عالمی ادارۂ صحت یعنی ڈبلیو ایچ او کی ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیا بھر میں تقریباً ہر 3 میں سے ایک خاتون، یعنی تقریباً 84 کروڑ خواتین، اپنی زندگی میں کسی نہ کسی موقع پر اپنے شریکِ حیات یا کسی اور شخص کی جانب سے جنسی یا گھریلو تشدد کا شکار رہی ہیں۔

بدھ کے روز جاری کی گئی اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران 15 سال یا اس سے زائد عمر کی 31 کروڑ 60 لاکھ خواتین اور لڑکیوں کو اپنے شریکِ حیات کی جانب سے جسمانی یا جنسی تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ تعداد اس عمر کی عالمی آبادی کے تقریباً 11 فیصد کے برابر ہے۔

یہ بھی پڑھیں: خواتین کے خلاف جنسی اور جسمانی تشدد، ایک سنگین عالمی بحران

رپورٹ کے ساتھ جاری بیان میں عالمی ادارۂ صحت کے ڈائریکٹر جنرل، ٹیڈروس ادھانوم گیبریئیسس کا کہنا تھا کہ خواتین کے خلاف تشدد انسانیت کی قدیم ترین اور سب سے زیادہ پھیلی ہوئی ناانصافیوں میں سے ایک ہے، پھر بھی اس پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی جاتی۔

1 in 3 women around the world experience physical or sexual violence in their lifetime – mostly by an intimate partner.

We can all do something to help eradicate this human rights violation & major public health problem.https://t.co/XAE5yJ4nNl pic.twitter.com/RLyHaELAJC

— António Guterres (@antonioguterres) August 13, 2023

’جب آدھی آبادی خوف میں زندگی گزار رہی ہو تو کوئی معاشرہ خود کو منصفانہ، محفوظ یا صحت مند نہیں کہہ سکتا۔ اس ظلم کا خاتمہ صرف پالیسی کا مسئلہ نہیں بلکہ وقار، مساوات اور انسانی حقوق کا معاملہ ہے۔ ہر عدد کے پیچھے ایک ایسی عورت یا لڑکی ہے جس کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل گئی۔‘

اقوامِ متحدہ کے خواتین اور لڑکیوں پر تشدد کے خاتمے کے عالمی دن سے قبل جاری کی گئی اس رپورٹ میں 2000 سے 2023 تک کے عرصے کے دوران 168 ممالک سے جمع کیے گئے اعداد و شمار کا تجزیہ شامل ہے۔

مزید پڑھیں:سوڈان میں خانہ جنگی، سینکڑوں خواتین جنسی تشدد کا نشانہ

رپورٹ کے مطابق 2022 میں عالمی امداد کا صرف 0.2 فیصد حصہ خواتین پر تشدد کی روک تھام کے پروگراموں کے لیے مختص کیا گیا۔

رواں برس یہ فنڈنگ مزید کم ہوگئی ہے کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ملک کی غیر ملکی امداد اور ترقیاتی فنڈز میں بڑی کٹوتیاں کی ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی خبردار کیا گیا کہ مسلح تنازعات کے علاقوں یا دیگر کمزور حالات میں رہنے والی خواتین اور لڑکیاں جنسی اور گھریلو تشدد کے زیادہ خطرے سے دوچار ہوتی ہیں۔

مزید پڑھیں:گھریلو تشدد کا سامنا کرنے والی خواتین کو بشریٰ انصاری کا اہم مشورہ

رپورٹ کے مطابق گزشتہ برسوں میں مسلح تنازعات، لمبے عرصے سے جاری انسانی بحرانوں اور ماحولیاتی تباہ کاریوں میں اضافے نے ان علاقوں میں رہنے والی خواتین کے لیے تشدد کے خطرات کو بڑھا دیا ہے۔

’نقل مکانی اور عدم تحفظ کے باعث اس تشدد کے شکار ہونے کا خدشہ مزید بڑھ جاتا ہے۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ ترقیاتی فنڈز تشدد جنسی خواتین ڈونلڈ ٹرمپ شریک حیات عالمی ادارہ صحت فنڈنگ گھریلو تشدد

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اقوام متحدہ ترقیاتی فنڈز خواتین ڈونلڈ ٹرمپ شریک حیات عالمی ادارہ صحت گھریلو تشدد گھریلو تشدد رپورٹ میں تشدد کا تشدد کے کے لیے

پڑھیں:

لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور

سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔

دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔

کراچی: پنکی کے بعد مطلوب منشیات فروش خاتون شیریں گرفتار

پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔

ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔

اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔

جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔

اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔

ملزمہ  کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔

متعلقہ مضامین

  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے
  • چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں