27ویں آئینی ترمیم آئین اور جمہوریت پر شب خون، جماعت اسلامی نظام کی تبدیلی کے لیے تیار ہے، حافظ نعیم
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی:امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا oyکہ 27ویں آئینی ترمیم آئین اور جمہوریت پر شب خون ہے اور جماعت اسلامی اسے مکمل طور پر مسترد کرتی ہے، خود کو جمہوری کہنے والی پارٹیوں کا رویہ غیر جمہوری ہے اور پیپلز پارٹی اسٹیبلشمنٹ کی اے پلس ٹیم بن چکی ہے۔
کراچی پریس کلب میں میٹ دی پریس سے خطاب کرتے ہوئے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم سے وہ قوتیں جو آئین اور جمہوریت کو یرغمال بناتی ہیں سب کے سامنے عیاں ہو گئی ہیں، فیلڈ مارشل اور صدر کے عہدوں کا استشنیٰ درست نہیں اور آئین کے مطابق حقیقی احتساب کے لیے عوام اور عدالتیں ذمہ دار ہیں۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے کہا کہ 27ویں ترمیم کے ذریعے حکومت اکثریت میں اور عدلیہ اقلیت میں آ گئی ہے، جس سے ججز کے تبادلے حکومت کی مرضی سے ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف سے کہا کہ حکمران عوام کے مینڈیٹ کو نظرانداز نہ کریں، ورنہ خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے بلدیاتی نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی کو عوام نے مینڈیٹ دیا، مگر جیتی ہوئی سیٹیں اور ٹاؤنز چھینے گئے۔ پیپلز پارٹی کراچی سے کشمیر تک خریدو فروخت میں مصروف ہے اور لوکل باڈیز کو اختیارات و وسائل منتقل نہیں کیے جاتے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی کسی بھی سیاسی پارٹی سے اتحاد نہیں کرے گی اور اس کا اتحاد صرف عوام کے ساتھ ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کی تعلیم کے لیے فری آئی ٹی پروگرام کے تحت 12 لاکھ نوجوانوں کو رجسٹرڈ کرنے کا بھی ذکر کیا۔
پاک افغان تعلقات پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بامعنی مذاکرات ہی مسئلے کا حل ہیں اور افغانستان میں دہشت گردی کے لیے زمین استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ کشمیر اور فلسطین کے معاملات پر حکومت کی غیر مؤثر کارروائی پر بھی تنقید کی۔
انہوں نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم طاقت کا ارتکاز عدلیہ سے نکال کر شخصیات پر منتقل کرتی ہے اور یہ غیر آئینی ہے۔ جماعت اسلامی لاہور مینار پاکستان میں 21 تا 23 نومبر کو اجتماع عام رکھے گی جس کا سلوگن “بدل دو نظام” ہے۔
اس موقع پر جماعت اسلامی کے سندھ اور کراچی کے اعلیٰ عہدیدار، ارکان اسمبلی اور صحافی بھی موجود تھے اور اجلاس میں بھرپور شرکت کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی 27ویں آئینی حافظ نعیم نے کہا کہ انہوں نے ہے اور کے لیے
پڑھیں:
نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔
سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔
اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں