data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی:امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا  oyکہ 27ویں آئینی ترمیم آئین اور جمہوریت پر شب خون ہے اور جماعت اسلامی اسے مکمل طور پر مسترد کرتی ہے،  خود کو جمہوری کہنے والی پارٹیوں کا رویہ غیر جمہوری ہے اور پیپلز پارٹی اسٹیبلشمنٹ کی اے پلس ٹیم  بن چکی ہے۔

کراچی پریس کلب میں  میٹ دی پریس  سے خطاب کرتے ہوئے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم سے وہ قوتیں جو آئین اور جمہوریت کو یرغمال بناتی ہیں سب کے سامنے عیاں ہو گئی ہیں،  فیلڈ مارشل اور صدر کے عہدوں کا استشنیٰ درست نہیں اور آئین کے مطابق حقیقی احتساب کے لیے عوام اور عدالتیں ذمہ دار ہیں۔

امیر جماعت اسلامی پاکستان  نے کہا کہ 27ویں ترمیم کے ذریعے حکومت اکثریت میں اور عدلیہ اقلیت میں آ گئی ہے، جس سے ججز کے تبادلے حکومت کی مرضی سے ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف سے کہا کہ حکمران عوام کے مینڈیٹ کو نظرانداز نہ کریں، ورنہ خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے بلدیاتی نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی کو عوام نے مینڈیٹ دیا، مگر جیتی ہوئی سیٹیں اور ٹاؤنز چھینے گئے۔ پیپلز پارٹی کراچی سے کشمیر تک خریدو فروخت میں مصروف ہے اور لوکل باڈیز کو اختیارات و وسائل منتقل نہیں کیے جاتے۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی کسی بھی سیاسی پارٹی سے اتحاد نہیں کرے گی اور اس کا اتحاد صرف عوام کے ساتھ ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کی تعلیم کے لیے فری آئی ٹی پروگرام کے تحت 12 لاکھ نوجوانوں کو رجسٹرڈ کرنے کا بھی ذکر کیا۔

پاک افغان تعلقات پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بامعنی مذاکرات ہی مسئلے کا حل ہیں اور افغانستان میں دہشت گردی کے لیے زمین استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ کشمیر اور فلسطین کے معاملات پر حکومت کی غیر مؤثر کارروائی پر بھی تنقید کی۔

انہوں نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم طاقت کا ارتکاز عدلیہ سے نکال کر شخصیات پر منتقل کرتی ہے اور یہ غیر آئینی ہے۔ جماعت اسلامی لاہور مینار پاکستان میں 21 تا 23 نومبر کو اجتماع عام رکھے گی جس کا سلوگن “بدل دو نظام” ہے۔

اس موقع پر جماعت اسلامی کے سندھ اور کراچی کے اعلیٰ عہدیدار، ارکان اسمبلی اور صحافی بھی موجود تھے اور اجلاس میں بھرپور شرکت کی۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی 27ویں آئینی حافظ نعیم نے کہا کہ انہوں نے ہے اور کے لیے

پڑھیں:

سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد:

عدالت عظمیٰ نے بڑا فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں ہے۔

سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت سنے گی ۔ نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اختیار سماعت ہی نہیں ہے۔

فیصلے میں قرار دیا گیا کہ نیب کے کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھے جائیں گے۔

واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اور رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کی تھی۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن