اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن) ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے خلاف کارروائی کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔ جعلی پاکستانی شناختی کارڈ حاصل کرنے والے افغان شہری اب نادرا کے ریڈار پر آگئے۔

نجی ٹی وی سماء کے مطابق نادرا کے خصوصی سافٹ ویئر کی مدد سے مشکوک شناختی کارڈز کی نشاندہی کی گئی، جس سے انکشاف ہوا کہ ڈھائی لاکھ سے زائد افراد نے جعلی پاکستانی شناختی کارڈ بنوا رکھے ہیں۔سافٹ ویئر نے فیملی ٹری کے تجزیے سے مشکوک ریکارڈز کی نشاندہی کی، جس میں زیادہ تر افراد کا تعلق افغانستان سے نکلا۔

ملتانی مٹی کی نہیں ممدانی کی کہانی، لیڈر اُجلا ہو اور عوام پیچھے ہوں تو ہر دیوار گر جاتی ہے۔۔۔ ستمبر ستمگر ہوا کرتا تھا، ہم نے نومبر میں میدان سجا لیا

ذرائع کے مطابق پشین، چمن اور کوئٹہ کے رہائشیوں کی فیملی ٹریز میں افغان باشندوں کو شامل کیا گیا، جبکہ ایجنٹوں نے بھاری رقوم لے کر غیر ملکیوں کے لیے پاکستانی شناختی کارڈ بنوائے۔

نادرا حکام کے مطابق جعلی شناختی کارڈ رکھنے والوں کے کارڈ خودکار نظام کے تحت بلاک ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ بلاک شدہ کارڈ کے حامل افراد کو نادرا دفاتر میں جا کر اپنی تصدیق کرانے کی ہدایت کی گئی ہے، اور مقررہ مدت میں تصدیق نہ کرانے کی صورت میں ان کے شناختی کارڈ مستقل طور پر منسوخ کر دیے جائیں گے۔

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: پاکستانی شناختی کارڈ

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • مزہ کرکرا: اے آئی سے بنے جعلی جانوروں نے اصلی ویڈیوز بھی مشکوک بنادیں
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف