ملک کا سودی نظام اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کی خلاف ورزی ہے، حافظ نعیم الرحمن
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
کراچی:
جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے گلستان جوہر میں "بدل دو نظام" کے عنوان سے ہونے والے عوامی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے ملک کے موجودہ سیاسی اور اقتصادی نظام پر شدید تنقید کی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سودی نظام مسلط ہے جو اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کی خلاف ورزی ہے اور یہ نظام ملک کی معیشت اور عوامی فلاح کے لیے تباہ کن ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے اسٹاک مارکیٹ کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اسٹاک مارکیٹ معیشت کو نہیں بلکہ سٹے اور جوے کو فروغ دیتی ہے جو ملک کی معیشت کو نقصان پہنچا رہی ہے۔
اسی طرح انہوں نے پاکستان میں آئی ٹی کے شعبے میں ترقی کی کمی پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ آئی ٹی کے میدان میں ترقی نا ہونے کے برابر ہے جو ملک کے مستقبل کے لیے خطرہ ہے۔
انہوں نے ملک میں تعلیم کے نظام پر بات کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کی یکسانیت نہ ہونے کی وجہ سے نہ صرف نظام ایک نہیں ہے بلکہ قوم بھی ایک نہیں ہے اور اس عدم استحکام کی وجہ سے ملک کی ترقی میں رکاوٹیں آ رہی ہیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے پیپلز پارٹی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ پیپلز پارٹی چند خاندانوں پر مشتمل افراد کا نام ہے جو عوام کے مفاد کے بجائے اپنے ذاتی مفادات کے لیے سیاست کر رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وڈیرے پہلے گاؤں پر قابض تھے اب شہریوں پر بھی قبضہ مافیا آگئی ہے اور اس نظام کی تبدیلی کی ضرورت پر زور دیا۔
حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ بیوروکریٹ کو سکھایا جاتا تھا کہ تم قوم کے حاکم اور قوم خادم ہے اور یہ طرز فکر ملک کی ترقی کے لیے نقصان دہ ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے نظام کی مکمل تبدیلی کے عزم کو دوبارہ اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ مکمل نظام کی تبدیلی کی تحریک کو آگے بڑھانے اور جدوجہد کو مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ملک میں انصاف، ترقی اور فلاح کا نظام قائم کیا جا سکے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کسانوں کی حالت زار پر بات کرتے ہوئے کہا کہ 97 فیصد کسانوں کی زمینیں چھوٹی ہیں اور 3 فیصد لوگ ان کا استحصال کرتے ہیں، جبکہ خواتین کے حقوق کے بارے میں کہا کہ خواتین ٹھیکیداری نظام کے تحت کام کرتی ہیں اور ان کو کوئی حقوق دینے والا نہیں ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں 44 فیصد لوگ خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور اس پر قابو پانے کے لیے عوامی نظام میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔
حافظ نعیم الرحمن نے سیاسی جماعتوں کی صورتحال پر بھی تبصرہ کیا اور کہا کہ مسٹر اور مولانا دونوں وصیت اور وراثت پر چل رہے ہیں اور ایک پرچی کے نام پر پارٹی کے چیئرمین بن جاتے ہیں۔
آخر میں انہوں نے نوجوانوں کے لیے تعلیم کے راستوں کی بندش کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کے لیے تعلیم کے راستے مسدود کیے جا رہے ہیں اور اس کی روک تھام کے لیے نظام میں تبدیلی کی ضرورت پر زور دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمن نے کرتے ہوئے کہا کہ کی ضرورت انہوں نے ہیں اور اور اس کے لیے ملک کی ہے اور
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔