امریکی ویزا اور گرین کارڈ کے قواعد مزید سخت کردیے گئے
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
امریکی محکمۂ خارجہ نے نئی ہدایات جاری کی ہیں جن کے مطابق ایسے غیر ملکی شہری جنہیں بعض مزمن امراض لاحق ہیں، مثلاً ذیابیطس یا موٹاپا کو امریکی ویزا یا مستقل رہائش (گرین کارڈ) سے محروم کیا جا سکتا ہے۔ یہ ہدایات ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے جاری کی گئیں اور انہیں دنیا بھر میں امریکی سفارت خانوں اور قونصل خانوں کو بھیج دیا گیا ہے۔
ویزا انکار کی نئی وجوہاتمحکمۂ خارجہ کی نئی گائیڈ لائنز کے مطابق، ویزا افسران اب درخواست گزاروں کی دل، سانس، اعصابی، ذہنی صحت اور میٹابولک بیماریوں (جیسے ذیابیطس) کو بھی ویزا نہ دینے کی ممکنہ وجوہات میں شمار کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے امریکی ویزے کے خواہشمندوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کی چھان بین کا فیصلہ
ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی درخواست گزار کو ایسی بیماری لاحق ہے جس کے علاج پر زیادہ خرچ آتا ہے اور وہ مستقبل میں حکومتی مالی مدد کا محتاج ہو سکتا ہے، تو اس بنیاد پر ویزا مسترد کیا جا سکتا ہے۔
افسران کو یہ بھی دیکھنے کی ہدایت دی گئی ہے کہ آیا درخواست گزار اپنے طبی اخراجات خود برداشت کر سکتا ہے یا نہیں۔
خاندان کی صحت بھی زیرِ غوریہ ہدایات درخواست گزار کے اہلِ خانہ تک پھیلا دی گئی ہیں۔ ویزا افسران سے کہا گیا ہے کہ اگر انحصار کرنے والے افراد میں کوئی مزمن بیماری یا معذوری ہے جو درخواست گزار کی کارکردگی یا مالی خود کفالت پر اثر ڈال سکتی ہے، تو اسے بھی مدِنظر رکھا جائے۔
طویل پالیسی سے انحرافروایتی طور پر، امریکی ویزا درخواستوں میں صرف متعدی امراض، ویکسینیشن اور ذہنی صحت کے مخصوص پہلوؤں کو جانچا جاتا تھا۔
نئے قواعد کے تحت غیر متعدی مگر طویل المعیاد بیماریوں کو بھی اہمیت دی گئی ہے، جس سے غیر طبی تربیت یافتہ ویزا افسران کو زیادہ صوابدیدی اختیار مل جائے گا اور خدشہ ہے کہ یہ فیصلے ذاتی یا ثقافتی تعصب کی بنیاد پر بھی کیے جا سکتے ہیں۔
قانونی اور اخلاقی خدشاتامیگریشن ماہرین اور عوامی صحت کے ماہرین نے اس پالیسی پر شدید تنقید کی ہے۔ چارلس وہیلر، سینئر اٹارنی کیٿولک لیگل امیگریشن نیٹ ورک کے، نے کہا کہ یہ پالیسی غیر سائنسی اندازوں اور تعصبات پر مبنی فیصلوں کو فروغ دے سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے مستقل رہائش کو فروغ دینے کے لیے امریکا نے نیا ویزا متعارف کرا دیا
جبکہ جارج ٹاؤن یونیورسٹی کی پروفیسر صوفیہ جینویس نے اسے تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے دنیا بھر میں کروڑوں افراد متاثر ہو سکتے ہیں جو عام مگر دائمی بیماریوں میں مبتلا ہیں اور یہ اقدام اخلاقی و انسانی حقوق کے سنگین سوالات کو جنم دیتا ہے۔
طبی معائنہ بدستور لازمیامریکی ویزا کے لیے درخواست گزاروں کو اب بھی سفارت خانے کے منظور شدہ معالج سے طبی معائنہ کرانا ہوگا، جس میں متعدی امراض، ذہنی صحت، منشیات کے استعمال اور ویکسینیشن کی جانچ شامل ہے۔
تاہم نئی ہدایات کے تحت اب مزمن بیماریوں اور ان کے طویل مدتی علاج کے مالی بوجھ کو بھی فیصلے کا اہم حصہ بنایا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اگرین کارڈ امریکی ویزا امریکی ویزا اور گرین کارڈ کے قواعد.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اگرین کارڈ امریکی ویزا امریکی ویزا اور گرین کارڈ کے قواعد درخواست گزار امریکی ویزا سکتا ہے گیا ہے کو بھی
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔