کراچی، گبول پارک کے قریب فائرنگ کے دوران گولی لگنے سے موٹر سائیکل سوار جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
کراچی:
شہر قائد میں گلشن اقبال گبول پارک کے قریب شدید فائرنگ کے دوران گولی لگنے سے موٹر سائیکل سوار ہلاک ہوگیا۔
جائے وقوعہ سے گولیوں کے کئی خول ملے ہیں جبکہ عینی شاہد نے واقعہ شہری اور ڈاکوؤں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بتاتے ہوئے ہلاک ہونے والے کو مبینہ طور فرار ہونے والے ڈاکوؤں کا ساتھی قرار دیا اور بتایا کہ اس کا ساتھی مجھ سے موٹر سائیکل بھی چھین کر فرار ہوا ہے۔
فائرنگ سے ہلاک ہونے والے کی کی لاش قریبی نجی اسپتال لیجائی گئی جسے بعدازاں چھیپا کے رضا کاروں نے ضابطے کی کارورائی کے لیے عباسی شہید اسپتال منتقل کر دیا۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ فائرنگ سے ہلاک شخص کی فوری طور پر شناخت نہیں ہو سکی اور اس کی عمر 26 سال کے قریب بتائی جاتی ہے جس کے سر پر گولی لگی تھی جبکہ لاش کے قریب سے ایک موٹر سائیکل بھی ملی ہے۔
واقعے سے متعلق ایک عینی شاہد کا بیان بھی سوشل میڈیا پر سامنے آیا ہے جس میں اس کا کہنا تھا کہ وہ اسپتال کے قریب موجود تھا کہ اس دوران کار سوار شہری اور ڈاکوؤں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور شدید فائرنگ سے وہ قریب کھڑی ہوئی کار کے پیچھے چھپ گیا۔
اس دوران مسلح ڈاکو بھاگتے ہوئے دکھائی دئیے ، فائرنگ کرنے والا شہری ایک آن لائن فوڈ رائیڈر کے ساتھ بائیک پر بیٹھ کر پیدل بھاگنے والے ڈاکوؤں کے تعاقب میں گیا جبکہ ایک ڈاکو مجھ سے میری موٹر سائیکل چھین کر فرار ہوگیا جو کہ میرے مکینک کی تھی۔
تاہم واقعے کے بعد مبینہ ٹاؤن پولیس بھی موقع پر پہنچ گئی اور فوری طور کرائم سین یونٹ کو طلب کر کے جائے وقوعہ سے شواہد حاصل کیے ہیں۔
چھیپا حکام کے مطابق پولیس کو جائے وقوعہ سے گولیوں کے 9 خول ملے ہیں جبکہ پولیس تلاش ایپ ڈیوائس کی مدد سے ہلاک ہونے والے کی شناخت کی کوششیں کر رہی ہے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: موٹر سائیکل ہونے والے ڈاکوو ں کے قریب
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک