے تعاقب میں ہیں۔ سپر کمپیوٹر نے 4 بڑی ٹیموں کے جیتنے کے امکانات کو 10 فیصد سے زیادہ قرار دیا ہے۔ اس فہرست میں فرانس دوسرے نمبر پر ہے جس کے ورلڈکپ جیتنے کا امکان 13 فیصد ظاہر کیا گیا ہے۔ اسی طرح انگلینڈ 11.2 فیصد امکان کے ساتھ تیسرے اور لیونل میسی کی ارجنٹینا (دفاعی چیمپیئن) 10.4 فیصد امکان کے ساتھ چوتھے نمبر پر ممکنہ فاتح قرار دی گئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسپین امریکا اوپٹا سپر کمپیوٹر برطانیہ ٹیم فیورٹ حیران کن پیش گوئی فیفا ورلڈ کپ لندن ورلڈ کپ۔